بھارت میں انتہا پسند ہندوؤں کے تشدد سے تنگ ہزاروں دلت ہندوؤں نے مذہب چھوڑدیا

گجرات: بھارت میں ذات پات کے نظام اور ہندو انتہا پسندی نے نا صرف مسلمانوں اور سکھوں کے لئے مشکلات پیدا کر دی ہیں بلکہ نچلی ذات کے ہندوؤں (دلتوں) کے لئے بھی جینا دو بھر ہو گیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ ہزاروں دلت ہندو مذہب چھوڑ کر بدھ مت ہو گئے ہیں۔
برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق ریاست گجرات میں بڑی تعداد میں دلتوں نے بدھ مت قبول کر لیا ہے۔ بی بی سی کے مطابق گزشتہ روز گجرات کے 3 بڑے شہروں احمد آباد، كلول اور سریندرنگر میں ہونے والے ‘بدھ پرورتن’ (بدھ مت میں داخل ہونے کی رسم) کے حوالے سے ہونے والے اجتماعات میں تقریباً 2 ہزار دلتوں کو بدھ مت میں شامل کیا گیا۔
بدھ مت مذہب اختیار کرنے والے افراد کا کہنا ہے کہ نچلی ذات کے ہندو ہونے کی وجہ سے ان کی زندگی اجیرن ہو چکی تھی بہت عرصے سے ہندو مذہب چھوڑ کر بدھ مت اختیار کرنے کا سوچ رکھا تھا کیونکہ اس میں سب لوگ برابر ہیں۔
گجرات بی جے پی کے ریاستی ترجمان بھرت پانڈیا نے بی بی سی کو بتایا کہ بھارت میں کوئی بھی شخص کوئی بھی مذہب اپنا سکتا ہے لیکن اگر دلت ناراض ہو کر بدھ مت میں داخل ہوئے ہیں تو اس پر سب کو سنجیدگی سے غور کرنا چاہیئے۔
واضح رہے کہ چند ماہ قبل گجرات کے گاؤں اونا میں کچھ دلت نوجوانوں کو پولیس کی موجودگی میں ہندوانتہا پسندوں نے بری طرح تشدد کا نشانہ بنایا تھا، اس واقعے کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد پورے گجرات میں بڑے پیمانے پر مظاہرے شروع ہوگئے تھے۔




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *