677518-abdulqadircricketerphotofile-1481488225-970-640x480

یاسرشاہ نے کبھی مجھ سے مشورہ نہیں مانگا، عبدالقادر

677518-abdulqadircricketerphotofile-1481488225-970-640x480کراچی: سابق عظیم اسپن ماسٹر عبدالقادرسمجھتے ہیں کہ گگلی اور فلپر کے بغیر یاسر شاہ کو مشکل کا سامنا رہے گا، وہ کہتے ہیں کہ شاید انہیں گیند پر گرپ میں بھی دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
ان خیالات کا اظہار انھوں نے ’کرک انفو‘ ویب سائٹ کو دیے گئے انٹرویو میں کیا۔ یاسر شاہ کے حوالے سے عبدالقادر کا کہنا تھا کہ وہ ایک اچھے بولر ہیں ، جب میں 2009 میں چیف سلیکٹر تھا تب بھی وہ ہمارے پلان میں تھے، وہ ان 20 پلیئرز میں شامل تھے جن کے بارے میں میں نے پی سی بی سے کہاتھا کہ وہ مستقبل کے حوالے سے ان پلیئرز پر نظر رکھے۔ بغیر گگلی اور فلپر کے ایک لیگ اسپنر کو کسی نہ کسی موقع پر مشکل کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور یہی چیز میں نے ان میں بھی دیکھی ہے، میرے خیال میں وہ گگلی کرنے کی کوشش کرتے ہیں مگر وہ سیدھی چلی جاتی ہے ، جہاں تک ان کی فلپر کا تعلق ہے تو شاید انھیں گیند پر گرفت میں مشکل درپیش آتی ہے۔
ایک سوال پر عبدالقادر نے واضح کیا کہ یاسر شاہ نے کبھی ان سے اپنی بولنگ کے حوالے سے مشورہ نہیں مانگا، وہ کہتے ہیں کہ مجھے اس پر کوئی حیرت بھی نہیں ہے کیونکہ وہ شین وارن کو اپنا آئیڈیل سمجھتے اور ان سے ہی ملنے کے خواہاں رہتے ہیں، بہت سے بولرز میرے پاس آئے جن میں شین وارن، انیل کمبلے، شاہد آفریدی، اسٹورٹ میک گل شامل ہیں اب یہ ان پر ہے کہ وہ اس بات کا مجھے کریڈٹ دیتے ہیں یا نہیں۔عبدالقادر نے آسٹریلیا کے اپنے 1983 کے واحد ٹور میں مکمل طور پر ناکام رہنے کی بڑی وجہ وہاں کی ریتلی آؤٹ فیلڈ کو قرار دیا۔
یاسر شاہ کہتے ہیں کہ میں آؤٹ فیلڈ میں موجود خشک مٹی اپنی انگلیوں پر ملنے کا عادی تھا جس سے کے ساتھ تھوک کی آمیزش سے مجھے گیند پر گرفت مضبوط رکھنے میں مدد ملتی تھی مگر وہاں پر موجود ریتلی مٹی کی وجہ سے میری گیند پر گرفت مضبوط نہیں تھی اور نہ ہی میں اسے ٹھیک طور پر کنٹرول کرپایا۔ عبدالقادر نے کہا کہ ایک بار پی سی بی کے سابق سیکریٹری حسیب احسان نے انھیں جاوید میانداد کی ٹیم میں موجودگی کے باوجود کپتان بنانے کی پیشکش کی تھی مگر انھوں نے اسے ٹھکرا دیا تھا، وہ کہتے ہیں کہ تب میانداد ایچ بی ایل کی ٹیم میں میرے کپتان تھے میں ان کو بائی پاس کیسے کرسکتا تھا۔




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *