اہم ترین خبریں
لاس اینجلس: ہالی ووڈ فلم ’’لالہ لینڈ‘‘ سے دنیا بھر میں مقبولیت حاصل کرنے والی خوبرو اداکارہ ایما اسٹون رواں سال سب سےزیادہ کمائی کرنے والی اداکارہ بن گئی ہیں۔ ہالی ووڈ کا شمار دنیا کی سب سے بڑی فلم انڈسٹریوں میں ہوتاہے،جہاں فلموں کے بجٹ سے لے کر اداکاروں کے معاوضے تک اربوں روپے کی سرمایہ کاری کی جاتی ہے تاہم گزشتہ کئی عرصے سےبالی ووڈ بھی ہالی ووڈ کوٹکر دینے لگا ہے اور بالی ووڈ اداکار بھی دنیا میں سب سے زیادہ معاوضہ حاصل کرنے والے اداکاروں کی فہرست میں شامل ہونے لگے ہیں ،جس کی مثال بالی ووڈ کی ڈمپل گرل دپیکا پڈوکون ہیں جو گزشتہ سال فوربز میگزین کی فہرست میں ٹاپ ٹین میں شامل ہونے میں کامیاب ہوگئی تھیں لیکن اس بار دپیکا کی قسمت نے ان کا ساتھ نہیں دیا اور دسویں نمبر پر تو کیا دپیکا میگزین کی فہرست سے ہی آؤٹ ہوگئیں۔ اس خبرکوبھی پڑھیں: دپیکا پڈوکون ایک اور ہالی ووڈ فلم میں کاسٹ
Search
903315-FBRnew-1502482450-495-640x480

ایف بی آر کا کردار انفورسمنٹ تک محدود کرنے کی سفارش

اسلام آباد: قومی احتساب بیورو (نیب) کی کمیٹی برائے انسداد ٹیکس چوری نے کرپشن و ٹیکس چوری روکنے کیلیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے ریگولیٹری اختیارات ختم کرکے پاکستان ریونیو ریگولیٹری اتھارٹی (پی آر آر اے) قائم کرنے کی سفارش کردی۔
’’ایکسپریس‘‘ کو دستیاب دستاویز کے مطابق نیب کی کمیٹی برائے انسداد ٹیکس چوری نے سفارش کی ہے کہ ریونیو جنریشن سے متعلق قانون سازی کیلیے قائم کی جانے والی آزاد و خودمختار پاکستان ریونیو ریگولیٹری اتھارٹی کو وزیراعظم کے ماتحت ہونا چاہیے جو براہ راست وزیراعظم کو رپورٹ کرے۔ دستاویز میں کہا گیاکہ ملک میں ٹیکس ریونیو جنریشن کیلیے قانون سازی و پالیسی سازی کا اختیار پاکستان ریونیو ریگولیٹری اتھارٹی (پی آر آر اے) کے پاس ہونا چاہیے اور اس اتھارٹی کی جانب سے جو بھی قانون سازی کی جائے اور پالیسی مرتب کی جائے اس پر عملدرآمد کا اختیار فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر)کے پاس ہونا چاہیے۔
دستاویز میں کہا گیاکہ پاکستان ریونیو ریگولیٹری اتھارٹی 10ارکان پر مشتمل ہوجس میں 5 ممبران پروفیشنل ممبر ہونے چاہیئں، 3 اکانومسٹ، 1قانونی ماہر اور1چارٹر اکاؤنٹنٹ اس ریگولیٹری اتھارٹی کا ممبر ہونا چاہیے۔ دستاویز میں کہا گیاکہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو وزارت خزانہ کے ماتحت صرف عملدرآمد کرانے والے ادارے کے طور پر کام کرنا چاہیے اور ایف بی آر کو ریگولیٹری کے کردار سے آزاد کردینا چاہیے۔




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *