769682-cars-1489980273-906-640x480

ملک میں نئی گاڑیوں کی بلیک مارکیٹنگ عروج پر پہنچ گئی

769682-cars-1489980273-906-640x480کراچی: پاکستان میں گاڑیوں کی طلب میں نمایاں اضافے کے ساتھ ہی گاڑیوں کی بلیک مارکیٹنگ بھی عروج پر پہنچ گئی ہے۔
آل پاکستان موٹر ڈیلرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین ایچ ایم شہزاد کے مطابق نئی گاڑیوں کی مارکیٹ میں ملکی مسابقتی قوانین کی کھلم کھلا دھجیاں بکھیری جارہی ہیں تاہم وفاقی وزارت صنعت و پیداوار اور مسابقتی کمیشن کی جانب سے کوئی اقدام نہیں اٹھایا جارہا دوسری جانب قومی آٹو پالیسی کے ذریعے صارفین کو گاڑیوں کی بروقت فراہمی اور بلیک مارکیٹنگ کی روک تھام کے لیے اٹھائے گئے اقدامات پر عمل درآمد نہ ہونے کی وجہ سے آٹو پالیسی بھی غیرموثر ہوکر رہ گئی ہے۔
ایچ ایم شہزاد نے دعویٰ کیا ہے کہ ملک میں 70فیصد نئی گاڑیاں بلیک مارکیٹنگ مافیا کے ذریعے فروخت کی جارہی ہیں۔ گاڑیوں کے مقبول ماڈلز پر اوسطاً ڈیڑھ لاکھ سے2 لاکھ روپے بلیک منی وصول کی جارہی حال ہی میں متعارف کرائے گئے ماڈلز پر تین لاکھ روپے تک کی بلیک منی وصول کی جارہی ہے۔




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *