770785-babri-1490094536-403-640x480

بھارتی سپریم کورٹ کا بابری مسجد کا تنازعہ باہمی گفت و شنید سے حل کرنے کا مشورہ

770785-babri-1490094536-403-640x480نئی دہلی: بھارتی سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ بابری مسجد کا تنازعہ فریقین آپس میں پرامن مذاکرات سے حل کریں اور اگر وہ تیار ہوں تو سپریم کورٹ کے کسی جج کو ثالث بھی مقرر کیا جاسکتا ہے۔
تین رکنی بنچ کے سربراہ اور چیف جسٹس انڈین سپریم کورٹ جے ایس کھیہر کا کہنا تھا کہ عدالت اس مقدمے کے بارے میں فیصلہ دینے کا اختیار رکھتی ہے جسے تمام فریقین کو تسلیم بھی کرنا ہوگا لیکن ایسے حساس معاملے میں بہتر ہوگا کہ فریقین آپس میں گفت و شنید کے ذریعے اس تنازعے کو ’’کچھ لو اور کچھ دو‘‘ کے اصول پر عمل کرتے ہوئے خود حل کریں۔ انہوں نے تجویز دی کہ فریقین تیار ہوں تو ان کی باہمی رضامندی سے سپریم کورٹ کے کسی بھی جج کو اس معاملے میں ثالث مقرر کیا جاسکتا ہے۔
یاد رہے کہ مغل بادشاہ ظہیر الدین بابر کے دورِ حکومت میں تعمیر کی گئی بابری مسجد موجودہ ہندوستانی ریاست اُتر پردیش (یو پی) میں ایودھیا (اجودھیا) کے مقام پر واقع ہے جس پر 1992 میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی ایما پر انتہاء پسند ہندو جماعت ’وشوا ہندو پریشد‘ کے دہشت گردوں نے دھاوا بول دیا تھا اور مسجد شہید کردی تھی۔ اس واقعے کے بعد بھارت میں ہندو مسلم فسادات پھوٹ پڑے جن میں 2000 سے زیادہ مسلمان شہید کردیئے گئے۔




Leave a Reply