”ایک ناٹک ہے زندگی جس میں “

عوام کو خوب گرما کر ٹھنڈے کمروں میں بیٹھے ہوئے رہنما بڑی آسانی سے اپنی کشتیاں جلانے والی بات سے مکر گئے اور انہیں پھر رکشہ کرکے واپس آنا پڑا ۔۔ شیخ رشید نے اوبی وین پر بیٹھ کرسگار پیا ۔۔ کپتان نے ہوم گراﺅنڈ پر ہوم ورک نہیں کیا اور ناکام کہلائے ۔

شامیانے ، قناتیں اور کرسیوں والوں نے جو دس لاکھ کرسیوں کے کاروبار کا منافع ذہن میں رکھا ہوا تھاوہ خواب چکنا چور ہو گیا ۔۔۔ ڈی جے بٹ کے گانے دھرے کے دھرے رہ گئے ۔۔۔ حمزہ علی عباسی کی اداکاری بھی گئی اور سیاسی قائد بننے کے خواب بھی ۔

نعیم الحق اور خرم نواز نے اپنی نوٹنکی کی ایک ہلکی سی جھلک سلطان راہی ومصطفی قریشی کی دکھا کر فلم کا اختتام کر دیا ۔۔۔اُدھر نیک پروین حکومت اور ان کے مصاحبین بدستور اپنی شرافت ، ایمانداری اور صداقت و امانت کے گن زور و شور سے گا رہے ہیں ۔

مبشر علی زیدی نے کیا خوب ٹوئیٹ کی کہ ” سپریم کورٹ کی سماعت کا احوال سننے سے پتا چلتا ہے کہ ہمارے حکمران اگر اولیا اللہ نہیں تو کم از کم صوفی بزرگ ضرور ہیں “۔

ہم اس میں اتنا اضافہ ضرور کریں گے کہ ان کی اولادیں بھی کسی سجادہ نشین ، گدی نشین ، پیر و مرشد کی نیک اولادوں کی نقش قدم پر چلتی سی محسوس ہوتی ہیں ۔۔ نمازی پرہیز گار اس نسل کی ایسٹ لندن میں فلیٹوں کی بلند بالا عمارات کی تعمیر تیزی سے جاری ہے ۔

جوں جوں ملک کے خزانے کا لیول نیچے جارہا ہے توں توں فلیٹوں کے مالے بڑھتے جا رہے ہیں۔۔۔ لیکن دوسری جانب اہلِ خانہ سرکاری طور پر ایک دوسرے کی ذمہ داری لینے سے گریز فرما رہے ہیں ۔

اُستاد شاگرد سے ۔۔بتاﺅ وہ کون ساوقت ہو گا جب باپ بیٹے کو ، بہن بھائی کو ، میاں بیوی کو نہیں پہچانے گا ؟ شاگر : جب عدالت میں کرپشن کا کیس چل رہا ہو ۔۔۔۔ لگتا ہے حشر کا میدان ابھی سے سج گیا ہے ۔۔

پڑھنے والوں کو ابھی سے بتا رہے ہیں کہ یکم جنوری کو اگلا چیف جسٹس ثاقب نثار ہوگا جو نواز شریف کے ستانوے کی دہائی میں سپریم کورٹ پر حملے کے وقت سیکریٹری قانون تھا ۔۔۔ صرف پینتالیس دن رہ گئے ہیں مسلمانوں ۔۔ جو کرنا ہے ابھی کر لو ۔

یہ ہم اس لئے بھی کہہ رہے ہیں کہ ۔۔۔ دھرنے والوں نے تو رکشہ کر لیا تھا ۔۔۔ پانامہ والے کہیں جج ہی نہ کر لیں ۔۔۔ ویسے بھی اُن پر ابھی ڈان نیوز لیک والی تلوار لٹکی ہوئی ہے ۔

تصویر کا دوسرا رخ دیکھیں تو کچھ مایہ ناز اینکرز چلا چلا کر نواز شریف کی کرپشن اور عمران خان کی عظمت کے گن گا رہے ہیں ۔۔۔ ان کی یہ حالت دیکھ کر ہمارا جج صاحب سے مطالبہ ہے کہ فیصلہ ثبوت دیکھ کر نہیں بلکہ ٹاک شو دیکھ کر کریں ۔۔کیونکہ شاید یہی آجکل کے انصاف کا تقاضا ہے ۔

امجد صابری کا قاتل عاصم عرف کبیری گرفتار کر لیا گیا اور یہ اعزاز بھی ایم کیو ایم سے چھین لیا گیا ۔۔۔ ملزم کبیری کا کہنا تھا کہ امجد صابری کو اس لئے قتل کیا کہ وہ مجالس عزا میں جایا کرتے تھے ۔۔۔ یعنی اہلِ بیعت سے نسبت بھی اس ملک میں ایک جرم ہے تو شیعہ ہونا کتنا بڑا گناہ ہو گا ؟

شاید قائد اعظم نے پاکستان بناتے وقت واضح نہیں کیا تھا ورنہ شیعہ خاندان ہجرت نہ فرماتے اس ملک میں ۔۔۔ دوسری جانب رینجرز اور پیرا ملٹری فورسز بدوستور پر عزم ہیں کہ اہل کراچی کے دلوں کو تبدیل کرکے فاتحہ زمانہ بن کر دکھا دیں گے ۔۔

ہمارا یہ کہنا ہے کہ محبت کوئی ٹریک تھوڑی ہے کہ چلتے چلتے بدل لیا جائے ۔۔۔ محبت تو ایک سکوت ہے ، ٹہراﺅ ہے ، مستقل مزاجی ہے !! یاد رہے کہ موسیٰ اپنے ساتھیوں سمیت دریا عبور کر گئے اور فرعون اپنے لشکر سمیت غرق ہو گیا تو ثابت ہوا کہ راستے نہیں رہبر بچاتے ہیں ۔

ظرف پیدا کر سمندر کی طرح ۔۔۔ وسعتیں ۔۔خاموشیاں ۔۔ گہرائیاں ۔۔حضور ۔۔ بانٹنے کی عادت ڈالیئے ، چیزیں بھی ، جذبے بھی اور خوشیاں بھی ۔۔بس جیو اور جینے دو سب کو ۔۔۔ کراچی بھی پاکستان کا حصہ ہے انہیں آزاد ی سے جینے دو کہیں آزادی کا نعرہ ہی نہ لگ جائے ۔

ویسے بھی کافر کافر شیعہ کافر کا نعرہ کھلے عام لگ ہی رہا ہے ۔۔۔ کیا یہ پاکستان زندہ باد ہے یا کچھ اور ؟ علما ئے سو کے لئے بس یہی کہہ سکتے ہیں کہ ۔۔۔ لاتے ہیں لوگ شہر بچانے کے واسطے / مٹی کا تیل آگ بجھانے کے واسطے ۔

خدارا ۔۔ اپنی خطابت کے جوہر دکھانے کے چکر میں معصوم عوام کی جانوں سے کھیلنا بند کیجئے ۔۔۔کاریگرانِ لفاظی کے لئے یہی کہا جاتا ہے کہ لفاظی ۔۔ ۔جو قولِ ذریں ، لکھتے ، پڑھتے اور سُنتے ہیں بس اُن پر عمل نہیں کرتے ۔۔۔

ہماری ایک ٹوئیٹ پر ہی کالم کا اختتام کرتے ہیں کہ ”چائے والے کے ملک میں ۔۔۔ لوہے والے کی حکومت ، لفافے والوں کی صحافت ، دہشت والوں کی امامت اور وردی والوں کی دہشت “ کیسے رہے پھرملک سلامت کون کہے گا زندہ باد ۔

مشورہ یہ ہے کہ اگر یہی سب جاری رکھنا ہے تو وزیر اعظم کو بادشاہ کا خطاب دے دیا جائے ، وزیر نورتن بن جائیں ، جمہوریت کو ملوکیت کا نام اور سپہ سالاروں کو اپنے ہی دیس کی گلیاں ، چوک ، بازار اور گھر فتح کرنے پر معمور کر دیا جائے جہاں چادر ، چہار دیواری ، مقدس مساجد ، آسمانی صحیفوں کی توہین کرنے کسی نیشنل ایکشن پلان میں جائز قرار دیا گیا ہو ۔

راقم کا علم سطحی ہے اور شاید یہ ایک قطعی ناکام ۔۔ پیاسا ۔۔ نا آسودہ ۔۔۔ نا مکمل اور ادھورا شخص ہے لیکن دنیا کے اسٹیج پر ہونے والے اس ڈرامے کو دیکھ کر بس یہی کہہ سکتا ہے کہ ۔۔

ایک ناٹک ہے زندگی جس میں
آہ کی جائے ۔۔۔ واہ کی جائے




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *