anees-farooqi

’’ انوکھا لاڈلا ۔۔۔ کھلن کو مانگے ۔۔۔ چاند ۔۔ نی ‘‘

کبھی الوداع نہ کہنا ۔۔کبھی الوداع نہ کہنا ۔۔ بہت سے بوٹ پالیشئے ٹی وی ہوسٹس جنرل راحیل کے لئے یہ گیت دعائیہ انداز میں ورد کی صورت پڑھ رہے ہیں آجکل ۔۔ لیکن جانے والے نے تو جانے کی ٹھان رکھی ہے ۔۔ حکومتِ وقت سے اتنی گزارش ہے کہ وہ جلد از جلد نئے چیف کے بوٹ کے سائز کا ہی کم از کم اعلان کر دے ۔

ویسے جتنا رونا اس وقت میڈیا نے ڈالا ہوا ہے ہمارے ایک غیر ملکی دوست نے انگریزی میں جو کہا اس کا اردو ترجمہ کچھ یوں بنتا ہے کہ ”تمہارا آرمی چیف ریٹائر ہو رہا ہے کوئی شاہی خاندان کی سلطنت کا تاج نہیں گر رہا ہے جو اسقدر سنجیدہ ہو رہے ہو تم لوگ“ ۔۔اب اس دوست کو کیا کہیں کہ ہمارے مغلوں نے جو وظیفے باندھنے کی روایت چھوڑی ہے وہ آج بھی جاری ہیں اس لئے کچھ اینکرز بہت دکھی محسوس ہو رہے ہیں ۔

کچھ میڈیا کی زبوں حالی بھی ذرا ملاحظہ فرمائیں ۔۔۔ ایک موقر جریدے کی ویب سائٹ نے چٹپٹی خبر لگائی کہ کاجل کے ہاں تین بچوں کی پیدائش ہوئی ہے ۔۔۔ بعد میں یہ بھی لکھا ہوا تھا کہ چڑیا گھر کی شیرنی کا نام کاجل تھا جس نے تین عدد بچے دیے تھے ۔۔۔اب سرخی سے لے کر تفصیل پڑھنے تک ہم پر جو گزری سو گزری ۔۔ ہم تو سوچ رہے ہیں کہ اس دوران اجے دیوگن پر کیا کیا قیامتیں بیت گئی ہوں گی ۔

ویسے ایمانداری کی بات ہے کہ نشانِ امتیاز (ملٹری)یافتہ جنرل راحیل کے ماموں میجر عزیز بھٹی اور بھائی شبیر شریف نے شہادت پا کر نشانِ حیدر پایا ۔۔۔ اس میں کیا شک ہے کہ وہ ایک جری اور بہادر فوجی خاندان کے سپوت ہیں ۔۔۔جس استقامت سے انہوں نے دہشت گردوں کو شکست دی ہے وہ کوئی بھی جمہوری شخص نہیں کر سکتا تھا ۔۔۔ لیکن یہ بھی یاد رہے کہ :

آئین توڑنے کے مجرم پرویز مشرف کو محفوظ راستہ فراہم بھی انہی کے دور میں کیا گیا تھا ۔۔۔دن دہاڑے ملک میں ڈکیتی مارنے والے دو وزرائے اعظم کے جرائم پر خاموش تماشائی کا کردار بھی انہوں نے ہی ادا کیا تھا ۔۔۔اپنے ہی ملک کے ایک علاقے کراچی میں غیر اعلانیہ مارشل لا بھی تاریخ میں ان کے نام رقم ہوگا ۔۔۔بلوچستان میں بلوچیوں کی نسل کشی پر میڈیا کی جبری زباں بندی اور مجرمانہ خاموشی کا ذمہ دار کس کو ٹہرایا جائے گا ۔۔۔لال مسجد سے لے کر حافظ سعید تک کے ملاوں کے سر پر دستِ شفقت کس کے دور میں رکھا گیا تھا۔

ان سب سوالوں کے جواب ملیں نہ ملیں لیکن اب یہ ایک تاریخ کا حصہ بن کر رہ گیا ہے جو کہ ایک تلخ حقیقت ہے ۔۔۔مزید اس عہدے پر قائم رہ کر جنرل راحیل اس فہرست کو طول دینے سے گریز پا ہیں ۔۔ یہ بات سمجھ میں آتی ہے ۔۔۔ ویسے میڈیا میں بوٹ پالیشیوں نے سفید ساڑھی پہن کر چوڑیاں توڑ دی ہیں اور اب نیا پے رول بننے تک بیوگی سی صورتحال رہے گی ۔

راحیل شریف کے جانے سے ایک شریف ختم ہو جائے گا جو کہ واقعی شریف ہے لیکن دو عدد پیچھے چھوڑ ے جا رہے ہیں جن پر تو کوئی عدالت بھی ایکشن لینے کو تیار نہیں ۔۔۔ نواز شریف کم از کم بڑھاپے میں ججوں کو گورنر تو لگوا ہی دیتے ہیں ۔۔۔پانامہ بھلایئے ۔۔مستقبل سنواریئے۔۔۔ اسکیم کچھ زیادہ بری نہیں ہے جناب ۔ ۔۔ وکالت ۔۔عدالت ۔۔ صحافت ۔۔۔ سبھی تو مستفید ہو رہے ہیں اس نئی اسکیم سے ۔

ویسے سمجھ نہیں آتا کہ پانامہ کیس میں کس بات کی رکاوٹ ہے ۔۔۔ثبوت در ثبوت ۔۔ عدالتی داو پیچ ۔۔۔ قانونی پیچیدگیاں ۔۔۔ جج صاحبان بھی ایک تاریخ رقم کر رہے ہیں ۔۔۔ وگرنہ بظاہر کوئی ایسی رکاوٹ نہیں ہے ۔۔۔ رکاوٹ تو اسے کہتے ہیں جو ٹورونٹو سے لاہور جانے والی پرواز کے ٹوائلٹ میں کسی نے پیدا کی تھی ۔۔۔ اسطرح کے کرشماتی اعجازات ہمارے مسافر اکثر فرماتے رہتے ہیں اور بدنام ائیرلائن کو ہونا پڑتا ہے ۔۔

اُدھر لندن میں عمران خان اپنے مصاحبین کے ساتھ ایک شادی کی تقریب میں شریک تھے جہاں بالی ووڈ کے ادکار انیل کپور بھی تھے اب انیل کپورکی فلم کا وہ گانا ”تو میری چاندنی “ ہمارے سابق صدر آصف علی زرداری کو اچانک یاد آگیا اور انہوں نے جھٹ اپنے ایک انٹرویو میں کہہ دیا کہ انوکھا لاڈلا کھلن کو مانگے ”چاندنی “۔ ۔۔ اب دو دنوں کی چاندنی پھر اندھیری رات ہوئے زیادہ عرصہ نہیں ہوا کہ تیسری بار پھر چاندنی ؟

واہ زرداری صاحب واہ ۔۔۔ آپ نے اپنی چاند جیسی بہو کے بجائے ۔۔ چاندنی جیسی بھابی کی کیا خوب پھل جھڑی چھوڑی ہے ۔۔۔ ویسے ان کی یہ بات آج کانوں میں گونج رہی ہے جس میں انہوں نے غالبا جنرل راحیل کو مخاطب ہو کر کہا تھا کہ یاد رہے کہ آپ لوگ صرف تین سال کے لئے آتے ہو جبکہ سیاستدانوں یہیں ہوتے ہیں ۔ ۔۔ مان گئے بھئی آپ کو ۔۔کیا بروقت گانا یاد آیا ہے آپ کو ۔۔۔ ” چاندنی ۔۔۔ تو میری چاندنی ۔۔۔ تو میری چاندنی ۔




Leave a Reply