789361-pakwestindiesndodi-1491855141-982-640x480

پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان تیسرا ون ڈے آج کھیلا جائے گا

789361-pakwestindiesndodi-1491855141-982-640x480پروویڈینس: ویسٹ انڈیز اورپاکستان کے درمیان تیسرا ون ڈے منگل کو کھیلا جائے گا، گرین شرٹس ٹرافی ہاتھوں میں تھامنے کیلیے مچلنے لگے۔
پاکستان نے دوسرے ون ڈے میں 74 رنز کی شاندار کامیابی سے ویسٹ انڈیز کیخلاف 3 میچز کی سیریز 1-1 سے برابر کردی تھی، اس کامیابی میں جہاں بابر اعظم کی ناقابل شکست سنچری نے اہم کردار ادا کیا وہیں حسن علی کی خطرناک بولنگ نے بھی برابر کا حصہ ڈالا۔
283 رنزکا تعاقب کرنے والی میزبان ٹیم 45 ویں اوور میں208 رنز پر آؤٹ ہوگئی، کپتان جیسن ہولڈر نے سب سے زیادہ 68 اور ایشلے نرس نے 44 رنز اسکور کیے۔ مگر ان کی یہ کاوش ٹیم کو فتح دلانے میں ناکافی ثابت ہوئی، حسن علی نے 38 رنز کے عوض 5 وکٹیں لیں جبکہ محمد حفیظ نے 23 رنز دے کر 2کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔
اب سیریز برابر ہونے کے بعد دونوں ٹیمیں فیصلہ کن معرکے میں اپنی دھاک بٹھانے کیلیے پُرعزم ہیں تاہم گرین شرٹس کا مورال گزشتہ میچ میں شاندار کارکردگی کی وجہ سے زیادہ بلند اور وہ سیریز اپنے نام کرنے کیلیے بھی پُراعتماد ہیں۔
دوسرے ون ڈے کے ہیرو بابر اعظم نے کہاکہ میں پہلے ہی سے آخر تک بیٹنگ جاری رکھنے کا ذہن بناکر آیا تھا اور خوش قسمتی سے مقصد میں کامیاب بھی رہا، میں جس نمبر پر بھی بیٹنگ کروں صرف ٹیم کے کام آنا چاہتا ہوں۔ بابرکو اپنی 132 بالز پر مشتمل 125 رنز ناٹ آؤٹ کی اننگز کے دوران آل راؤنڈر عماد وسیم کی بھی مدد حاصل رہی، جنھوں نے ناٹ آؤٹ 43 رنز بنانے کے ساتھ بابر اعظم کے ہمراہ 11 اوورز میں چھٹی وکٹ کیلیے 99 رنز کی ناقابل شکست شراکت سے ٹیم کو فتح سے ہمکنار کیا۔
تیسرے ون ڈے میں پاکستان کی جانب سے گزشتہ مقابلے کی کامیاب الیون کو برقرار رکھا جانے کا امکان ہے، وہاب کی جگہ اگرچہ جنید خان کو میدان میں اتارا گیا تاہم وہ بھی 6 اوورز میں 41 رنز دے کر صرف ایک ہی وکٹ حاصل کرپائے تھے۔ جہاں حسن علی اور حفیظ نے اچھی بولنگ کی وہیں ابھی تک محمد عامر اور لیگ اسپنر شاداب خان خاص کارکردگی پیش نہیں کرپائے، لیگ اسپنر ون ڈے سے قبل میزبان کے خلاف 4 میچز میں 10 وکٹیں لے کر سب سے آگے رہے تھے،اسی طرح 4 برس بعد ٹیم میں واپس لوٹنے والے کامران اکمل بھی ابتدائی 2 اننگز میں 47 اور 21 رنز بنا پائے جس کی وجہ سے ان پر بڑی اننگز کیلیے دباؤ بڑھنے لگا ہے، اگرچہ انھوں نے قائداعظم ٹرافی سیزن میں 1035 رنز بنائے تھے مگر انھیں ویسٹ انڈیز سے ٹیسٹ سیریز کیلیے منتخب نہیں کیا گیا۔
دوسری جانب میزبان ٹیم ہوم کنڈیشنز سے فائدہ اٹھاتے ہوئے گرین شرٹس کا صفایا کرنے کا عزم کیے ہوئے ہے،آخری مرتبہ کیریبیئن ٹیم نے1991 میں باہمی ون ڈے سیریز میں پاکستان ٹیم کو 2-0 سے مات دی تھی، اس لیے اب وہ دستیاب موقع سے بھرپورفائدہ اٹھاتے ہوئے سیریز نہ جیتنے کی 26 سالہ پیاس بجھانا چاہتے ہیں۔
اگرچہ مہمان بیٹنگ لائن میں کافی گہرائی ہے لیکن میزبان سائیڈ نے خاص طور پر بابر اعظم کو ہی سب سے بڑا خطرہ قرار دیدیا ہے، وہ ان کیخلاف گزشتہ پانچ میچز میں چار سنچریاں بنا چکے ہیں،ان کو قابو کرنے کیلیے خصوصی حکمت عملی تیار کی گئی ہے،اسی طرح کوچنگ اسٹاف نے بیٹسمینوں کو حسن علی کا ڈٹ کر سامنا کرنے کا سبق پڑھا دیا ہے۔




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *