ہوم / آج کے کالم / "پاکستان میں جاری سیاسی دھماچوکڑی”

"پاکستان میں جاری سیاسی دھماچوکڑی”

ازراہِ تفنن
کالم نگار: ابرارگیلانی
abrargilani007@gmail.com

2018ء کے عام انتخابات کے بعد ملک میں عجیب سیاسی دھما چوکڑی مچی ہوئی ہے۔پاکستان تحریک انصاف اگرچہ پنجاب اور وفاق میں اپنی حکومتیں قائم کرچکی ہے لیکن دونوں اسمبلیوں میں گالم گلوچ اور رسہ کشی کا ایک ختم نہ ہونے والا سلسلہ چل نکلا ہے۔ نواز شریف اور شہباز شریف نیب کی حراست میں ہونے کے باوجود ‘کلا بندری’ کا کھیل رہے ہیں۔میڈیا پر عجیب و غریب افواہوں کا سلسلہ جاری ہے۔حکومت کی طرف سے بار بار این آر او نہ دینے کی تڑی لگائی جا رہی ہے اور دوسری طرف اپوزیشن کے لوگ یہ ماننے کو بھی تیار نہیں کہ انہوں نے کسی این آر او کا مطالبہ کر رکھا ہے۔پچھلے دنوں نواز شریف کے دل میں اٹھنے والے "درد ڈسکو” کی وجہ سے انہیں سروسز ہسپتال لاہور میں داخل کیا گیا۔ ہسپتال میں عام مریضوں کیلئے گویا قیامت آ گئی تھی۔ہسپتال کا سارا عملہ سابق وزیراعظم کی خدمت پر مامور دکھائی دیتا تھا غریب مریض ڈاکٹروں کی بے اعتنائی اور بے رخی کا رونا رونے پر مجبور تھے۔نواز شریف کے طبی معائنے کے بعد میڈیکل بورڈ کی جاری کردہ ہدایات دیکھ کر حیرت ہوئی۔کہا گیا تھا کہ نواز شریف کو نگہداشت کے لئے ہمہ وقت ایک ہارٹ سپیشلسٹ کی ضرورت ہے۔ان کے علاوہ اور کونسا خوش نصیب قیدی ہو گا جس کے لیے ایسی شاندار طبی سہولتوں کا اہتمام کیا گیا ہو؟ اپوزیشن اس پر بھی خوش نہیں تھی مریم نواز نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ "میرے باپ کو کچھ ہوا تواس کے ذمہ دار عمران خان ہوں گے”۔اتنی سہولتوں کے باوجود یہ گلہ کیا گیا کہ نواز شریف کی صحت پر حکومت کا رویہ تضحیک آمیز ہے۔کسی نے کہا نواز شریف کو ذہنی تکلیف پہنچائی جا رہی ہے۔سابق وزیراعظم کے گردے میں پتھری کی نشاندہی پر شیخ رشید کو بیان بازی کا موقع ملا تو انہوں نے کہا کہ "نواز شریف کی سیاست قطری سے شروع ہو کر پتھری پر ختم ہو گئی ہے”۔ قومی اسمبلی میں حکومت کی طرف سے شہباز شریف کو پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا چیئرمین نامزد کرنے کے بعد صورتحال اور بھی گھمبیر ہو گئی ہے کہا جاتا ہے کہ شہباز شریف آئے دن نیب اہلکاروں کو طلب کر کے ان کی کھچائی کرتے رہتے ہیں۔ عمران خان کی کابینہ کے ملا دو پیازہ یعنی وزیر اطلاعات فواد حسین چودھری کا کہنا ہے کہ "پاکستان کا نظام عدل بھی عجیب ہے اس ملک میں 15 مرغیاں چرانے والا جیل میں سڑ رہا ہے جبکہ 1500 ارب روپے کی خوردبرد کا ذمہ دار پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا چیئرمین بنا بیٹھا ہے”۔ نارووال کے ارسطو احسن اقبال آئے دن عجیب و غریب تنقید کے تیر چلاتے رہتے ہیں کبھی کہتے ہیں "حکومت پاک چائنہ کوریڈور کو متنازع بنانے کی کوشش کر رہی ہے”۔کبھی کہتے ہیں کہ "عمران خان کو حکومت کا کوئی تجربہ نہیں اور پی ٹی آئی کی حکومت ناکام ہو چکی ہے”۔ اور کبھی سابقہ دور کے منصوبوں پر نئی حکومت کی طرف سے اپنے نام کی تختیاں لگانے کا گلا کرنے لگتے ہیں حالانکہ ان کے دور میں بھی یہ سرگرمی زور و شور سے جاری تھی۔
کتنی مضحکہ خیز بات ہے کہ آشیانہ سکینڈل میں گرفتار شہباز شریف کو پروڈکشن آرڈر کے ذریعے قومی اسمبلی کے اجلاس میں بلایا جاتا ہے جہاں وہ جی کھول کر حکومت کو گالیاں دیتے ہیں۔ قومی اسمبلی میں مولاجٹ کا کردار ادا کرنے والے شیخ رشید شہباز شریف کو پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی چیئرمین شپ سے محروم کرنا چاہتے ہیں۔ فیصل آباد کے نوری نت رانا ثناء اللّہ مولاجٹ کو یہ دھمکی دے رہے ہیں کہ اگر شہباز شریف سے پبلک اکاؤنٹ کمیٹی کی چیئرمین شپ چھینی گئی تو مولا جٹ بھی اسمبلی میں نہیں رہے گا۔ سکھر کے چچا چھکن نے یہ چیلنج کیا ہے کہ "کوئی شہباز شریف کو پی اے سی کے عہدے سے ہٹا کر تو دکھائے”۔ حکومتی ارکان سابقہ حکمرانوں پر کئی سو ارب کی میگا کرپشن کے الزامات لگاتے نہیں تھکتے دونوں شریف برادران کے گرفتار ہونے کے باوجود ابھی تک ان سے کچھ بھی برآمد نہیں کرایا جاسکا۔
ادھر سندھ میں جعلی اکاؤنٹس کا شور مچا تو کہا جانے لگا سندھ پر پیپلز پارٹی کی حکومت قائم نہیں رہ سکے گی اور سابق صدر آصف زرداری کو گرفتار کر لیا جائے گا۔ ابھی تک پیپلز پارٹی کی حکومت بھی قائم ہے اور آصف زرداری بھی کھلی فضا کے مزے لوٹ رہے ہیں۔ مولاجٹ، نوری نت، ارسطو اور چچا چھکن کی بیان بازیاں بھی جاری ہیں۔ حکومت کی طرف سے کوئی این آر او نہ دینے، شہباز شریف کو پی اے سی کی چیئرمین شپ سے ہٹانے اور لوٹی ہوئی دولت واپس لانے کے بلند بانگ دعوؤں کا سلسلہ جاری ہے۔ اپوزیشن کی طرف سے حکومت کو نااہل اور تجربہ کار ہونے کے طعنے دیئے جارہے ہیں۔ ان ہی طعنوں سے تنگ آکر حکومت نے اپنے سینیئر صوبائی وزیر علیم خان کو بھی قربانی کا بکرا بنانا پڑا ہے ۔ اس سے پہلے جہانگیر ترین اور اعظم سواتی کو بھی اسی بھینٹ چڑھایا جا چکا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ علیم خان کی گرفتاری شاہد خاقان عباسی اور آصف زرداری کی متوقع گرفتاریوں کو بیلنس کرنے کے لئے عمل میں لائی گئی ہے۔ شاہد خان خاقان عباسی گرفتاری کے ڈر سے ملک سے فرار ہو چکے ہیں۔ شہباز شریف کے صاحبزادے حمزہ شہباز بھی لندن میں چھپے بیٹھے ہیں۔زرداری کو پکڑنے کی تاحال کوئی کوشش نہیں کی گئی تاہم وہ بھی کچھ ڈرے ڈرے سے دکھائی دینے لگے ہیں۔ ملک کی موجودہ سیاسی حالات کو دیکھ کر سمجھ نہیں آتی کہ دل کھول کر ہنسا جائے یا کرتا اتار کر ماتم کیا جائے۔ ہمارا حکومت سے صرف ایک ہی مطالبہ ہے کہ اگر احتساب کرنا ہے تو پھر کسی قسم کی رعایت یا نخرہ برداری ہرگز نہ کی جائے ملزموں کے ساتھ ملزموں والا سلوک ہونا چاہیے۔ جس کسی نے بھی کرپشن کی ہے اس سے لوٹا ہوا مال واپس لینے کا اہتمام کرنا چاہیے اگر پاکستان کی لوٹی ہوئی دولت ہی واپس آجائے تو ملک کے معاشی حالات سنور جائیں گے۔ عمران خان کی سیاسی زندگی کا تمام تر دارومدار ایک بے رحم احتساب اور اعلیٰ کارکردگی میں مضمر ہے۔ آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا؟

Check Also

” پیٹ ہے یا کباڑخانہ” 54 سالہ شخص کے پیٹ سے 2 کلوگرام وزنی پتھر اور سکے برآمد

جنوبی کوریا: ڈاکٹروں نے ایک مریض کے معدے سے 2 کلوگرام وزنی پتھر، سکے اور …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے