اہم ترین خبریں
لاس اینجلس: ہالی ووڈ فلم ’’لالہ لینڈ‘‘ سے دنیا بھر میں مقبولیت حاصل کرنے والی خوبرو اداکارہ ایما اسٹون رواں سال سب سےزیادہ کمائی کرنے والی اداکارہ بن گئی ہیں۔ ہالی ووڈ کا شمار دنیا کی سب سے بڑی فلم انڈسٹریوں میں ہوتاہے،جہاں فلموں کے بجٹ سے لے کر اداکاروں کے معاوضے تک اربوں روپے کی سرمایہ کاری کی جاتی ہے تاہم گزشتہ کئی عرصے سےبالی ووڈ بھی ہالی ووڈ کوٹکر دینے لگا ہے اور بالی ووڈ اداکار بھی دنیا میں سب سے زیادہ معاوضہ حاصل کرنے والے اداکاروں کی فہرست میں شامل ہونے لگے ہیں ،جس کی مثال بالی ووڈ کی ڈمپل گرل دپیکا پڈوکون ہیں جو گزشتہ سال فوربز میگزین کی فہرست میں ٹاپ ٹین میں شامل ہونے میں کامیاب ہوگئی تھیں لیکن اس بار دپیکا کی قسمت نے ان کا ساتھ نہیں دیا اور دسویں نمبر پر تو کیا دپیکا میگزین کی فہرست سے ہی آؤٹ ہوگئیں۔ اس خبرکوبھی پڑھیں: دپیکا پڈوکون ایک اور ہالی ووڈ فلم میں کاسٹ
Search
633784-breastcancer-1477172591-954-640x480

سالانہ 40 ہزار خواتین چھاتی کے سرطان کا شکار ہوجاتی ہیں، مقررین

633784-breastcancer-1477172591-954-640x480
ملک میں چھاتی کے سرطان کی بڑھتی ہوئی شرح کو روکنے کیلیے موثر اقدامات کی ضرورت ہے، جناح اسپتال کراچی میں پیشنٹ ایڈ فاؤنڈیشن کے تعاون سے چھاتی کے سرطان کی تشخیص کی جدید ترین مشینیں نصب کی گئی ہیں اور ہزاروں روپے میں ہونے والی میموگرافی بالکل مفت کی جارہی ہے اس لیے خواتین کو چاہیے کہ چھاتی میں گھٹلی یا سختی ہونے کی صورت میں فوراً میموگرافی کرائیں اور ڈاکٹر سے رجوع کریں۔
ان خیالات کا اظہار بریسٹ کینسر سرجن ڈاکٹر سلیم سومرو، جناح اسپتال کے شعبہ ریڈیالوجی کے سربراہ پروفیسر طارق محموداور پیشنٹ ایڈ فاؤنڈیشن کے چیئرمین مشتاق چھاپرانے جناح اسپتال کراچی میں بریسٹ کینسرکی آگاہی ماہ کی مناسبت سے منعقدہ سیمینار سے خطاب کے دوران کیا،اس موقع پر کینسر کی متاثرہ مریضہ اسماء نبیل (جو علاج کے بعد اب صحت مند زندگی گزار رہی ہیں ) نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
ڈاکٹر سلیم سومرو نے کہا کہ بریسٹ کینسر کی جلد تشخیص سے اس سے بچا جاسکتا ہے تاہم اگر اس کی تشخیص میں دیر ہوجائے اور مرض آخری اسٹیج پر پہنچ جائے تو اس کا علاج ممکن نہیں رہتااورموت واقع ہو جاتی ہے، پروفیسر طارق محمود نے بتایا کہ وارڈ میں ایک کروڑ 42لاکھ کی لاگت سے 3مشینیں نصب کی گئی ہیں جن سے الٹرا ساؤنڈ اور میموگرافی کے ذریعے بریسٹ کینسر کی تشخیص کی جاتی ہے۔
خواتین کی آسانی اور پردے کیلیے پورے فلور پر تمام عملہ خواتین کا تعینات کیاگیا ہے، ان کا کہنا تھا کہ خواتین میں آگاہی نہ ہونے کے باعث ملک میں بریسٹ کینسر کی شرح میں بتدریج اضافہ ہو رہاہے جن خواتین کی عمر 40سال یا اس سے زائد ہے یا ان کے خاندان میں کسی کو کینسر رہا ہے توانھیں ضرور میمو گرافی کرانی چاہیے اس سے بریسٹ کینسر کی باآسانی تشخیص ہو جاتی ہے۔
اسماء نبیل نے کہا کہ ہمارے معاشرے میں عموماً اس مرض کے لاحق ہونے کے بعد بس یہ سمجھا جاتا ہے کہ اب اس سے بچا نہیں جاسکتا جو سراسر غلط ہے۔ انسان کو بیماریوں سے لڑنے کا حوصلہ پیدا کرنا چاہیے۔ اگر بیماری اللہ کی طرف سے ہے تو شفاء بھی اللہ ہی دیتا ہے اس لیے مایوس ہونے کے بجائے علاج کرایا جائے جس طرح میں نے علاج کرایا اور آ ج الحمدللہ صحت مند زندگی گزار رہی ہوں، سیمینار میں بڑی تعداد میں خواتین نے شرکت کی۔




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *