غیر ملکی سرمایہ کاروں نے بھی سی پیک کی تفصیلات مانگ لیں

759130-cpec-1488918938-300-640x480کراچی: پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے والی غیرملکی کمپنیوں کے نمائندہ اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے کے بھرپور فوائد حاصل کرنے کے لیے بزنس کمیونٹی کو اس منصوبے کے بارے میں زیادہ سے زیادہ معلومات فراہم کرنے، مقامی سطح پر دستیاب کمپونینٹس کا سی پیک پروجیکٹس میں استعمال لازمی قرار دینے اور مقامی صنعتوں کے تحفظات کے پیش نظر ممکنہ ڈمپنگ کی روک تھام کے لیے ڈیوٹی اور ٹیکسز کے موثر نفاذ کے ذریعے اینٹی ڈمپنگ ریجیم کو سخت بنانے کی تجویز دی ہے۔
او آئی سی سی آئی کے صدر خالد منصور نے ’’ایکسپریس‘‘ سے ملاقات میں بتایا کہ غیرملکی سرمایہ کار کمپنیاں اور کاروباری ادارے چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے کو پاکستان کی معیشت کے لیے حقیقی معنوں میں گیم چینجر سمجھتے ہیں اور اس بات پر پختہ یقین رکھتے ہیں کہ اس منصوبے کے نتیجے میں پاکستان کی صنعت اور معیشت کے لیے سب سے بڑی رکاوٹ توانائی کے چیلنج سے نمٹنے میں بھرپور مدد ملے گی اور پاکستان کے مینوفیکچرنگ سیکٹرکے ساتھ سروس سیکٹر بالخصوص ایس ایم ایز کو بھی فائدہ پہنچے گا، سی پیک کی افادیت مسلم ہے تاہم اس کے ساتھ جڑے ہوئے چیلنجز کا احاطہ کرنے کے لیے سی پیک منصوبے کی تفصیلات کا باریک بینی سے جائزہ لینا ہوگا۔
اس لیے ضروری ہے کہ اس منصوبے کی مکمل تفصیلات سے بزنس کمیونٹی کو آگاہ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ او آئی سی سی آئی کے مطابق پاکستان میں بہت سے شعبے مثلاً مکینیکل انڈسٹریز روبہ زوال ہیں اور حکومت سی پیک منصوبوں کے لیے مقامی کمپونینٹس کے استعمال کو لازمی بناکر ان صنعتوں کی بحالی کی راہ ہموار کرسکتی ہے، سی پیک منصوبے سے مقامی مینوفیکچرنگ انڈسٹری کے لیے بھرپور مواقع مہیا کرنے کے لیے ضروری ہے کہ کسٹم جنرل آرڈر نمبر 11 کو مقامی سطح پر تیار کردہ مصنوعات کی دستیابی کے لحاظ سے اپ ڈیٹ کیا جائے، اسی طرح سی پیک منصوبوں کے تحت لگنے والے نئے اکنامک زونز میں سرمایہ کاری کرنے والے مقامی سرمایہ کاروں کو بھی ٹیکس اور دیگر فسکل مراعات فراہم کی جائیں۔




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *