پاکستان ٹیکس اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں اصلاحات کرے، امریکا

632240-pakamericaflagphotofile-1476994147-542-640x480اسلام آباد: امریکا نے کہا ہے کہ افغانستان کی ضروریات پوری کرنے کے لیے پاکستانی کمپنیوں کو بھی دفاعی ساز و سامان کی سپلائی کی اجازت ہے جس کے تحت دفاعی ساز و سامان کی خریداری کے لیے جاری ہونے والے امریکی ٹینڈرز میں پاکستانی کمپنیاں بھی حصہ لے اور بولی میں شامل ہوسکیں گی۔
ان خیالات کا اظہار پاکستان آئے ہوئے امریکی تجارتی نمائندہ برائے جنوب و وسط ایشیا مائیکل جے ڈلی نے گزشتہ روز میڈیا کے ایک گروپ سے گفتگو میں کیا۔ ایک سوال پرانہوں نے بتایا کہ افغانستان میں امریکی افواج کی ضرورت کے لیے خریداریوں کے ٹینڈرز میں پاکستانی کمپنیاں بھی حصہ لے سکتی ہیں اور افغانستان میں امریکی افواج کی ضرورت کے لیے دفاعی ساز و سامان سپلائی کرسکتی ہیں، اس کے لیے پاکستانی کمپنیوں کو آگہی فراہم کی جائے گی۔
پاکستان اور امریکا کے درمیان ترجیحی تجارتی معاہدے کے حوالے سے سوال پر انہوں نے کہا کہ امریکا کی ترجیحی ٹرانزٹ پیسیفک پارٹنر شپ ایگریمنٹ اور ٹرائبل ٹیکنیکل اسسٹنٹ پروگرام (ٹی ٹی اے پی) ہیں جن پر امریکا فوکس کررہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیفا کونسل کے اجلاس میں پاکستان اور امریکا کے درمیان دوطرفہ تجارت کے فروغ کے بارے میں اہم پیشرفت ہوئی، اس کے علاوہ وزیراعظم میاں نوازشریف کے دورہ امریکا کے دوران طے پانے والے جوائنٹ ایکشن پلان پر عملدرآمد کے حوالے سے بھی اہم پیشرفت ہوئی ہے۔
دونوں ممالک کے درمیان اس ایکشن پلان پر عملدرآمد کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور کرنے کے لیے روڈ میپ پر اتفاق ہوا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان اور امریکا کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری بڑھانے کے لیے لائحہ عمل پر بھی اتفاق ہوگیا ہے تاہم پاکستان کو ٹیکس اور سرمایہ کاری کے شعبے میں اصلاحات کی ضرورت ہے۔ ایک سوال پر انہوں نے بتایا کہ جن ممالک میں حقوق دانش کے قوانین مضبوط اور تحفظ زیادہ ہوتا ہے انھیں سرمایہ کار ترجیح دیتے ہیں، پاکستان نے حقوق دانش کے تحفظ کے حوالے سے بہت سے اقدامات کیے ہیں مگر اب بھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔
ایک اور سوال پر مائیکل جے ڈلی نے کہاکہ پاک امریکا تجارت اور سرمایہ کاری بڑھانے کیلیے لائحہ عمل طے کر لیا گیا ہے، پاکستان جی ایس پی سے خاطر خواہ فائدہ اٹھا سکتا ہے، پاکستانی برآمد کنندگان کی جی ایس پی سے فائدہ اٹھانے کیلیے رہنمائی کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان سے آم کی درآمد بڑھانے پر بھی اتفاق رائے ہوا ہے اور اس کیلیے بھی پاکستانی آم کو عالمی معیار کے مطابق لانے کے لیے امریکی کمپنی معاونت کرے گی۔




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *