764323-StateBankPakistan-1489436838-880-640x480

بینکوں کو بین الاقوامی تجارت کے نام پر منی لانڈرنگ روکنے کی ہدایت

764323-StateBankPakistan-1489436838-880-640x480کراچی: اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے بین الاقوامی تجارت کی آڑ میں کی جانے والی منی لانڈرنگ کی روک تھام کے لیے بینکوں کو تجارتی لین دین میں انڈر انوائسنگ اور اوور انوائسنگ کے امکانات کو مدنظررکھتے ہوئے انتہائی احتیاط سے کام لینے اور جانچ پڑتال کی استعداد کو بہتر بنانے کی ہدایت کردی ہے۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر اشرف محمود وتھرا کے زیر صدارت غیرمعمولی اجلاس گزشتہ روز مرکزی بینک میں منعقد ہوا جس میں کمرشل بینکوں کے سربراہان نے شرکت کی۔ اس موقع پر میڈیا کو بریف کرتے ہوئے گورنر اسٹیٹ بینک نے بتایا کہ اگرچہ منی لانڈرنگ کی روک تھام کے لیے پہلے سے موثر قوانین موجود ہیں تاہم موجودہ حالات کے مطابق ان قوانین کی افادیت بڑھانے کے لیے بینکوں سے مشاورت کے بعد نئے فیصلے کیے گئے ہیں جن کے تحت بینکوں کو ٹریڈ بیسڈ منی لانڈرنگ کے سدباب اور غیر لائسنس یافتہ فاریکس آپریٹرز کو بینکاری خدمات کی فراہمی میں احتیاط برتنے اور اپنے عملے کی صلاحیتوں اور نگرانی کے نظام کو بہتر بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔
گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ یہ بات اچھی طرح سب کے علم میں ہے کہ تجارتی لین دین میں انڈر انوائسنگ اور اوور انوائسنگ کے امکانات موجود ہوتے ہیں جوکسی مالیت کو بیرون ملک منتقل کرنے میں سہولت فراہم کرتے ہیں، اس سلسلے میں بنیادی ذمے داری پاکستان کسٹمز کی ہے تاہم چونکہ دستاویزات کا لین دین ہوتا ہے اور ایل سیز (لیٹر آف کریڈٹ) کا تصفیہ باقاعدہ بینکوں کے ذریعے ہوتا ہے اس لیے ضروری ہے کہ بینک بیرونی تجارتی لین دین کی کارروائی کرتے وقت انتہائی احتیاط سے کام لینے اور جانچ پڑتال کرنے کے ضمن میں اپنی استعداد بڑھائیں۔




Leave a Reply