831587-generator-1496174101-330-640x480

رمضان میں بدترین لوڈ شیڈنگ سے جنریٹرزکی فروخت بڑھ گئی

رمضان المبارک میں لوڈشیڈنگ اورگرمی کے مارے شہریوں نے جنریٹرز کی خریداری شروع کردی، شہر کے مختلف علاقوں میں طویل لوڈشیڈنگ کے دوران مسلسل چلائے جانے کی وجہ سے جنریٹرز خراب ہوگئے جس سے جنریٹرز مرمت کرنے والوں کی بھی چاندی ہوگئی۔
ماہ رمضان میں گرمی اور لوڈ شیڈنگ کے ستائے شہریوں نے زحمت سے بچنے کے لیے جنریٹرز کی خریداری شروع کردی ہے جس کی وجہ سے جنریٹرز کی دکانوں اور بازاروں میں رش بڑھ گیا ہے ٹاور پر واقع مرکزی جنریٹر مارکیٹ کے دکانداروں کے مطابق حالیہ دنوں میں جنریٹرز کی فروخت یکدم 30 سے 40 فیصد تک بڑھ گئی ہے جس کی بنیادی وجہ گرم موسم اور کے الیکٹرک کے نظام میں پائی جانے والی خامیاں اور لوڈ شیڈنگ کا طویل دورانیہ ہے وزارت پانی وبجلی کی جانب سے اگرچہ اعلان کیا گیا تھا کہ سحری اور افطار کے اوقات میں لوڈ شیڈنگ نہیں کی جائیگی تاہم مسلسل دو روز سے شہر کے مختلف علاقوں میں دن کے مختلف اوقات کے علاوہ سحر اور افطار میں بھی لوڈ شیڈنگ کا سامنا کرنا پڑرہا ہے جنریٹرز کے دکانداروں کے مطابق مارکیٹ میں اس وقت 80 فیصد چائنا کے جنریٹرز فروخت ہورہے ہیں ۔
جن میں معیار اور قیمت کے لحاظ سے 3 اقسام ہیں گھریلو سطح پر استعمال کے لیے زیادہ تر ایک کلو واٹ اور تین کلو واٹ کے جنریٹرز فروخت ہورہے جنھیں گیس پر چلانے کے لیے گیس کٹ الگ سے نصب کی جاتی ہے کراچی میں گیس پر چلائے جانے کی وجہ سے بہت سی کمپنیوں کی جانب سے فیکٹری فٹڈ گیس کٹ کے ساتھ جنریٹرز فروخت کیے جارہے ہیں گھروں میں خواتین کو جنریٹرز چلانے میں دشواری کا سامنا ہوتا ہے اس لیے اب ڈوری اسٹارٹ کی جگہ زیادہ تر اگنیشن سے اسٹارٹ ہونے والے جنریٹرز کی مانگ بڑھ گئی ہے جن کی قیمت عام جنریٹرز سے 6 سے 7ہزار روپے تک زائد ہے چھوٹی دکانوں کے لیے ٹو اسٹروک کا چھوٹا جنریٹر اب بھی پائیدار انتخاب ہے زیادہ تر دکاندار ایک سے دو پنکھے اور چار سے چھ بلب چلانے کے لیے پٹرول سے چلنے والے ٹو اسٹروک جنریٹرز خرید رہے ہیں۔




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *