زیتون کا تیل، گری دار پھلیاں اور ایوا کاڈو لمبی عمر میں مددگار

786689-fats-1491593332-846-640x480لندن: ماہرین کا تحقیق کے بعد کہنا ہے کہ زیتون کا تیل، گری دار پھلیاں (نٹس) اور مگرناشپتی (ایواکاڈو) کا امتزاج آپ کی طویل اور صحتمند زندگی کے لئے مددگار ثابت ہوسکتے ہیں۔
ماہرین نے ان تینوں غذاؤں کو تجربہ گاہ میں بعض کیڑوں پر آزمایا جس سے ان کی زندگی میں اضافہ نوٹ کیا گیا لیکن ماہرین کا خیال ہے کہ تھوڑا موٹا ہونے کے باوجود بھی اس سے وابستہ امراض مثلاً ذیابیطس اور امراضِ قلب کا خطرہ نہیں بڑھے گا کیونکہ ان غذاؤں میں دل اور لبلبے کے لیے بہتر چکنائیاں موجود ہوتی ہیں لیکن ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اسے استعمال کرنے والے لوگ تیزی سے موٹے بھی ہوسکتے ہیں۔
اگرچہ کیڑوں اور انسانوں میں بہت فرق ہوتا ہے لیکن ماہرین کا اصرار ہے کہ اس سے قبل تجربہ گاہ میں کیڑوں پر کئی اشیا آزمائی گئیں جو انسانوں کے لیے بھی مؤثر ثابت ہوئی ہیں۔ امریکی جریدے نیچر میں شائع ہونے والی اس رپورٹ کی مرکزی محقق اور مصنف ڈاکٹر این برونیٹ ہیں جن کے مطابق دبلے پتلے جاندار زیادہ عرصے زندہ رہتے ہیں لیکن اس کے برخلاف تجربہ گاہ میں موٹے جاندار زیادہ عرصے تک زندہ رہے جو ایک انوکھی بات بھی ہے۔
اس تحقیق میں کیچووں (راؤنڈ ورم) کو مونو ان سیچوریٹڈ فیٹی ایسڈز دیئے گئے جو ذیابیطس اور دل کے امراض کم کرنے کی شہرت رکھتے ہیں۔ کیچوے عموماً دو ہفتے زندہ رہتے ہیں لیکن جب انہیں زیتون کے تیل، میووں اور ایواکاڈو کے اجزا دیئے گئے تو وہ اوسطاً دو دن مزید زندہ رہے۔
اب ماہرین اس عمل کو سمجھنے کی کوشش کررہے ہیں کہ آخر یہ کیوں اور کیسے ہوا ہے۔ اس سے قبل خود انسانوں پر بھی ان تینوں اجزا کے دل اور شوگر پر بہتر اثرات نوٹ کئے جا چکے ہیں۔ اس کے علاوہ ان تینوں غذاؤں میں اینٹی آکسیڈنٹ موجود ہیں جو سوزش اور اس سے وابستہ دیگر امراض کم کرتے ہیں تاہم ماہرین نے ان تینوں اشیا کے اندھا دھند استعمال سے منع کیا ہے اور اس میں اعتدال کا رویہ اپنانے کا مشورہ دیا ہے۔




Leave a Reply