ہوم / امریکا سے / عالمی معیشت پر طاری مندی عنقریب امریکہ کو بھی زد میں لے سکتی ہے

عالمی معیشت پر طاری مندی عنقریب امریکہ کو بھی زد میں لے سکتی ہے

نیویارک :کیپیٹل اکنامکس کے ایک ماہر نے لکھا ہے کہ "امریکی معیشت عالمی سمندر میں اب بھی بڑے سکون سے تیرتی دکھائی دیتی ہے لیکن باقی ممالک کی معیشت کسی پتھر کی طرح ڈوبتی چلی جارہی ہے۔مگر آخر کب تک؟ جان ڈون کا لکھا ہوا ایک مشہور جملہ یاد آ رہا ہے کہ کوئی بھی آدمی جزیرہ نہیں ہوتا، لیکن امریکہ سست روی کا شکار عالمی معیشتوں میں کسی بھی اور جگہ سے پہلے زیادہ گھرا ہوا دکھائی دینے لگا ہے۔ یہ فرق جو 2018ء میں واضح ہونا شروع ہوا تھا اس سال اور بھی نمایاں ہوتا جا رہا ہے۔ یورو زون سے اوشنیا تک مجموعی ملکی پیداوار کے تخمینے اس ہفتے مسلسل نیچے ہی نیچے گرتے چلے گئے جس سے سود کی عالمی شرح بھی کم ہو گئی۔ سٹاکس اور کارپوریٹ بانڈز جیسے خطروں میں گھرے اثاثوں کی قیمتوں میں اضافے کا سبب بننے سے زیادہ قرضوں کی شرح سود میں پسپائی کو بے صبری سے دوچار عالمی ترقی کے لیے ایک تنبیہہ سمجھنا چاہیے۔ جیسا کہ پچھلے ہفتے 9 کھرب امریکی ڈالرز کے عالمی قرضوں کی ضمانتیں منفی رجحانات کا اظہار کر رہی تھیں۔ ڈیوشے بنک کے جاری کردہ بلومبرگ ڈیٹا کے مطابق یہ شرح پچھلے سال کے اختتام پر موجودہ شرح سے دوگنا تھی۔ یورپین بینچ مارک جرمن بانڈ کا انڈیکس گزشتہ اکتوبر میں 50 بیسز پوائنٹس پر تھا جواب کم ہوکر 9 بیسز پوائنٹس پر آگیا ہے۔ جاپانی حکومت کے جاری دس سالہ بانڈ کی ویلیو میں بھی پچھلے ہفتے صفر سے بھی نیچے 2 بیسز پوائنٹس کی کمی کا مشاہدہ کیا گیا۔بیرون ملک جاری مندی کے رجحان کو مدنظر رکھتے ہوئے یورپی کمیشن نے 2019ء کے جی ڈی پی میں ترقی کے تخمینوں میں تقریباً ایک تہائی یعنی 1.9 سے 1.3 فیصد کمی کردی ہے۔ اٹلی پہلے ہی ابتری سے دوچار ہے جبکہ جرمنی کی معاشی ترقی بھی سست روی کا شکار چینی معیشت کی وجہ سے ڈانواں ڈول ہو چکی ہے۔ اس کے علاوہ آسٹریلیا کے مرکزی بینک نے اپنی ترقی کے تخمینوں کو کم کردیا ہے جبکہ بھارت کے مرکزی بینک ایک حیران کن حرکت کرتے ہوئے سود کے نرخوں کو کم کردیا ہے۔ اس تباہ کن عالمی صورتحال کے بیچوں بیچ امریکی خزانے کی دس سالہ ترقی میں 13 ماہ کے دوران 2.63 فیصد کمی آئی جبکہ قلیل مدتی قرضوں پر سود کی شرح کم ہو گئی جس کی وجہ سے وفاقی ریزرو بینک کے حصص میں 25 بیسز پوائنٹس کا اضافہ ہوا۔ اس کے علاوہ امریکی سٹاک مارکیٹ کے پیمانے گزشتہ سات ہفتوں کے دوران تیزی کا رجحان دکھا رہے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے