sultan

کشمیر کی تیسری نسل جدوجہد آزادی کےلئے اُٹھ کھڑی ہوئی، بھارت ہتھیار اُٹھانے پر مجبور کر رہا ہے: بیرسٹر سلطان محمود

کشمیر کے مسئلہ پر پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک بار پھر سنگین تصادم کا خدشہ ہے، بھارت کاجنگی جنون انتہا پر ہے۔ اگر جنگ ہوئی تو بدترین تباہی ہو گی۔ ان خیالات کا اظہار آزاد کشمیر کے سابق وزیراعظم بیرسٹر سلطان محمود چودھری نے بروکلین (نیویارک) میں ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔دراصل یہ جلسہ گزشتہ روز اقوام متحدہ کے سامنے بھارتی جارحیت کے خلاف منعقدہ احتجاجی مظاہرے کے سلسلے میں کارنر میٹنگ کے سلسلے میں منعقد ہونا تھا تا ہم لوگوں کی بڑی تعداد کے باعث کارنر میٹنگ جلسہ میں تبدیل ہوا۔ اس جلسہ عام کا اہتمام پاکستان تحریک انصاف آزاد کشمیر یو ایس اے کے صدر اور کمیونٹی کی ممتاز شخصیت چودھری ظہو اختر آف پنیام نے اپنے ساتھیوں کی مدد سے کیا تھا۔ ممتاز کشمیری رہنما مشتاق قاضی نے نظامت کے فرائض انجام دیئے۔ انہوں نے باری باری سٹیج پر بیرسٹر سلطان محمود چودھری، چودھری اختر شکاگو سے آئے ہوئے مہمانوں راجہ یعقوب، جاوید راٹھور، یاسین چوہان، سردار محمد صابر کو سٹیج پر بیٹھنے کی دعوت دی۔ سردار صابر نے جلسہ کی صدارت بھی کی۔ بیرسٹر سلطان محمود چودھری نے کہا کہ نائن الیون کے بعد کشمیری نوجوانوں نے اس لئے ہتھیار رکھ دیئے تھے کہ آزادی کی تحریکوں کو بھی دہشت گردی تصور کیا جا رہا تھا مگر اب کشمیری عوام صورتحال سے بہت مایوس ہو چکے ہیں ان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے۔ بھارتی مظالم اپنی انتہا کو پہنچ چکے ہیں میں نے سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ میں بھی اعلیٰ عہدیداروں سے یہی کہا ہے کہ کشمیر کے عوام کو ان کا حق خودارادیت دیا جائے بصورت دیگر دونوں ایٹمی ممالک کے درمیان سنگین تصادم کا خدشہ موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنگ ہوئی تو اس سے بے پناہ تباہی آئے گی لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ عالمی برادری خصوصاً امریکہ اور اقوام متحدہ حالات کا احساس کرتے ہوئے بھارت کو مہم جوئی سے باز رہنے کی تلقین کریں۔ انہوں نے چودھری ظہور اختر آف پینام، ڈاکٹر آصف الرحمان اور دیگر کو سراہتے ہوئے کہا کہ کشمیر کاز کےلئے ان کی بے بہا خدمات ہیں۔ انہوں نے امریکی پاکستانیوں سے کہا کہ وہ سیاسی وابستگی سے قطع نظر کشمیری عوام کا بڑھ چڑھ کر ساتھ دیں اور امریکی کانگریس مینوں اور سینیٹرز اور سیاستدانوں کو باور کرائیں کہ کشمیر کی صورتحال بگڑتی جا رہی ہے۔ اس وقت بہت احتیاط اور ذمہ داری کی ضرورت ہے۔ جلسہ عام سے دیگر کے علاوہ چودھری ظہور اختر آف پنیام ، راجہ یعقوب، محمد صابر، ڈاکٹر آصف الرحمان، یاسین چوہان، تاج خان، صوفی نذیر ، زمان آفریدی، سردار امتیاز خان نے بھی خطاب کیا۔ سردار امتیاز گڑالونی نے آخر میں دعا کرائی، سرفراز کیانی نے صوفیانہ کلام پیش کیا۔ آخر میں چودھری ظہور اختر اور قاضی مشتاق نے بیرسٹر سلطان محمود چودھری اور دیگر مہمانوں اور شرکاءکا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا مہمانوں کی تواضع پر تکلف کھانوں سے کی گئی۔




Leave a Reply