ہوم / آج کے کالم / لامتناہی لالچ پاکستانی میڈیا کو بالآخر سکروٹنی کے کلہاڑے کے نیچے لے آیا

لامتناہی لالچ پاکستانی میڈیا کو بالآخر سکروٹنی کے کلہاڑے کے نیچے لے آیا

کالم نگار: شاہین صباحی

اکیسویں صدی کے آغاز سے ہی پاکستانی میڈیا خاص طور پر ٹی وی چینلز کے مالکان کو غیر معمولی طاقت کے ساتھ دولت کے انبار اور فقید المثال بدنامیاں سمیٹتے دیکھا گیا۔ طاقتور میڈیا نے زیادہ تر معاملات میں پیشہ ورانہ اخلاقیات کے بنیادی اصولوں کو پامال کرتے ہوئے ناجائز دولت اور مراعات سمیٹنے کا سلسلہ جاری رکھا۔ بعض میڈیا ہاو¿سز نے تو یہ سمجھنا اور سرعام دعوے کرنا معمول بنا لیا تھا کہ وہ بادشاہ گر ہیں اور کسی بھی حکومت کو بنانا اور گرانا گویا ان کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔
اب یہ سلسلہ مزید آگے نہیں چل سکتا۔ 2018ئ کے عام انتخابات میں میڈیا کا اچھا یا برا کردار اپنے عروج پر تھا۔ صاحب اقتدار سیاستدانوں اور چند بڑی بڑی کاروباری شخصیات پر مشتمل کرپٹ مافیا نے بڑے پیمانے پر سرکاری زمینوں پر قبضے جما رکھے تھے، تعمیراتی ٹھیکوں، مراعات اور ناجائز کمیشن کی شکل میں بھی ملکی وسائل کو لوٹا جا رہا تھا۔ اس کرپٹ مافیا نے اپنے آپ کو قانون اور کسی بھی ممکنہ احتساب سے بچانے کے لئے اربوں روپے میڈیا پر نچھاور کر دیئے لیکن ان کے تمام اندازے غلط ثابت ہوئے۔ کسی کو بھی یہ گمان تک نہیں تھا کہ احتساب کا وقت اتنا جلدی آن ٹپکے گا۔
پاکستان کے لوگوں نے نئی قیادت کا انتخاب کر کے ملک کو بدعنوان سیاستدانوں اور مفاد پرست کاروباری لوگوں کے آہنی شکنجوں سے آزاد کر دیا۔سب سے اہم پیش رفت یہ ہوئی کہ ملک کے ادارے اپنا بنیادی کردار ادا کرنے کے لیے مضبوطی سے اٹھ کھڑے ہوئے۔ پاک فوج اور عدلیہ نے مایوس شہریوں کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر انتہائی کرپٹ اور بدعنوان سٹیٹس کو للکارنے کا فیصلہ کر لیا۔ اس اتحاد کے نتیجے میں پاکستان تحریک انصاف پہلی بار اقتدار میں آ چکی ہے۔ اب تباہ کن کرپشن کی حیران کن تفصیلات سامنے آ رہی ہیں کہ مقتدر سیاستدانوں، کاروباری شخصیات اور میڈیا مالکان نے کس طرح اربوں روپے کی لوٹ مار مچا رکھی تھی۔ چونکہ عمران خان کی پارٹی اس لوٹ مار کا حصہ نہیں تھی اس لیے اسے یہ تفصیلات جاری کرنے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں ہوئی۔ صرف حکومت کی طرف سے میڈیا کو ملنے والے اشتہارات کے معاوضے کی مد میں 50 ارب روپے سالانہ ادا کیے جا رہے تھے۔بڑے کاروباری اداروں نے تو چینلز کی سکرینیں اور ان کے پیچھے چھپے نام نہاد اہم لوگوں کو بھی خرید رکھا تھا۔ پورے میڈیا میں بہت بڑی لوٹ سیل لگی ہوئی تھی۔ اگر یہ حقائق سوشل میڈیا کے ذریعے بے نقاب نہ ہوتے تو شاید ہمیشہ روپوش ہی رہتے۔
سب سے پہلے الیکٹرانک میڈیا کی بات کرتے ہیں۔ کرپٹ سیاستدانوں کی پشت پناہی کے بدلے 36 ٹی وی نیوز چینلز سرکاری اشتہارات سے فیضیاب ہورہے تھے۔ سیکرٹری اطلاعات کی طرف سے جاری کردہ ان چینلز کی مکمل فہرست سوشل میڈیا پر دستیاب ہے۔ جیو نیوز کے ریٹس سب سے زیادہ یعنی 2 لاکھ 90 ہزار 500 روپے فی منٹ تھے جبکہ دنیا نیوز 2 لاکھ 45 ہزار روپے فی منٹ کے ساتھ دوسرے نمبر پر تھا۔ 2 لاکھ 45 ہزار فی منٹ وصول کرنے والے 7 چینلز میں اب تک، اے آر وائی، ایکسپریس، روز نیوز، سمائ نیوز، 92 نیوز اور ہم نیوز شامل ہیں۔ نیوز ون کو دو لاکھ چالیس ہزار روپے فی منٹ ملتے تھے جبکہ 2 لاکھ سے سوا دو لاکھ روپے فی منٹ وصول کرنے والوں میں سیون نیوز، لاہور نیوز، سندھ ٹی وی، نیو ٹی وی، کے ٹی این نیوز، خیبر نیوز، کے 21، ڈان نیوز دن نیوز، سٹی42، کیپیٹل ٹی وی اور اپنا ٹی وی شامل ہیں۔وسیب ٹی وی (190)، بزنس پلس (182)، آج نیوز، چینل 24، چینل 5، وی ایس ایچ اور رائل نیوز (175)، سچ ٹی وی (147)، کے ٹو (140)، سٹار ایشیا (130)، جی این این (122) ہزار روپے فی منٹ وصول کرتے تھے۔ سب سے کم نرخ ایک لاکھ پانچ ہزار روپے فی منٹ تھے جو پنجاب ٹی وی اور مشرق ٹی وی کو دیئے جارہے تھے۔ پبلک ٹی وی کے نرخوں کا تعین ابھی باقی تھا۔ ان ہوشربا نرخوں کے پیچھے بہت بڑی کہانیاں پوشیدہ ہیں کہ میڈیا ہاو¿سز کے مالکان نے سیاسی اثرورسوخ سے کس کس طرح فائدہ اٹھایا۔ ان میں سے بعض چینلز کے نام آپ کے لیے بھی اجنبی ہوں گے مثلاً VSH، سٹار ایشیا، K-2 یا K-21 جیسے چینلز اکثر لوگوں نے شاید ہی سنے ہوں گے۔ یہ بات اس سے بھی زیادہ عجیب سنائی دیتی ہے کہ VSH جیسے گمنام چینل کے نرخ آج ٹی وی کے برابر تھے۔ چینل 24، اور K-21 کا شمار بھی ڈان نیوز اور KTN کی بریکٹ میں کیا جاتا تھا- نئے چینلز میں ہم نیوز کو 245 ہزار فی منٹ کے ریٹ ملنا اچنبے کی بات تھی جبکہ GNN کو 122.5 ہزار کی کیٹیگری میں شامل کرلیا گیا-
نئی حکومت نے تمام چینلز کو درخشاں حقائق کا آئینہ دکھا کر 65 سے 98 فیصد کٹوتی کے ساتھ چینلز کے نرخوں کی نئی فہرست جاری کر دی ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے بتایا کہ نرخوں میں یہ کٹوتی انتہائی ضروری تھی اور اس کا اطلاق کیا جا رہا ہے۔
نئے نرخوں کے اطلاق کے بعد بعض چینلز کے مالکان کو ہارٹ اٹیک کا خطرہ لاحق ہو چکا ہے۔مثال کے طور پر روز نیوز کے فی منٹ نرخ دو لاکھ 45 ہزار روپے سے کم کرکے 5000 جبکہ سٹار ایشیا کے ریٹس ایک لاکھ 30 ہزار روپے سے کم کرکے 3000 روپے فی منٹ کر دیے گئے ہیں۔ بعض دوسرے چینلز جن کے نرخ اوقات کے مطابق کم کیے جا چکے ہیں احتجاج کے طور پر حکومت کے خلاف بلند بانگ پروپیگنڈہ کررہے ہیں۔ نئے نرخوں کے مطابق جیونیوز کو 89 ہزار، دنیا نیوز کو 75 ، ARY کو 91 ، سمائ نیوز کو 85، اب تک کو 35، کیپیٹل ٹی وی کو 25، ڈان نیوز کو 55، 92 نیوز اور ہم نیوز کو 45، سیون نیوز کو 12، GNN کو 22 اور ایکسپریس نیوز کو 65 ہزار روپے فی منٹ ملاکریں گے۔ 36 میں سے 21 چینلز کے لیے 25 ہزار یا اس سے بھی کم ریٹس کا تعین کیا جا چکا ہے۔ ان میں سے گیارہ کے ریٹس دو لاکھ سے بھی زیادہ تھے۔ غیر معروف اور گمنام چینلز کو بڑے چینلز کی لیگ میں کیوں شامل کیا گیا تھا؟ اس سوال کا جواب جاننے کے لیے ہمیں ان چینلز کے مالکان کے ناموں، ان کی سیاسی وابستگیوں اور غیرسیاسی آقاو¿ں کا بغور جائزہ لینا ہوگا۔ بعض کو بڑے نرخ کک بیکس اور کٹوتیوں کی شکل میں مل رہے تھے۔
اس کہانی کو پڑھنے والے ایک متوسط قاری کے لیے یہ جاننا ہی کافی ہے کہ ایک گھنٹے کے ٹاک شو کے لیے اگر حکومت 2لاکھ روپے فی منٹ کے حساب سے 10 منٹ اشتہار چلاتی تھی تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ بیس لاکھ روپے میڈیا ہاو¿س کو ادا کیے جاتے تھے۔ اگر چوٹی کے دس چینلوں میں سے ہر ایک پر معروف اینکرز کے تین ٹاک شوز سپانسر کیے جاتے تھے تو تمام چینلز پر 30 پروگرام روزانہ سپانسر ہوتے تھے۔ حکومت اگر ہر شو کو 20 لاکھ روپے ادا کرتی تھی تو تمام چینلز کو 6 کروڑ روپے روزانہ ادا کیے جا رہے تھے۔ سرسری نوعیت کے تخمینے سے ظاہر ہے کہ حکومت کی طرف سے میڈیا کو ہرسال 25 سے 30 ارب روپے ملنا معمول کی بات تھی لیکن پچھلے چند سالوں میں یہ رقوم آسمان تک جا پہنچی تھیں۔ اتنی خطیر رقم بند ہوجانے کے بعد چینلز کا حالیہ واویلا بلاجواز نہیں ہے۔پاکستان براڈکاسٹنگ ایسوسی ایشن پر بڑے میڈیا ہاو¿سز کی اجارہ داری ہے چنانچہ PBA نے فوری طور پر باہر نکل کر ایسے شور مچانا شروع کردیا جیسے ان کی اجتماعی ماں کا انتقال ہو گیا ہو۔ بڑے چینلز کی اجارہ داری اپنی جگہ لیکن بہت سے غیر معروف چینلز بھی سیاسی وابستگیوں کی بنیاد پر بہتی گنگا سے ہاتھ دھوتے رہے ہیں۔سوچنے کی بات ہے کہ روز ٹی وی جیسا غیرمعروف چینل کو 245 ہزار کے نرخ کیسے مل رہے تھے جبکہ ڈان نیوز کو 210 ہزار دیئے جارہے تھے۔ رائیل نیوزاور VSH کو 175 جبکہ وسیب کو 190 ہزار فی منٹ دیئے جا رہے تھے جو آج ٹی وی کے برابر یا اس سے بھی زیادہ تھے۔ اصل میں یہ اعدادوشمار چینلز کے ناظرین کی تعداد سے PBA کی سیاست کی مرہون منت تھی۔چینلز کی درجہ بندی کا عمل ازخود ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ سرکاری اشتہارات کی بندش کے بعد تمام چینلز حکومت کے خلاف برسرپیکار نظر آتے ہیں۔حکومت نے فوری رد عمل کے طور پر ان چینلز کو مذاکرات کی دعوت دی کیونکہ یہ زخمی بھیڑیئے مڑمڑ کر حملہ آور ہو رہے ہیں اور پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔
اب یہ روش زیادہ دیر تک برقرار نہیں رہ سکتی کیونکہ اعلیٰ عدالتیں میدان میں آ چکی ہیں اور ان چینلز کو اپنی آمدن، اثاثے، اداشدہ ٹیکسز اور اخراجات کے گوشوارے جمع کرانے کا مطالبہ کررہی ہیں۔عدالتوں کو یہ اقدام اس لیے کرنا پڑا کیونکہ حکومت کو بلیک میل کرنے کی حکمت عملی کے تحت میڈیا ہاو¿سز نے اپنے ملازمین کو تنخواہیں ادا کرنے سے انکار کردیا تھا۔حکومت پر دباو¿ ڈالنے کے لیے ملازمین کو پیادوں کے طور پر استعمال کیا جا رہا تھا۔انہوں نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا اور چیف جسٹس ثاقب نثار نے ان کی شکایات سنیں۔جب جیو اور دوسرے بڑے میڈیا ہاو¿سز کو اپنے ٹیکس ریٹرنز اور اثاثوں کے گوشوارے جمع کرانے کو کہا گیا تو ان کے سروں پر گویا پہاڑ ٹوٹ پڑے۔ دباو¿ کی ایک اور حکمت عملی کے طور پر جیو نے ایک لاکھ روپے سے زیادہ تنخواہ لینے والے اپنے تمام ملازمین کی تنخواہوں میں 20 فیصد کمی کا اعلان کردیا حالانکہ جیو اپنے اثاثوں کے ایک محتاط تخمینے کے مطابق اپنے تمام ملازمین کو موجودہ تنخواہوں سے بھی دگنی تنخواہیں کئی سالوں تک جاری رکھنے کی استعداد رکھتا ہے۔اسی طرح عدالت نے تمام چینلز کے مالکان سے ان کی سرمایہ کاری کے متعلق پوچھا کہ انہوں نے ٹی وی چینلز کیوں قائم کیے تھے۔ عدالت اپنے طور پر اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ زیادہ تر مالکان نے اپنی سیاہ دولت کو محفوظ رکھنے کے لیے چینلز بنائے ہیں۔میڈیا کے ایک کارکن کی حیثیت سے میں بھی یہ بات اچھی طرح جانتا ہوں کہ کس طرح بعض گروپس ٹی وی کے کاروبار میں کودے ہیں۔اکثر مالکان کے نزدیک ٹی وی چینل ان کی جائز اور ناجائز دولت کا تحفظ کرنے کا سب سے آسان اور موثر ذریعہ ہونے کے ساتھ ساتھ سیاسی اثرورسوخ میں اضافے راستہ بھی ہے۔اسی مقصد کے تحت بحریہ ٹاو¿ن کے مالک ملک ریاض نے کسی چینل کا مالک بننے کی ہر ممکن کوشش کی۔آصف علی زرداری کے ایک قریبی دوست نے جو FIA میں کام کے دوران سونے کی ایک کان کا مالک بن چکا تھا کیپیٹل ٹی وی کا آغاز کیا۔ ہر اخباری گروپ نے اپنا چینل بنا رکھا ہے۔ دنیا نیوز کے مالکان نے میاں عامر کی میئر شپ کے دور میں تعلیم کے شعبے میں کمائی کرکے خوب پیسہ کمایا۔ لاکھانی گروپ نے تمباکو بیچ بیچ کر اربوں کمائے اور جنگ گروپ کے میر شکیل الرحمان کا مقابلہ کرنے کے لیے ایکسپریس قائم کیا۔بول ٹی وی کی دولت کے ذرائع آج بھی زیرتفتیش ہیں۔ گورمے بیکری کے مالکان اس گورکھ دھندے میں کیوں کود پڑے یہ جاننا ابھی باقی ہے۔بہت سے چینلز ایسے بھی ہیں جن کے مالکان کے ناموں کا ہمیں آج تک پتہ نہیں چل سکا مثلاً سچ ٹی وی، نیو ٹی وی، VSH، سیون نیوز، سٹار ایشیا، مشرق ٹی وی، K-2، K-21 ، اپنا ٹی وی، پنجاب ٹی وی، روز نیوز، اب تک ٹی وی وغیرہ۔ PBA کے ایک ممبر نے بھی فراخدلی سے اعتراف کیا ہے کہ اسے VSH اور K-21 جیسے کئی چینلز کے مالکان کا علم نہیں ہے۔ بعض ارب پتی گروپ صرف سیاسی اثرورسوخ اور مفادات کے لالچ میں ہی میڈیا میں آئے ہیں۔ بعض مالکان جن کو میں جانتا ہوں پرائم منسٹر یا پریزیڈنٹ ہاو¿س سے آنے والی کال پر ہی ضرورت سے زیادہ خوش دکھائی دینے لگتے ہیں۔ اگر ان کو کسی وجہ سے نظر انداز کردیا گیا ہو تو ان کے اینکرز کے لہجے اگلی کال کے آنے تک انتہائی تلخ اور تیکھے ہو جاتے ہیں۔ ان تمام کاروباری شخصیات اور بہت سے دوسرے لوگ نے میڈیا میں سرمایہ کاری کا بھرپور لطف اٹھایا ہے اور حد سے زیادہ مالی فوائد حاصل کیے ہیں۔ لیکن اب وہ اچھے دن ختم ہوتے جارہے ہیں۔ جب تک عمران خان کی حکومت برقرار ہے ان کی واپسی کا کوئی امکان نہیں ہے۔ وزیراعظم اپنی یہ روش کب تک برقرار رکھیں گے کیونکہ ان کو بھی بہرحال میڈیا کی ضرورت ہے۔ PBA کے شوروغل کے بعد حکومت نے اشتہارات کے ایک نئے فارمولے پر مذاکرات کا آغاز کردیا ہے۔بات چیت جاری ہے۔ بعض چینلز نے احتجاج کے طور پر سرکاری اشتہارات چلانے سے انکار کردیا ہے۔ وفاقی وزیر فواد چودھری کا کہنا ہے کہ چینلز کی نئی درجہ بندی کا کوئی فارمولا زیرغور نہیں ہے۔ کم کیے گئے نرخوں کو کسی صورت پرانی سطح پر نہیں لایا جائے گا۔ ان کے بقول نرخوں میں اوسطاً 70 فیصد کمی کی گئی ہے۔نئے فارمولے کے مطابق تمام چینلز کی تین کیٹیگریز میں درجہ بندی کی جائے گی۔ اے کیٹیگری میں آنے والے چینلز کو ایک لاکھ 40 ہزار روپے فی منٹ، بی کیٹیگری میں آنے والے چینلز ایک لاکھ روپے فی منٹ اور سی کیٹیگری میں آنے والے چینلز کے لیے 50 ہزار روپے فی منٹ کے نرخ زیر غور ہیں۔ ابھی تک اس حوالے سے کوئی معاہدہ طے نہیں پاسکا کیونکہ میڈیا کے ٹائیکون اسے باآسانی قبول نہیں کریں گے۔ اگر ان قدرے بہتر نرخوں کو قبول کر لیا جائے تب بھی بہت سے چینلز اپنا وجود برقرار نہیں رکھ سکیں گے خاص طور پر وہ چینلز جن کے ناظرین کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے اور وہ نجی شعبے کے اشتہارات بھی حاصل نہیں کرسکتے۔ اس کے علاوہ ان اشتہارات کو جاری کرنے کا تمام تر اختیار حکومت کے پاس ہی ہوگا۔ سب سے اہم کام چینلز کی مانیٹرنگ کرکے نرخوں کا تعین کرنا ہے۔ ناظرین کی تعداد کا تعین کرنے کے لیے سروے کا ایک نیا نظام زیربحث ہے کیونکہ سابقہ نظام میں بڑے پیمانے پر تغیروتبدل کیا جاتا تھا۔ اگر نئے ریٹنگ سسٹم میں کوئی ہینکی پھینکی نہ کی گئی تو ہر چینل کی حقیقی قدر سامنے آجائے گی اور پاکستانی میڈیا ایک مستحکم اور باوثوق ادارہ بننے کے راستے پر گامزن ہو جائے گا۔یہ قومی خدمت صرف وہی حکومت سرانجام دے سکتی ہے جس کا دامن کرپشن سے داغ دار نہ ہو۔
ایک نئی ریگولیٹری اتھارٹی کے قیام کی بھی بات کی جارہی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ پیمرا اپنی موجودہ حالت اور وجود کو مزید برقرار نہیں رکھ سکتی۔ وفاقی کابینہ میڈیا کی اس نئی باڈی کے قیام کی منظوری دے چکی ہے جو صرف ٹیلی ویڑن چینلز کوہی نہیں بلکہ تمام میڈیا کو کنٹرول کرسکے گی۔ چنانچہ اخبارات، سوشل میڈیا اور ٹیلی ویڑن کو ایک ہی نظم وضبط کا پابند کیا جا سکے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے