مشکوک کلیمز، ایف بی آر نے ریفنڈز کی ادائیگیاں روک دیں

787655-FBRnew-1491710211-771-640x480کراچی: ایف بی آر نے برآمدی شعبوں کو زیروریٹڈ کیے جانے کے باوجود سیلزٹیکس ریفنڈ کلیمز کی بلند شرح کے باعث تمام ریفنڈپے منٹ آرڈرز (آرپی اوز) کو چھان بین کے لیے متعلقہ لارج ٹیکس پیئریونٹس اور ریجنل ٹیکس آفسز کو ارسال کر دیے ہیں۔
ایف بی آر کی جانب سے تمام چیف کمشنرزان لینڈ ریونیو ایل ٹی یوز/ آرٹی اوزکوبھیجے خط میں ہدایت کی ہے کہ مالی سال2016-17 کے ریفنڈکلیمز کے لیے جاری کردہ آرپی اوز کی اچھی طرح چھان بین کے بعد 30 اپریل2017 تک رپورٹ مرتب کرکے ہیڈکوارٹرز ارسال کی جائے۔
خط میں کہا گیا ہے کہ برآمدی شعبے نے یقین دہانی کرائی تھی کہ زیروریٹنگ سہولت کے بعد سیلزٹیکس ریفنڈ کلیمز میں نمایاں کمی آئے گی تاہم مزکورہ شعبوں کی جانب سے داخل کرائے گئے گوشواروں کی جانچ پڑتال سے انکشاف ہوا ہے کہ سیلزٹیکس ریفنڈ کی شرح اب بھی بلند سطح پر ہے، اس لیے ریونیو کے تحفظ اورغلط ریفنڈز کے خدشات کے پیش نظر مالی سال2016-17 کے تمام ریفنڈ پے منٹ آرڈرز جن کا ریفنڈ برائے برآمدات تناسب زیادہ ہے کومتعلقہ ایل ٹی یوزاور آرٹی اوز میں مناسب جانچ پڑتال اور سیلزٹیکس آٹومیٹڈ ریفنڈ ریپوزیٹری (ایس ٹی اے آرآر) ای سسٹم کے ذریعے پروسیسنگ کے لیے دوبارہ بھیجا جا رہا ہے۔
دوسری جانب تمام ایل ٹی یوزاور آرٹی اوز کوجانچ پڑتال کے لیے ہدایت دی گئی ہے کہ ریفنڈ کلیمزکا ایکسپورٹ سے تعلق ثابت ہونا چاہیے، پیکیجنگ میٹریل پرریفنڈکلیم ممنوع ہے، خریداری وفروخت کی تفصیلات اشیاء کی معلومات وغیرہ جو گوشواروں میں دی گئی ہیں کوریفنڈ کلیم کے ساتھ مطابقت دیکھی جائے، کلیم کیا گیا ان پٹ ٹیکس سیلزٹیکس ایکٹ کی متعلقہ شقوں کے مطابق ہو۔ مشکوک ریفنڈ کی صورت میں سیکشن10(3) کے مطابق تحقیقات اور آڈٹ کیا جائے اور مذکورہ جانچ پڑتال کے بعد حقیقی یا اصل رقم کا ریفنڈ پے منٹ آرڈرجاری کیا جائے، یہ عمل 30 اپریل2017 تک مکمل کرکے رپورٹ ایف بی آرہیڈکوارٹرز کوبھیجی جائے۔




Leave a Reply