army-and-special-operation-group-of-jk-personnel-2

بھارتی فوج کشمیریوں کو گاجر مولی کی طرح کاٹ رہی ہے: صدر آزاد کشمیر مسعود خان

واشنگٹنصدر آزاد جموں و کشمیر سردار محمد مسعود خان نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں قابض بھارتی افواج ہمارے نوجوانوں کو گاجر مولی کی طرح کاٹ رہے ہیں۔ وہ مجبور ہیں ، محصور ہیں اور بے بس ہیں۔ انسانیت کے ناطے ہمیں ان کی سیاسی ، اخلاقی ، اور سفارتی حمایت کرنی چاہیے ۔ ہندوستان بیرونی دنیا میں بے بنیاد پروپیگنڈہ کر رہا ہے کہ قتل کئے جانے والے نوجوان دہشتگرد ہیں۔ حالانکہ کشمیری مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی دہشتگردی کا شکار ہیں۔ وہاں نافذ کالے قوانین نے انہیں ہر لحاظ سے استثنیٰ دے رکھا ہے ۔ کشمیر میں جاری تحریک آزادی کا دہشتگردی سے کوئی تعلق نہیں ۔ حق خود ارادیت کا وعدہ کشمیریوں کے ساتھ اقوام عالم نے کیا تھا ۔ کشمیری قوم نے تمام تر ظلم و ستم برداشت کرنے کے باوجود بھارت کے ساتھ نہ رہنے کا عزم کر رکھا ہے ۔ 70 سال گزرنے کے باوجود آزادی کی خواہش کشمیریوں کی پانچویں نسل میں منتقل ہو چکی ہے ۔ تمام تر مشکلات اور رکاوٹوں کے باوجود اہل پاکستان اور اہل کشمیر نے مسئلہ کشمیر کو زندہ رکھا ہوا ہے ۔ یہ ہماری سب سے بڑی کامیابی ہے ۔ اب احتجاج ، مایوسی اور ناکامی کے بجائے کامیابی کی سیاست کریں۔ ہم سب کو مل کر پاکتان کو ناقابل تسخیر قوت بنانا ہے ۔ مضبوط پاکستان کشمیریوں کی آزادی کی ضمانت ہو گا ۔ مسئلہ کشمیر پر پاکستان اور آزاد کشمیر کے عوام کا ایک موقف ہونا چاہیے ۔ ہمیں پورے اعتماد کے ساتھ دنیا کے اپنا کیس پیش کرنا ہو گا ۔ پاکستان سے تعلق رکھنے والے میڈیا کے ممبران کی ذمہ داری ہے کہ وہ مسئلہ کشمیر ہر پلیٹ فارم پر اجاگر کریں ۔ امریکا کے ایوان نمائندگان ، کانگریس اور دیگر اداروں میں اپنا اثر وسوخ استعمال کیا جائے ۔ مجھے امید ہے دنیا کے حالات بدلیں گے ۔ اور کشمیر کا مسئلہ حل ہو کر رہے گا ۔ ایک سوال کے جواب میں صدر آزاد کشمیر نے بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج کے کشمیر سے متعلق موقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر ہے اور سلامتی کونسل کی قرار دادوںمیں تسلیم شدہ ہے ۔ اس لیے بھارت کا خیالی دنیا میں رہنا کہ کشمیر اس کا اٹوٹ انگ ہے درست نہیں ۔ مسئلہ کشمیر کے پر امن حل کے ساتھ جنوبی ایشیاءمیں امن وابستہ ہے ۔ مذاکرات سے انکار بھارت کے غیر جمہوری رویے کا مظہر ہے ۔ بلوچستان کا ذکر کرنا بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے ۔ انہیں کوئی حق نہیں کہ وہ ایک آزاد و خود مختار ریاست کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرے ۔ بلوچستان پاکستان کا ایک صوبہ ہے ۔ جبکہ بھارت کے اندر آدھا درجن علیحدگی کی تحریکیں ہیں ۔ لیکن ہم ان کا ذکر نہیں کرتے ۔ وہ بھارت کے اندرونی معاملات ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں صدر آزاد کشمیرسردار محمد مسعود خان نے کہا کہ آزاد کشمیر اور پاکستان مقبوضہ کشمیر کے مظلوم عوام کی اخلاقی ، سیاسی اور سفارتی حمایت کرتے ہیں۔ لیکن اگر ہم آزاد کشمیر کے عوام ان کی عملاًمدد کریں بھی تو یہ کسی بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی نہیں۔ امریکا سے ہم ثالث کا کردار ادا کرنے کا مطالبہ ضرور کرتے ہیں۔ امریکا کے بھارت کے ساتھ گہرے تعلقات ہیں۔ وہ اپنا اثر و سوخ استعمال کرتے ہوئے پس پردہ بات کر کے بھارت کو مسئلہ کشمیر کے پر امن حل ، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو روکنے پر آمادہ کیا جاسکتا ہے ۔صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر 90 کی دہائی میں مسلح جدوجہد ہو رہی تھی ۔ لیکن اب وہاں پر امن سیاسی تحریک ہے ۔ کشمیری نوجوان نہتے احتجاج کرتے ہیں ان کے ہاتھ میں بندوق کی جنگ پتھر ہے ۔ اب وہ کھڑکی کی بجائے انٹرنیٹ ، ٹویٹر اور سوشل میڈیا کو استعمال کرتے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں سردار محمد مسعود خان نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں جاری تحریک کی قیادت وہاں کی مقامی نوجوان سیاسی قیادت کے ہاتھ میں ہے ۔ آپ لوگ یہاں کام کرتے ہیں ۔ ذرائع ابلاغ میں اثر و سوخ ہے آپ رضا کارانہ طور پر کردار ادا کریں ۔بھارت کی طرف سے حملے کی دھمکیاں افسو ناک ہیں اور غیر ذمہ دارانہ ہیں۔ اگر کسی نے جنگ چھیڑنے کی حماقت کی تو پھر اسے کنٹرول میں رکھنا کسی کے بس میں نہیں ہو گا۔




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *