اہم ترین خبریں
لاس اینجلس: ہالی ووڈ فلم ’’لالہ لینڈ‘‘ سے دنیا بھر میں مقبولیت حاصل کرنے والی خوبرو اداکارہ ایما اسٹون رواں سال سب سےزیادہ کمائی کرنے والی اداکارہ بن گئی ہیں۔ ہالی ووڈ کا شمار دنیا کی سب سے بڑی فلم انڈسٹریوں میں ہوتاہے،جہاں فلموں کے بجٹ سے لے کر اداکاروں کے معاوضے تک اربوں روپے کی سرمایہ کاری کی جاتی ہے تاہم گزشتہ کئی عرصے سےبالی ووڈ بھی ہالی ووڈ کوٹکر دینے لگا ہے اور بالی ووڈ اداکار بھی دنیا میں سب سے زیادہ معاوضہ حاصل کرنے والے اداکاروں کی فہرست میں شامل ہونے لگے ہیں ،جس کی مثال بالی ووڈ کی ڈمپل گرل دپیکا پڈوکون ہیں جو گزشتہ سال فوربز میگزین کی فہرست میں ٹاپ ٹین میں شامل ہونے میں کامیاب ہوگئی تھیں لیکن اس بار دپیکا کی قسمت نے ان کا ساتھ نہیں دیا اور دسویں نمبر پر تو کیا دپیکا میگزین کی فہرست سے ہی آؤٹ ہوگئیں۔ اس خبرکوبھی پڑھیں: دپیکا پڈوکون ایک اور ہالی ووڈ فلم میں کاسٹ
Search
890293-Textilephotofile-1501275360-548-640x480

برآمدی شعبے کی رئیل اسٹیٹ میں سرمایہ کاری ایکسپورٹ گرنے کی وجہ ہے، سیکریٹری ٹیکسٹائل

ریئل اسٹیٹ سیکٹر میں ایکسپورٹرز کی بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری سے برآمدات میں کمی ہوئی.
وفاقی سیکریٹری ٹیکسٹائل حسن اقبال نے جمعرات کوپی ایچ ایم اے ہاؤس میں ٹیکسٹائل سیکٹر سے وابستہ مختلف ایسوسی ایشنز کے نمائندوں اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بجٹ میں رقم مختص نہ کیے جانے کے باوجود گزشتہ مالی سال وزیراعظم کے اعلان کردہ برآمدی پیکیج کی مد میں 3 ارب روپے ادا کیے گئے، 10 فیصد برآمدات بڑھانے کی ذمے داری ایکسپورٹرز نے خود لی تھی لیکن یہ ان کے بس کی بات نہیں، 10لاکھ روپے سے کم کے ریفنڈز کی ادائیگی کردی گئی ہے، بقیہ 15 اگست تک ادا کردیے جائیں گے۔ حکومت جی ایس پی پلس میں اضافے کی کوشش کررہی ہے۔
اس موقع پرپی ایچ ایم اے کے چیف کوآرڈینیٹرجاوید بلوانی نے بھی خطاب کیا جبکہ اسلم احمد کار ساز،ریاض احمد،خواجہ عثمان، رفیق گوڈیل اور دیگرصنعتکار بھی موجود تھے۔ سیکریٹری ٹیکسٹائل نے کہا کہ 180 ارب روپے کا برآمدی پیکیج 18 ماہ کیلیے ہے جس میں 40 ارب ری بیٹ کیلیے رکھے گئے ہیں، حکومت برآمدی پیکیج کی بروقت ادائیگی یقینی بنارہی ہے لیکن لیکن برآمدی شعبے کو بھی اپنی ذمے داریاں نبھانی چاہئیں،برآمدات میں کمی کی بڑی وجہ ریئل اسٹیٹ سیکٹر بھی ہے، جب ریئل اسٹیٹ شعبے نے تیزی سے ترقی کی تو ایکسپورٹرز نے اس میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی جس میں بہت سے ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز بھی شامل ہیں حالانکہ انہوں نے قرض و دیگر مراعات برآمدات کے سلسلے میں حاصل کی تھیں۔




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *