خون کے ٹیسٹ سے کینسرکی تشخیص ممکن

760607-bld-1489065977-377-640x480سان ڈیاگو: یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کے سائنسدانوں نے جسم میں کینسر شناخت کرنے والا بلڈ ٹیسٹ وضع کرلیا ہے جسے’’لِکوئیڈ بایوپسی‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔
کینسر کی شناخت کرنے والے اس نظام کے بعد تکلیف دہ روایتی بایوپسی میں اعضا کے ٹکڑے نوچنے کی ضرورت نہیں رہے گی۔ اس نظام کے لیے سائنسدانوں نے دس طرح کی بافتوں (ٹشوز) سے خارج ہونے والے ڈی این اے کو اس خون کے ٹیسٹ سے شناخت کیا ہے جن میں جگر، پھیپھڑے اور گردے وغیرہ شامل ہیں یعنی ان اہم اعضا کے سرطان کی فوری اور آسانی سے تشخیص کی جاسکتی ہے۔ اس طرح مائع بایوپسی سے ابتدائی مرحلے میں کینسر کا فوری طور پر پتا لگایا جاسکتا ہے۔ پہلے مرحلے میں کینسر کی شناخت سے اس مرض کو قابو کرنے میں غیرمعمولی کامیابی ملتی ہے۔
توقع ہے کہ مائع بایوپسی کے ذریعے کینسر کے علاج کی انقلابی راہیں کھلیں گی اور ان کے جسم میں پھلنے پھولنے والے سست رفتار کینسر کی باآسانی شناخت کرنے میں مدد ملے گی۔ ماہرین کا کہنا ہےکہ جیسے ہی کینسر صحتمند خلیات پر حملہ آور ہوتا ہے تو وہ بعض اقسام کے ڈی این اے بھی خارج کرتا ہے جو خون میں سرایت کرکے بدن میں گھومتے رہتے ہیں اور ڈی این اے کو اس کے خواص کی بنا پر شناخت کیا جاسکتا ہے۔




Leave a Reply