jamal-mohsin

ممتاز فنانشنل ایڈوائزر جمال محسن کی ہمشیرہ کا حالت احرام میں انتقال

نیویارک(پاکستان نیوز) اپنی ہمیشرہ کے انتقال پر رنج ہے مگر حالت احرام میں جس عزت ووقار کے ساتھ جنت الامعلی مکہ میں تدفین ہوئی اس پر مسرت ہے کیونکہ اس اعزاز کیلئے انہوں نے عرصہ دراز آرزو کی تھی ۔ یہ بات ممتاز فنانشل ایڈوائزر جمال محسن نے اپنی ہمشیرہ کی گذشتہ ہفتے خانہ کعبہ میں نماز جنازہ پڑھانے پر کہی۔ جمال محسن نے بتایا کہ انکی ہمیشرہ گھریلو خاتون لیکن انتہائی پر عزم اور حوصلہ مند شخصیت کی مالک تھیں اپنے چار بچوں کی تعلیم اور شادیوں کے بعد انہوں نے اپنی زندگی کا مقصد دوسروں کے بچوں کی تعلیم میں پایا۔ چوبیس برس قبل انہوں نے لڑکیوں کیلئے ایک اسکول قائم کیا جہاں قرآن کی تجوید کے ساتھ ناظرہ اور دینی تعلیم کا مفت آغاز کیا جو انکے حج پر جانے تک جاری رہا۔اللہ اور اپنے اوپر بھروسہ کرنے والی مضبوط قویٰ خاتون کی چار اولاد لیکن چاروں ملک سے باہر تھیں۔ دو بچے کینیڈا ،ایک آسٹریلیا اور ایک نیویارک میں اور ہر بچے کا اصرار تھا کہ والدین انکے ساتھ رہیں انکے اپنے پاس امریکی شہریت تھی لیکن انہوں نے اپنے ملک میں رہنے کا تہیہ کیا اور بچوں کے اسکول کو جوش و جذبہ کے ساتھ چلاتی رہیں۔ اللہ نے انہیں مالی رحمتوں سے بھی نوازا لیکن انہوں نے آہستہ آہستہ اپنی تمام رئیل اسٹیٹ بیچ کر آنکھوں کے ہسپتال اور بلڈ بینک کو عطیات میں دے دئیے اپنے بچوں کیلئے صرف ایک گھر جس میں انکی رہائش تھی اور چھوٹا بنک اکاﺅنٹ چھوڑا۔ وہ زندگی میں کہتی تھیں کہ انہوں نے اپنے بچوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کر دیا ہے اب انکے پیسوں پر دوسروں کے بچوں کا حق ہے۔ گزشتہ پانچ برسوں سے انکے شوہر اپنی دیکھ بھال کے قابل نہیں رہے تھے تو انہوں نے کسی ملازم کے بجائے خود انکی دیکھ بھال کی اور جب کوئی ہمدردی میں مدد کی پیشکش کرتا تو کہتی تھیں کہ شریک حیات کی خدمت، موقع جنت ہے۔ شوہر کے انتقال کے بعد پاکستان میں رہنے کو ترجیح دی۔ اللہ انہیں غریق رحمت کرے۔




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *