pesidentajks-m-masoodkhanpic28-09-2016-copy

صدر آزاد کشمیر مسعود خان سے نائب مندوب برائے پاکستان افغانستان جو ناتھن کار پینٹر کی ملاقات

واشنگٹنصدر آزاد جموں و کشمیر سردار محمد مسعود خان سے امریکی دفتر خارجہ میں پاکستان اور افغانستان سے متعلق امور کے نائب مندوب جوناتھن کارپینٹرنے ملاقات کی، مسئلہ کشمیر ، جنوبی ایشیاءمیں بڑھتی ہوئی کشیدگی ، مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی ، نہتے شہریوں پر قابض فوج کی طرف سے طاقت کے اندھا دھند استعمال ، آزاد کشمیر کی تعمیر و ترقی میں چین سمیت دیگر ممالک کے کردار اور باہمی دلچسپی کے دیگر امور پر تفصیلی تبادلہ خیال ۔ تفصیلات کے مطابق امریکی دفتر خارجہ کے حکام نے پاکستانی سفارتخانے میں آ کر صدر آزاد کشمیر سے ملاقات کی ۔ جس کے دوران صدر سردار محمد مسعود خان نے انہیں مقبوضہ کشمیر کی تازہ ترین صورتحال سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہامریکا دنیا کی واحد سپر پاور ہے ۔ اس ناطے اس کی عالمی ذمہ داریاں بھی زیادہ اور اہم ہیں۔ جموں و کشمیر کے عوام اس دنیا کے شہری ہیں۔ جن کے حقوق ضمانت اقوام متحدہ کے چارٹر میں دی گئی ہے ۔ سلامتی کونسل کی متعدد قرار دادوں میں ان کا حق خود ارادیت تسلیم کر رکھا ہے ۔ بھارت اور پاکستان نے ان قرار دادوں سے اتفاق کیا تھا ۔ لیکن اب بھارت ان قرار دادوں پر عملدرآمد کرنے سے انکاری ہے ۔ اس نے مقبوضہ کشمیر کو وہاں کے باشندوں کے لیے جہنم بنا دیا ہے ۔ گزشتہ 10 ہفتوں سے مقبوضہ وادی میں مسلسل کرفیو نافذ ہے ۔ لوگ گھروں میں محصور ہیں۔ قابض افواج نے ظلم و بربریت کی انتہا کر رکھی ہے ۔ امریکا بھارت کا د وست ہے ۔ اس لیے وہ بھارت کو کشمیر میں ظلم و ستم بند کرنے ، کشمیریوں کے حق خود ارادیت کو تسلیم کرنے اور پاکستان کے ساتھ کشیدگی ختم کرنے کے لیے دباﺅ ڈالے ۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی رہنماﺅں نے بات چیت اور مذاکرات کے دروازے بند کر رکھے ہیں۔ جموں و کشمیر کے حوالے سے امریکا سمیت عالمی برادری بے حسی کا مظاہرہ کر رہی ہے ۔ بھارت اڑی کے واقعہ کو بہانہ بنا کر پاکستان پر الزام تراشی کر رہا ہے اور جنگ کی دھمکیوں پر اتر آیا ہے ۔ اگر غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے بھارتی حکمرانوں نے جنگ چھیڑی تو اسے کنٹرول کرنا کسی کے بس میں نہیں رہے گا۔ اور جنوبی ایشیاءاسی ہولناک تباہی کا شکار ہو گا ۔ جس کے تصور کرنا بھی محال ہے ۔ امریکی دفتر خارجہ کے اعلیٰ اہلکار نے کہا کہ امریکا دنیا بھر کے مسائل تنہا حل نہیں کروا سکتا ۔ اس کے لیے فریقین کو ذمہ داری کا ثبوت دیتے ہوئے مسائل کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کے لیے تعاون کرنا چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے پاکستان اور بھارت دونوں کے ساتھ خوشگوار تعلقات ہیں ۔ ہماری ایک کی قیمت پر دوسرے سے دوستی ہر گز نہیں ۔ بھارت ہی نہیں پاکستان بھی امریکا کا دیرینہ دوست اور سٹرٹیجک پارٹنر ہے ۔ اس لیے اس کے ساتھ تعلقات بھی اہمیت کے حامل ہیں۔ ہم فریقین کی مذاکرات کے لیے حوصلہ افزائی کریں گے ۔ مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر ہمیں بھی تشویش ہے ۔ سفارتی ذرائع سے ہم نے اپنی تشویش سے بھارت کو آگاہ کر دیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ امریکا پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی ختم کرانے کی بھرپور کوشش کرے گا۔ مسئلہ کشمیر ، پاکستان اور بھارت کو باہمی مذاکرات کے ذریعے کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق حل کرنا ہو گا ۔ امریکا ان کی حوصلہ افزائی کرے گا۔ صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ اڑی کا واقعہ جس میں بھارتی فوجی مارے گئے ۔ افسوناک تھا ۔ لیکن بغیر ثبوت اور تحقیقات کے اس کا الزام پاکستان پر عائد کرنا غیر دانشمندی ہے ۔ اس طرح کے الزام کا مقصد مقبوضہ کشمیر کی صورتحال سے عالمی برادری کا توجہ ہٹانا اور ان نیت کے خلاف جرائم کی پردہ پوشی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ امریکی سیاسی قیادت ، میڈیا اور سول سوسائٹی مظلوم کشمیریوں کی حمایت کرئے ۔




Leave a Reply