765250-wheatprocurement-1489524137-352-640x480

مہنگی گندم گلے پڑ گئی، فائدے کے بجائے بھاری نقصانات کا خدشہ

765250-wheatprocurement-1489524137-352-640x480کراچی: گندم کے بھاری ذخائر کے باوجود پاکستان فاضل گندم فروخت نہیں کرسکتا جس کی بڑی وجہ زائد قیمتیں ہیں اور یہ غلط سرکاری پالیسیوں کا نتیجہ ہے جس کی وجہ سے مسلسل اچھی پیداوار کا پھل کاشت کار کو مل رہا ہے نہ عوام کو، بلکہ ملکی صارفین مہنگی گندم خریدنے پر مجبور ہیں۔
فلورملزانڈسٹری کے باخبرذرائع نے ’’ایکسپریس‘‘ کو بتایا کہ رواں سال 30 مئی2017 تک گندم کی 2.5 کروڑ ٹن پیداوارکا تخمینہ لگایا گیا ہے جبکہ کھپت 1 کروڑ 70تا 80 لاکھ ٹن سالانہ ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ گندم کی مجموعی پیداوار میں72 فیصد حصہ پنجاب کا ہے جبکہ سندھ کا حصہ 25 فیصد ہے، پنجاب کے پاس سالانہ22 لاکھ ٹن، سندھ 6 لاکھ40 ہزار ٹن اور پاسکوکے پاس12 لاکھ ٹن گندم ذخیرہ کرنے کی گنجائش ہے، ملک میں بڑے پیمانے پر فاضل ذخائر کو محفوظ بنانے کی صلاحیت نہ ہونے کی وجہ سے ہرسال مجموعی پیداوار کا10 فیصد گندم ضائع ہو جاتی ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ بدلتے عالمی رحجانات اور زمینی حقائق کے تناظر میں پالیسی سازوں کی جانب سے سرپلس گندم کی برآمدات سے متعلق فیصلوں کے فقدان کے سبب گزشتہ 3 سال سے گندم کے سرپلس ذخائر کا حجم بڑھتا جارہا ہے جو نہ صرف ملک کو متوقع زرمبادلہ کی آمدنی سے محروم کررہا ہے بلکہ حکومت کے لیے بھی بھاری خسارے کا سبب بن رہا ہے۔ پاکستان فلورملزایسوسی ایشن کے سابق چیئرمین چوہدری یوسف نے بتایا کہ بین الاقوامی مارکیٹ میں گندم کی قیمت170 ڈالر فی ٹن اور پاکستان میں330 ڈالر فی ٹن ہے، یہی وجہ ہے کہ وفاق اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے گندم کی برآمد پر 120 ڈالر فی ٹن مشترکہ زرتلافی (ری بیٹ) دینے کے باوجود پاکستانی گندم کی برآمدی سرگرمیاں نہ ہونے کے برابر ہیِں، یہی وجہ ہے کہ ملک میں گندم کے سرپلس ذخائرکا حجم بڑھتا جارہا ہے۔




Leave a Reply