12-3-150x150

تلسامیں ہلاک ہونے والاسیاہ فام شخص غیر مسلح تھا: پولیس حکام

12-3-150x150اوکلاہوما کے شہر تلسا کی پولیس کے سربراہ کا کہنا ہے کہ جمعے کو پولیس کے ہاتھوں ہلاک ہونے والا سیاہ فام شخص غیر مسلح تھا۔حکام 40 سالہ امریکی سیاہ فام ٹیرنس کراچر کی ہلاکت کی تفتیش کر رہے ہیں۔دوسری جانب ٹیرنس کراچر کے رشتے داروں کا کہنا ہے کہ انھیں ان کی گاڑی کے قریب اس وقت گولی ماری گئی جب ان کے ہاتھ فضا میں تھے۔تلسا پولیس کے سربراہ چنک جارڈن کا کہنا ہے کہ’مشتبہ شخص کے پاس یا اس کی گاڑی میں بندوق نہیں تھی۔‘انھوں نے انصاف کے تقاضے پورے کرنے کا وعدہ کیا۔پولیس کا کہنا ہے کہ وہ اس واقعے کی گاڑی میں نصب کیمرے کی ریکارڈنگ جاری کرے گی۔اطلاعات کے مطابق پولیس سیاہ فام امریکی شخص ٹیرنس کراچر کی کھڑی گاڑی کے سامنے اس وقت آئی جب وہ راستے میں ایک دوسری کال پر تھی۔پولیس ہیلی کاپٹر کے فوٹیج کے مطابق جس وقت ٹیرنس کراچر کو گولی لگی اس وقت ان کے ہاتھ فضا میں تھے جو ان کے خاندان کے دعوے کی تصدیق کرتا ہے۔دوسری جانب پولیس کا کہنا ہے کہ سیاہ فام امریکی شخص کو گولی ماری گئی اور وہ ہسپتال پہنچ کر دم توڑ گیا۔دوسری جانب ٹیرنس کراچر کی جڑواں بہن ٹیفانی نے اپنے بھائی کی ہلاکت کے خلاف پرامن مظاہروں کی اپیل کی ہے۔انھوں نے واقعہ میں ملوث پولیس افسر کے خلاف کریمینل چارجز کے تحت مقدمہ قائم کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔امریکہ میں پولیس کے ہاتھوں ایک اندازے کے مطابق ہر سال 1,000 افراد ہلاک ہو جاتے ہیں جن میں زیادہ تر سیاہ فام امریکی ہوتے ہیں۔




Leave a Reply