پاکستان اور ایران نے تجارتی لین دین کا طریقہ کار طے کرلیا

پاکستان اور ایران نے تجارتی لین دین کا طریقہ کار طے کرلیا، اس مقصد کے لیے اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نے مذکورہ نظام کا حصہ بننے کے لیے فارن ایکس چینج کے مجاز ڈیلرز (بینکوں) سے 31مئی تک تحریری درخواستیں طلب کر لی ہیں اور ساتھ ہی درآمدی وبرآمدی پروسیسنگ کی تفصیل بھی جاری کردی ہے۔
ایس بی پی کی جانب سے گزشتہ روز فارن ایکس چینج کے مجاز ڈیلرز کے صدور اور چیف ایگزیکٹوز کو سرکلر جاری کردیا گیا ہے۔ سرکلر کے مطابق پاکستان اور ایران کے درمیان تجارت میں سہولت کی فراہمی کے لیے اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) اور بینک مرکزی جمہوریہ اسلامی ایران (بی ایم جے آئی آئی) نے پیمنٹ سیٹلمنٹ میکنزم تیار کیا ہے تاکہ دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی لین دین کا تصفیہ کیا جا سکے۔
مذکورہ طریقہ کار ایس بی پی کی جانب سے وقتاً فوقتاً جاری کردہ ہدایات کے مطابق تجارتی لین دین کے تصفیے کے لیے منظور شدہ دیگر طریقوں میں رکاوٹ نہیں ڈالے گا بلکہ ایک اضافہ طریقہ ہوگا۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق پاکستان اور ایران کے درمیان اشیا اور خدمات کی تجارت کی ادائیگیوں کے لیے یہ طریقہ کار دستیاب ہوگا، اس طریقہ کار کے تحت لین دین کا تصفیہ یورو یا جاپانی ین میں کیا جائے گا اور یہ آئی سی سی سے شائع شدہ یونی فارم کسٹمز اینڈ پریکٹس فار ڈاکیومینٹری کریڈٹس یو سی پی 600 کے مطابق دستاویزی لیٹر آف کریڈٹ (ایل سیز) پر مبنی ہوگا، اس میکنزم میں لین دین کی پروسیسنگ کے طریقے کے تحت پاکستان کی درآمدی ادائیگیوں کے لیے پاکستان میں درآمدکنندہ کا بینک زرمبادلہ (ایل سی کی رقم) ایس بی پی کے نوسٹرو اکاؤنٹ میںمنتقل کرے گا تاکہ ایرانی ایکسپورٹر کو ادائیگی کی جا سکے اور اس سے ایس بی پی کو بطور ضمیمہ اے منسلک فارمیٹ کے مطابق آگاہ کرے گا۔




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *