anees-farooqi

”میرے لئے نہ کوئی پریشاں ہوا کرے “

logo

 جب سے محترم ڈی جی رینجرز بلال اکبر کی انتہا پسند و سخت گیر مولیوں اور ملاﺅں کے ساتھ ہنستی مسکراتی ویڈیو وائرل ہوئی ہے تب سے پاکستان کے دہشت گردوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے ۔۔ حوروں کی خواہش نے رسوا کیا جنہیں ان کی تو اُمید کی کرن پھر جاگ گئی ۔۔۔

اُدھر دوسری طرف ان کے ٹینکوں کے سائے میںپل کر دوبارہ جوان ہونے والے مصطفی کمال کو دیکھ کر سب کو دھوبی اور اس کا کتا یاد آرہا ہے جو اب نہ گھر کا رہا نہ گھاٹ کا ۔۔۔

سابقہ مئیر کراچی کواس طرح روزانہ کی بنیاد پر ذلیل ہوتے دیکھ کر انسانی ہمدردی کے تقاضوں کے تحت واقعی ہمدردی ہوتی ہے لیکن عزت اور ذلت دینے والی تو اللہ تعالی کی ذات ہے ۔۔۔ کچھ لوگ تو اپنے لئے مانگ کر ذلت لیتے ہیں اور یہ کمال بھی ہمارے ہی کمال کا ہے ۔۔

اللہ ان کی توقیر و شان میں کچھ اضافہ فرمائے ۔۔۔ویسے اس سلسلے میں اب دوا کا وقت نہیں دعا کا وقت رہ گیا ہے ۔ ۔ اُمید ہے جلد ہی وہ بھی اُسی اسپتال سے علاج کے لئے رجوع کریں گے جس میں کہ اس سے قبل حقیقی کے آفاق احمد آج تک زیر علاج ہیں لیکن کوئی افاقہ نہیں ۔۔ یہ مرض ہی ایسا ہے جس کا کوئی علاج نہیں ۔۔ یزید سے لے کر میر جعفر و صادق، تاریخ بھری پڑی ہے ۔

ڈی جی رینجرز بلال اکبر ہوں یا پرانے والے رضوان اختر ۔۔یا نصیر اللہ بابر ۔۔ ان کی تاریخ گواہ ہے کہ یہ کسی کے ساتھ وفا نہیں کرتے ۔۔۔ اگر کوئی صحافی ذرا سچ لکھ دے تو اس پر چڑھ دوڑتے ہیں ، سبین محمود ہوں، حامد میر یا سرِل المائدہ ۔۔ ان کا زور بس انہی پر چلتا ہے ۔۔۔

یہ القائدہ کے ساتھ اور المائدہ کے دشمن ہیں جو سخت گیر ملاﺅں کے گھیرے میں ایسے خوش بیٹھے ہوتے ہیں جیسا کوئی پنڈت گوپیوں کے ارد گرد بیٹھا جاپ جپ رہا ہو ۔۔یہ طالبان کے پاکستان کے رکھوالے ہیں جناح کے پاکستان اور جناح کے ڈان کوگیارہ ملکوں کو مطلوب ڈان سمجھتے ہیں ۔ ۔۔اللہ تعالی پاکستان کی حفاظت فرمائے ۔۔

جواں سال پاکستانی شہری سید عبدالنوید کی جسم دریدہ لاش نے ایک بار پھر پاکستان میں آئین و قانون کی حکمرانی پر سوال کھڑے کر دیئے ہیں ۔۔۔ انسانی حقوق کمیشن کے ڈائیریکٹر کین روتھ کو راقم سمیت بہت سے لوگوں نے پیغام بھیج رکھے ہیں کبھی تو سنوائی ہو گی ۔ ۔ جان کیری اور امریکی انتظامیہ جس ڈو مور کا مطالبہ کرتے ہیں ہماری ایجنسیاں کچھ اور ہی اس کا مطلب نکال رہی ہیں ۔

Kill and Dump

انسانیت سوز بہیمانہ تشدد کرکے ، جان سے مار کر کتے بلیوں کی طرح سڑک کنارے پھینک کر انسانیت کی تذلیل آخر کب تک ؟

اس موضوع پر بس اتنا ہی بہت ہے ۔۔ کہیں خود اپنی حفاظت کی دعا نہ کروانی پڑ جائے ۔۔

شمالی امریکہ میں آج کل دو خواتین کافی مقبول ہو رہی ہیں ۔۔ امریکہ میں ہلری کلنٹن اور مسی ساگا میں بونی کرامبی ۔۔ہیلری کو تو ڈونالڈ ٹرمپ سے نبٹنا پڑ رہا ہے لیکن مسی ساگا کی مئیر بونی کرامبی کو پاکستانی کمیونٹی ”لیڈر“ ٹکر گئے ہیں ۔۔آٹھ دس کاروباری اور دو چار ”ویلے“ لوگ تو گویا ان کو کسی جن کی طرح لڑ گئے ہیں ۔۔

اُن کا بس نہیں چل رہا کہ چیخ مار کر جنگلوں کی طرف نکل جائیں ۔۔۔کچھ نہیں تو کم از کم تنہائی میں یہ گانا ہی گنگنا سکیں کہ ۔۔۔ ”ظالما میری جان چھڑا دے “۔۔

آخری خبریں آنے تک محترمہ نے گریٹر ٹورونٹو ایریا میں پاکستانیوں کی نئے سرے سے مردم شماری کی خواہش کا اظہار کیا ہے کیونکہ وہ اُن باقی کے ہزاروں پاکستانیوں کو بھی تلاش کرکے جاننا چاہتی ہیں جنہوں نے انہیں ووٹ بھی دیئے اور سیلفی کے لئے دکھائی بھی نہیں دیتے ۔۔ کیسے پاکستانی ہیں یہ لوگ بھی ؟

ویسے حقیقت تو یہ ہے کہ مئیر کے ساتھ کچھ لوگوں کی قریب قریب کھڑی تصاویر دیکھ کر کبھی کبھی اپنا بھی دل کرتا ہے کہ ہماری بھی کریانے کی کوئی دوکان ہوتی تو ایک آدھ بوری گندم دان کرکے ہم بھی سند یافتہ ہو جاتے۔۔

بونی کرامبی پر اللہ کا خاص کرم ہے کہ تمام زاہد و عابد اُن کے ارد گرد ہی موجود رہتے ہیں ۔جنت نما مسی ساگا اور شہر کی مالکن بونی کرامبی ۔ہمیں تو ڈر ہی لگا رہتا ہے اور اللہ سے دعا ہے کہ ۔۔۔ کہیں ایسا نہ ہو یارب !! یہ ترسے ہوئے عابد ۔۔۔تیری جنت میں اشیا  کی فراوانی سے مر جائیں ۔۔

یہ حالات دیکھ کر اتنا تو احساس ہوا کہ ڈونالڈ ٹرمپ اکیلا ہی نہیں ہے چول ۔۔یہاں بھی کچھ اس کے پیروکار ہیں ۔۔۔ اب دیکھیئے نا ۔۔ ڈونالڈ بھی خواتین کے بارے نازیبا الفاظ ادا کرکے فرماتے ہیں کہ یہ تو مردوں کی لاکر روم والی گفتگو تھی ۔۔

ہماری تو دعا ہے کہ ڈونالڈ کی رسائی لاکر روم تک ہی رہے کہیں وہ غلطی سے وائٹ ہاﺅس والے صدارتی اوول روم تک نہ پہنچ جائیں۔ ۔

آخر میں اپنے آنے والے شو اور کالم کے ذریعے ایک بریکنگ خبر کی تیاری ہے ۔۔ خبر کا تعلق ملٹن سے ہے اور کچھ اپنوں کا نام آتا ہے ۔۔ ۔بہتر ہے کہ فی الحال ہم خاموش رہیں ۔۔ اگلے ہفتے تک ۔

ایک اور بات ۔۔۔ کمیونٹی کے کچھ فکر مند لوگ کنزرویٹو کی نامینیشن کو لے کر دل گرفتہ ہیں اور درجنوں کے حساب سے میدان میں اُترنے والے اُمیدوارں کے لے کر پریشان ہیں ۔۔ تو اُن کے لئے بس اتنا ہی کہہ سکتے ہیں کہ یہ کوئی نئی بات نہیں ایسی فصل ہر تھوڑے دن کے بعد کھڑی ہوتی ہے پھر اُتر جاتی ہے ۔۔۔

یہ جو میدان میں اُترے ہیں جلد ہی اُتر جائیں گے اُس فلم کی طرح جو اپنا پہلا ہفتہ بھی نہیں نکال سکتی ہے ۔۔ اس لئے آپ سکُون سے رہیں ۔۔۔ میرا سکوں یہی ہے کہ میں بے سکوں رہوں ۔۔۔ میرے لئے نہ کوئی پریشاں ہوا کرے ۔۔۔




Leave a Reply