874372-Jansherkhanphotofile-1499888990-538-640x480

اعلیٰ مقام کیلیے سخت محنت کی ضرورت ہے، جان شیر

 عالمی شہرت یافتہ اسکواش لیجنڈ جان شیرخان نے کہا ہے کہ اسکواش میں اعلیٰ مقام بنانے کیلیے نوجوان کھلاڑیوں کوسخت محنت کو اپنا شعار بنانا ہوگا، قومی کھلاڑیوں کوعالمی رینکنگ میں جگہ بنانے کیلیے زیادہ سے زیادہ ٹورنامنٹس میں شرکت کرنے کی ضرورت ہے، پاکستان اسکواش فیڈریشن کی مثبت حکمت عملی اورکاوشوں کی وجہ سے ملک میں انٹرنیشنل اسکواش کے ایونٹس کے لیے فضا بحال ہوجائے گی۔

پاکستان اورعالمی کھلاڑیوں کے درمیان اسکواش سیریز کے کامیاب انعقادکے بعد ملک میں پروفیشنل اسکواش ایسوسی ایشن (پی ایس اے)کے مقابلے جلد بحال ہوں گے۔ ملک میں اسکواش کا کھویا ہوا مقام حاصل کرنے کیلیے کھلاڑیوں کو سخت محنت کی ضرورت ہے، جونیئرکھلاڑیوں کو تربیت دی جا رہی ہے،آئندہ 10ماہ تک اچھے جونئیر کھلاڑی سامنے آئیں گے۔ پاکستان اسپورٹس کمپلیکس کے محصف اسکواش کمپلیکس میں صحافیوں سے گفتگوکرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں اسکواش کاکافی ٹیلنٹ موجودہے، قومی کھلاڑی سخت ٹریننگ نہیں کرتے اس وجہ سے وہ فٹ نہیں ہوتے، انھیں عالمی سطح پر ملک کانام روشن کرنے کیلیے سخت تربیت کی ضرورت ہے۔ جان شیرخان نے کہا کہ پاکستان میں9 سال کے بعد پی ایس اے کے مقابلے بحال ہوچکے ہیں۔

عالمی کھلاڑیوں نے پاکستان میں سیکیورٹی کی تعریف بھی کی اور پاکستان کوکھیلوں کے لیے سازگارملک بھی قراردیا، تاہم ملک میں سیکیورٹی کی وجہ سے پی ایس اے نے دوبارہ پروفیشنل اسکواش ایسوسی ایشن کے مقابلوں پر پابندی لگائی ہے۔ قمرزمان اورمیں نے خود پروفیشنل اسکواش ایسوسی ایشن کو ملک میں پی ایس اے کے مقابلے بحال کرنے کیلیے مراسلے بھجوائے ہیں، سابق عالمی نمبرون جان شیرخان نے کہاکہ فیڈریشن کی کوششوں کی وجہ سے پاکستان اور عالمی کھلاڑیوں کے درمیان ٹیسٹ اسکواش سیریزکا انعقادکیاگیا ہے جس کا باضابطہ طور پر آغاز ہوچکا ہے اور یہ مقابلے جمعرات کو اختتام پذیر ہوںگے۔ اس کے بعد مصر اور پاکستان کے درمیان ٹیسٹ اسکواش سیریز 15 اور16جولائی کو اسلام آباد میں کھیلی جائے گی۔




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *