اہم ترین خبریں
لاس اینجلس: ہالی ووڈ فلم ’’لالہ لینڈ‘‘ سے دنیا بھر میں مقبولیت حاصل کرنے والی خوبرو اداکارہ ایما اسٹون رواں سال سب سےزیادہ کمائی کرنے والی اداکارہ بن گئی ہیں۔ ہالی ووڈ کا شمار دنیا کی سب سے بڑی فلم انڈسٹریوں میں ہوتاہے،جہاں فلموں کے بجٹ سے لے کر اداکاروں کے معاوضے تک اربوں روپے کی سرمایہ کاری کی جاتی ہے تاہم گزشتہ کئی عرصے سےبالی ووڈ بھی ہالی ووڈ کوٹکر دینے لگا ہے اور بالی ووڈ اداکار بھی دنیا میں سب سے زیادہ معاوضہ حاصل کرنے والے اداکاروں کی فہرست میں شامل ہونے لگے ہیں ،جس کی مثال بالی ووڈ کی ڈمپل گرل دپیکا پڈوکون ہیں جو گزشتہ سال فوربز میگزین کی فہرست میں ٹاپ ٹین میں شامل ہونے میں کامیاب ہوگئی تھیں لیکن اس بار دپیکا کی قسمت نے ان کا ساتھ نہیں دیا اور دسویں نمبر پر تو کیا دپیکا میگزین کی فہرست سے ہی آؤٹ ہوگئیں۔ اس خبرکوبھی پڑھیں: دپیکا پڈوکون ایک اور ہالی ووڈ فلم میں کاسٹ
Search
891272-FBRnew-1501391571-642-640x480

ایف بی آر حکام نے خلاف قانون ٹیکس چھوٹ سرٹیفکیٹ جاری کردیے، قومی خزانے کو نقصان

فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کے ماتحت اداروں کے کمشنرز ان لینڈریونیو کی جانب سے غیرقانونی ایگزمشن سرٹیفکیٹس جاری کرکے پلاسٹک کے خام مال کی درآمد کو ٹیکسوں سے چھوٹ دینے کا انکشاف ہوا ہے جس سے قومی خزانے کو ریونیو کی مد میں بھاری نقصان ہورہا ہے جس پر ایف بی آر ہیڈکوارٹرز نے ایکشن لیتے ہوئے کمشنرز ان لینڈ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تمام غیر قانونی ایگزمشن سرٹیفکیٹ فوری طور پر منسوخ کرنے کے احکام جاری کردیے ہیں۔
’’ایکسپریس‘‘ کو دستیاب دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ وفاقی حکومت نے فنانس ایکٹ 2017 کے ذریعے انکم ٹیکس آرڈیننس 2001کی شق 148 میں ترمیم کے ذریعے فائلرز کے لیے پلاسٹک خام مال کی درآمد پر ود ہولڈنگ ٹیکس کی شرح کم کی ہے جو کم ازکم ٹیکس ہوگا، اسی طرح انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے دوسرے شیڈول کے پارٹ فورکی شق72 بی میں کی جانے والی ترمیم میں واضح طور پر کہا گیا کہ صنعت کاروں کو پلاسٹک کے خام مال کی درآمد کے لیے ٹیکسوں سے چھوٹ دینے کے لیے کسی قسم کا کوئی ایگزمشن سرٹیفکیٹ جاری نہیں کیا جائے گا۔
دستاویز میں بتایا گیا کہ مذکورہ ترامیم کا نفاذ یکم جولائی2017 سے ہو چکا ہے مگر ایف بی آر کو رپورٹ موصول ہوئی ہے کہ ایف بی آر کے فیلڈ فارمشنز کے متعدد کمشنرز ان لینڈ ریونیو کی جانب سے اب بھی پلاسٹک کے خام مال کی درآمد کے لیے صنعتی انڈرٹیکنگ کے تحت غیرقانونی طور پر ایگزمشن سرٹیفکیٹ جاری کیے جا رہے ہیں جس سے ٹیکسوں کی مد میں قومی خزانے کو بھاری نقصان ہورہا ہے۔




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *