” آدمی اتنے ہیں انسان نہیں ہے کوئی “

logo

پچھلے دنوں ایک تقریب میں اپنے ایک دوست سے ملاقات ہوئی ،سلام کیا، مصافحہ کیا ، گلے لگایا ، تو کان میں کہنے لگے ”ذرا ہتھ ہولا رکھیا کرو“ ۔۔ اب ان کی پیاری سی مسکراہٹ اور دل موہ لینے والا انداز دیکھ کر کون کافر منع کر سکتا تھا۔۔ ویسے ہماری کسی سے کوئی لڑائی نہیں لیکن اگر عین لڑائی میں محمود و ”ایاز“ صف بندی کرلیں تو جنگ بندی بھی کر لینی اچھی بات ہے ۔ ۔۔

 اس لیئے ان کی بات دل کو لگی اورجب تک اچھا انسان نہیں بن پاتے اس وقت تک اب ہم بندے دا پتر بننے کی کوشش میں لگ گئے ہیں ۔۔ ہم نے اپنی اس انقلابی سوچ کو سوچا کہ آپ تک بھی پہنچا دیں ۔۔

ویسے لوگ اکثر پوچھتے ہیں کہ پاکستان میں انقلاب کب آئے گا ؟ اور اب تک آیا کیوں نہیں ۔۔وغیرہ وغیرہ ۔۔۔ تو حضور ایسے ملکوں میں انقلاب نہیں آیا کرتے جہاں کے ایم سی کے ایک ملازم کو اس لئے خودکشی کرنا پڑ جائے کہ عملہ اس کے مسائل کوحل نہیں کرتا۔۔ جہاں ایک ایف اے پاس کانسٹیبل اُستادوں، پروفیسروں اور ڈاکٹروں کو گردن سے پکڑ کر انہیں بے گناہ گرفتا کرکے مہینوں جیل کی ہوا کھلا دیتا ہو۔۔

جہاں وکیل جیسے معزز پیشے والے سیاسی ورکر کے گھر پر چھاپے کے دوران اُن کے بیٹے بیٹی کو زبردستی اٹھا کر حراست میں لیا جاتا ہو ۔۔۔جب مظلوم اندر اور ظالم باہر ہو، جب بے قصور کو پھانسی لگنے کے بعد عدالت اسے بری کرنے کا اعلان کرتی ہو ،

 جس ملک کے فیض و فراز کے نصیب میں تو جیل ہو اور آٹھویں جماعت پاس مولوی باہر فرقہ واریت پھیلا رہا ہو تو وہاں کیسے انقلاب آ سکتا ہے۔۔ تو بھائیوں دوستوں ، بزرگوں ۔۔۔ سکون سے سوتے رہواور دوسروں کو بھی سونے دو۔۔۔ زیادہ رولا نا ڈالو ۔۔ پاکستان میں نہ کوئی انقلاب آرہا ہے نہ تبدیلی ۔۔

ابھی اس ملک میںمحمد بن قاسم اور ٹیپو سلطان کم جبکہ میر جعفر زیادہ ہیں ۔۔ان میں سے کچھ تو اورسیز تک پہنچ گئے ہیں ۔۔ایک بظاہر علم دوست ، ”عمل پرست“ اور نہ جانے کیا کیا خطاب رکھنے والے رائٹرکہلانے والے ، فورم چلانے والے ، آج کل اکثر بڑے زور وشور سے اپنی دانشوری کے جوہر پاکستان کے خلاف زہر اگلنے میں صرف کرتے دکھائی دیتے ہیں ۔۔۔کیسے انسان ہیں یہ لوگ؟

۔ وہ کیا نغمہ ہے کہ ۔۔۔ میں نہیں بولدی ، ، لوکو میں نہیں بولدی ۔۔ میرے وچ میرا یار بولدا ۔۔ اب ان کا کون یار ہے جو انہیں یوں بولنے پر اکسا رہا ہے یہ آپ خود سمجھ جائیں ۔ ۔چائے سموسے پر چند شعرا کو شعر سنانے کی لالچ دے کر یہ ایک طویل عرصہ سے اپنی دوکان جمائے بیٹھے ہیں جس کی آڑ میں کھل کر پاکستان مخالف مہم بھی چل رہی ہے ۔ نہ جانے ہمارے دیگر اہل علم و فن دوست کب ہوش میں آئیں گے ؟

ایک ہفتے کے دوران اتنے موضوعات جمع ہو جاتے ہیں کہ جگہ کی قلت ہونے کے باوجود نہ چاہتے ہوئے بھی مختلف عنوانات پر لکھنا ہی پڑ جاتا ہے ۔۔۔

اسی طرح جہاں ایک طرف کچھ لوگ منافرت پھیلا کر دو ممالک کے درمیان فاصلوں کو بڑھا رہے ہیں۔۔۔ وہیں ۔۔ سُر سنگیت کے ذریعے پاکستانی آوازیں سرحد پار جا کر محبت کے نغمے بھی گنگنا رہی ہیں ۔۔۔

اس کا ایک نمونہ ہم نے اس وقت ٹورونٹو میں دیکھا جب پاکستانی پاپ سنگر عاطف اسلم نے ہزاروں کے مجمع جس میں ہندو، مسلم ، سکھ عیسائی ، سب ہی تھے ۔۔ تاجدارِ حرم ہو نگاہِ کرم اپنے انداز میں پیش کرکے ایک سحر طاری کر دیا ۔۔۔

صوفیانہ کلام کی گونج نے ہرشی سینٹر میں پن ڈراپ خاموشی نے وہاں موجود سب کو ہی جھنجوڑ کر رکھ دیا ۔۔۔ عزیزم عامر شمسی کو بہت شاباش جنہوں نے دو ممالک کے لوگوں کو ایک چھت تلے جمع کرکے امن و محبت کے پیغام کو پھیلانے میں اپنا کردار ادا کیا ۔یہ بھی تو ایک انسان ہے ، محبتیں بانٹنے والا !!

اندھیرے سے لڑائی کا ، یہی احسن طریقہ ہے ۔۔۔

تمہاری دسترس میں ، جو دیا ہو ، وہ جلا دینا ۔۔۔

اُدھر پاکستان میں سیاسی دھرنے او رسیاسی ورکرز کو ر دھرلئے جانے کے واقعات میں کوئی کمی ہوتی دکھائی نہیں دے رہی ۔۔ عمران خان کو ائمپائر کی انگلی نہیں ملی تو کیا ہوا ہما رے کینیڈا والے بابا طاہر القادری کا انگوٹھا مل گیا ۔۔۔یعنی ” تھمز اپ“ ۔۔۔ کچھ لوگ کہہ رہے ہیں کہ ایک تقریر کے دوران وزیر اعظم کے آنسو نکلے تھے ۔۔۔ تو کیا اب چیخیں بھی نکلنے والی ہیں ؟

ویسے یہ سب کھیل ہے ٹائمنگ کا ۔۔ ذرا سوچیئے ، عدالتی فیصلہ نومبر میں ۔۔ آرمی چیف کی ایکسٹنشن بھی قریب ۔۔۔امریکی انتخابات بھی نزدیک ۔ یہ سب عجب حسن اتفاق ہے یا کوئی منصوبہ بندی ؟ یہ تو وقت ہی بتائے گا ۔۔

اس قت جتنی سیاسی جماعتیں ہمارے ملک میں کرپشن کرنے والوں کو بچانے کے لئے اکھٹی ہوئی ہیں ۔۔کاش کرپشن ، جھوٹ ، بدعنوانی اور منافقت کو ختم کرنے کے لئے متحد ہو جائیں تو قوم کی حالت ہی کچھ بہتر ہو جائے ۔۔

شورش کاشمیری کے اس قول کے ساتھ ہی آج کی گفتگو کا اختتام :

” طوائف کا ناچ ، سیاست کے ناچ سے بہتر ہے کیونکہ سیاست میں قوم ناچتی ہے ، ملک ناچتا ہے ، غیرت ناچتی ہے ، عقیدے ناچتے ہیں ، عصمتیں ناچتی ہیں “ اور تو اور اب تو صحافت ، عدالت اور امامت بھی ناچ رہی ہے ۔۔ کوئی پلاٹ لے کر ، کوئی گاڑی بنگلہ لے کر تو کوئی ڈیزل کے پرمٹ لے کر ۔۔۔سمجھ نہیں آتا کہ یہ کیسے انسان ہیں ۔۔۔بقول شاعر ۔۔

میں تو حیراں ہوں کہ حیران نہیں ہے کوئی ۔۔۔

آدمی اتنے ہیں انسان نہیں ہے کوئی ۔۔۔




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *