776358-TAX-1490647136-881-640x480

بیرون ملک نجی ادائیگیاں 15 فیصد ٹیکس کٹوتی سے مشروط کرنے کا فیصلہ

776358-TAX-1490647136-881-640x480اسلام آباد: وفاقی حکومت نے 15 فیصد ٹیکس ادائیگی کا چالان جمع کرائے بغیر نان ریزیڈنٹس کو ادائیگیوں کے لیے بیرون ملک رقم منتقل کرنے پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کے لیے انکم ٹیکس رولز میں ترمیم کی جارہی ہے اور صرف ایگزمشن سرٹیفکیٹ رکھنے والوں کو مذکورہ ٹیکس کی ادائیگی کے بغیر رقم بیرون ملک بھجوانے کی اجازت ہوگی۔
’ایکسپریس‘ کو دستیاب دستاویز کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) نے ٹیکس کٹوتی کے بغیر بیرون ملک رقم کی منتقلی پر پابندی کے لیے انکم ٹیکس رولز میں ترامیم کا مسودہ تیار کر لیا ہے اور متعلقہ اسٹیک ہولڈرز سے اس مسودے پر 7 دن کے اندر اندر اپنی آرا و اعتراضات جمع کرانے کا کہا گیا ہے، مذکورہ مدت کے بعد کوئی اعتراض یا تجویز قبول نہیں کی جائے گی۔
دستاویز کے مطابق انکم ٹیکس رولز 2002 کی شق 43 بی میں ترمیم کی جا رہی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ پاکستان سے کسی بھی بینک یا بینکنگ کمپنی کے ذریعے نان ریذیڈنٹس کو رقوم کی منتقلی کے لیے پیشگی ٹیکس کٹوتی کرنا ہوگی اور کوئی بینک یا بینکنگ کمپنی 15 فیصد ٹیکس کٹوتی کا چالان وصول کیے بغیر نان ریذیڈنٹ کو پاکستان سے باہر پیسہ منتقل نہیں کرسکے گی۔ جس ادارے یا شخص نے بیرون ملک نان ریذیڈنٹ پاکستانیوں کو پیسہ بھجوانا ہوگا اس ادارے اور شخص کو مجموعی رقم پر15 فیصد ٹیکس کٹوتی کا جمع شدہ چالان کی کاپی متعلقہ بینک اور بینکنگ کمپنی کو فراہم کرنا ہوگی کیونکہ کوئی بھی بینک یا بینکنگ کمپنی ٹیکس کٹوتی کے چالان کی کاپی وصول کیے بغیر رقم بیرون ملک منتقل نہیں کرسکے گی۔




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *