خفیہ ای میل کا معاملہ؛ وائٹ ہاؤس کا ڈائریکٹر ایف بی آئی کا دفاع یا تنقید کرنے سے معذرت

642190-us-1477946605-280-640x480وائٹ ہاؤس نے ڈیموکریٹک پارٹی کی صدارتی امیدوار ہیلری کلنٹن کی خفیہ ای میل کی تحقیقات کے معاملے پر ڈائریکٹر ایف بی آئی کا دفاع یا تنقید کرنے سے معذرت کرلی۔
غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق ڈائریکٹر ایف بی آئی نے حال ہی میں سابق وزیرخارجہ اور ڈیموکریٹک پارٹی کی صدارتی امیدوار ہیلری کلنٹن کی خفیہ ای میل کی دوبارہ تحقیقات کرنے کا اعلان کیا تھا جس کے بعد ملک میں کھلبلی مچ چکی ہے تاہم اب وائٹ ہاؤس کے ترجمان جوش ایرنسٹ نے میڈیا بریفنگ کے دوران کہا کہ وہ ایف بی آئی ڈائریکٹر جیمز کومی کا نہ تو دفاع کریں گے اور نہ ہی ان پر تنقید جب کہ صدر اوباما جیمز کومی کو اصول پسند اور اچھے کردار کا مالک سمجھتے ہیں جنہیں ریپبلکن پارٹی نے نامزد کیا تھا۔
ترجمان کا کہنا ہے کہ بعض ڈیموکریٹک نمائندوں کا خیال ہے کہ ایف بی آئی ڈائریکٹر نئے انکشافات کے ذریعے ریپبلکن پارٹی کے صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کے لئے ووٹ جمع کرنا چاہتے ہیں اور ان کا جھکاؤ ٹرمپ کی جانب ہے تاہم صدر اوباما نے اس قسم کے بیانات پر کوئی بات نہیں کی جب کہ صدر اوباما کو یقین ہے کہ جیمز کومی جان بوجھ کر خفیہ ای میل کے معاملے کی دوبارہ تحقیقات نہیں کرنے جارہے یا وہ کسی ایک جماعت کے امیدوار کو فائدہ پہنچانا چاہتے ہیں۔
اس خبر کو بھی پڑھیں: ایف بی آئی کا ہیلری کلنٹن کی خفیہ ای میلز کی دوبارہ تحقیقات کا اعلان
ترجمان وائٹ ہاؤس نے تسلیم کیا کہ ڈائریکٹر ایف بی آئی کو مختلف حلقوں کی جانب سے خاصی تنقید کا سامنا ہے اور وہ مشکل وقت سے گزر رہے ہیں جب کہ انہیں قانونی ماہرین کی جانب سے بھی نکتہ چینی کا سامنا ہے تاہم ان حالات میں وائٹ ہاؤس جیمز کومی کا نہ دفاع کرے گا اور نہ انہیں تنقید کا نشانہ بنائے گا۔
ترجمان وائٹ ہاؤس نے کہا کہ ہیلری کلنٹن کی ایف بی آئی کو ملنے والی ای میل سے متعلق تحقیقات جاری ہیں اس لئے اس پر مزید بات چیت نہ کی جائے کیوں کہ یہ اخلاقیات کے خلاف ہے اور اس حوالے سے شواہد اکٹھے کئے جارہے ہیں جب کہ صدر اوباما یقین رکھتے ہیں کہ اس معاملے پر تمام اقدار، روایات اور رہنما اصولوں کا خیال رکھا جائے گا۔
واضح رہے کہ ایف بی آئی کے ڈائریکٹر جیمز کومی نے 28 اکتوبر کو ہیلری کلنٹن کی نئی خفیہ ای میل ملنے کے بعد تحقیقات کو دوبارہ شروع کرنے کا اعلان کیا تھا جو اس سے قبل بند کردی گئی تھی۔




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *