ٹیلی کام وبینکاری سیکٹرکافرانزک آڈٹ التواکا شکار

صوبوں نے وفاق کی سطح پر ملک کی 6ٹیلی کام کمپنیوں اور8بینکوں کا فرانزک آڈٹ کرنے کی مخالفت کردی ہے جس کے باعث ٹیلی کام کمپنیوں اور بینکوں کے فرانزک آڈٹ کا معاملہ التوا کا شکار ہوگیا ہے جبکہ صوبوں کا کہنا ہے کہ وفاق کے ساتھ صوبائی ٹیکس قوانین کے تحت بھی ٹیلی کام کمپنیوں و بینکوں کے فرانزک آڈٹ میں صوبوں کو بھی شامل کیا جائے۔

ذرائع کے مطابق ٹیکس اصلاحات عملدرآمد کمیٹی کی منظوری کے بعد 6 ٹیلی کام کمپنیوں اور 8بینکوں کا فرانزک آڈٹ کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا جس کے لیے بین الاقوامی تجربہ کے حامل فرانزک آڈیٹرز کی خدمات حاصل کرنا تھیں مگر اب صوبوں کی جانب سے اعتراض اٹھادیا گیا ہے اور صوبوں کا کہنا ہے کہ ٹیلی کام سروسز پر جنرل سیلز ٹیکس کا نفاذ صوبائی معاملہ ہے اور وفاق کا حصہ بہت کم ہے جبکہ زیادہ تر حصہ صوبوں کا ہے اس لیے اگر ٹیلی کام کمپنیوں اور بینکوں کا فرانزک آڈٹ کرنا ہے تو صوبائی ٹیکس قوانین کے تحت بھی فرانزک آڈٹ کو شامل کیا جائے تاکہ ٹیلی کام کمپنیوں و بینکوں کا موثر آڈٹ ہوسکے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹیکس اصلاحات عملدرآمدکمیٹی نے چیف ٹیکس پیئرز آڈٹ کو 6 ٹیلی کام کمپنیوں اور 8 بینکوں کے فرانزک آڈٹ کے لیے 15 جون تک ملکی و بین الاقوامی میڈیا میں اشتہار شائع کرانے کی ہدایات جاری کی تھی۔ ایک دستاویز کے مطابق ٹیلی کام کمپنیوں اور بینکوں کے فرانزک آڈٹ کے لیے غیرملکی آڈیٹرز خدمات حاصل کرنے سے متعلق ملکی و بین الاقوامی میڈیا میں 10مئی 2017 تک اشتہارشائع کرانا تھا مگر ممبر ٹیکس پیئر آڈٹ سرکاری دورے پر بیرون ملک گئی ہوئی تھیں جس کی وجہ سے یہ اشتہار شائع نہیں کرایا جاسکا ہے۔

جس پر کمیٹی نے چیف ٹیکس پیئر آڈٹ کو ہدایت کی کہ ملکی و غیر ملکی میڈیا میں یہ اشتہار 15 جون تک شائع کرایا جائے تاکہ فرانزک آڈٹ شروع ہوسکے تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ اب صوبوں نے بھی اس کی مخالفت کردی ہے اور کہا ہے کہ اس آڈٹ میں انھیں بھی شامل کیا جائے اور صوبائی ٹیکس قوانین کے تحت بھی ٹیلی کام کمپنیوں وبینکوں کا فرانزک آڈٹ کیا جائے لیکن اب معاملہ تاخیر کا شکار ہوگیا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ عالمی بینک کے تعاون سے فرانزک آڈٹ کے لیے ورکنگ مکمل کی جاچکی ہے اور اس بارے میں تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز سے باہمی مشاورت بھی ہوچکی ہے اب جیسے ہی یہ صوبوں کے ساتھ معاملہ طے پائے گا تو فرانزک آڈٹ کے حوالے سے پیشرفت ہوگی۔




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *