اہم ترین خبریں
لاس اینجلس: ہالی ووڈ فلم ’’لالہ لینڈ‘‘ سے دنیا بھر میں مقبولیت حاصل کرنے والی خوبرو اداکارہ ایما اسٹون رواں سال سب سےزیادہ کمائی کرنے والی اداکارہ بن گئی ہیں۔ ہالی ووڈ کا شمار دنیا کی سب سے بڑی فلم انڈسٹریوں میں ہوتاہے،جہاں فلموں کے بجٹ سے لے کر اداکاروں کے معاوضے تک اربوں روپے کی سرمایہ کاری کی جاتی ہے تاہم گزشتہ کئی عرصے سےبالی ووڈ بھی ہالی ووڈ کوٹکر دینے لگا ہے اور بالی ووڈ اداکار بھی دنیا میں سب سے زیادہ معاوضہ حاصل کرنے والے اداکاروں کی فہرست میں شامل ہونے لگے ہیں ،جس کی مثال بالی ووڈ کی ڈمپل گرل دپیکا پڈوکون ہیں جو گزشتہ سال فوربز میگزین کی فہرست میں ٹاپ ٹین میں شامل ہونے میں کامیاب ہوگئی تھیں لیکن اس بار دپیکا کی قسمت نے ان کا ساتھ نہیں دیا اور دسویں نمبر پر تو کیا دپیکا میگزین کی فہرست سے ہی آؤٹ ہوگئیں۔ اس خبرکوبھی پڑھیں: دپیکا پڈوکون ایک اور ہالی ووڈ فلم میں کاسٹ
Search
903310-medicine-1502482313-659-640x480

پنجاب ڈرگ ایکٹ 2017 پر تحفظات دور کرنے کا مطالبہ

اسلام آباد: اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر خالد اقبال ملک نے پنجاب حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ پنجاب ڈرگ ایکٹ 2017 کے بارے میں فارماسیوٹیکل انڈسٹری کے تحفظات کو فوری دور کرے کیونکہ اس نئے قانون کے اجرا سے پورے صوبہ پنجاب میں فارماسیوٹیکل مینوفیکچررز، ڈسٹری بیوٹرز، ڈیلرز اور میڈیکل اسٹور والوں میں تشویش کی لہر پیدا ہو گئی ہے جس سے اس صنعت کا کاروبار متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
خالد اقبال ملک نے کہا کہ فارماسیوٹیکل انڈسٹری کا شمار پنجاب میں تیزی سے ترقی کرتی ہوئی صنعتوں میں ہوتا ہے اور یہ انڈسٹری نہ صرف ملک کی ادویہ کی ضروریات پوری کر رہی ہے بلکہ برآمدات کو فروغ دے کر ملک کے لیے قیمتی زرمبادلہ بھی کما رہی ہے، اس کے علاوہ یہ انڈسٹری ہزاروں افراد کو روزگار فراہم کیے ہوئے ہے اور ملک کے ٹیکس ریونیو میں بھی اہم کردار ادا کر رہی ہے تاہم نئے قانون کے تحت ڈرگ انسپکٹرز کو اتنے زیادہ اختیارات دے دیے گئے ہیں کہ اگر ان کا ناجائز استعمال کیا گیا تو اس انڈسٹری کو شدید مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا۔
چیمبر کے صدر نے کہا کہ پنجاب ڈرگ ایکٹ 2017 میں مزید سخت سزائیں اور جرمانے بھی متعارف کرائے گئے ہیں جن کی وجہ سے اس شعبے کا کاروبار کرنے والوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فارماسیوٹیکل شعبے کے تاجر و صنعتکار پنجاب حکومت کی طرف سے جعلی ادویہ کو ختم کرنے کی مہم کی حمایت کرتے ہیں تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پنجاب حکومت ایسے سخت سزائیں و جرمانے متعارف نہ کرائے جائیں جن کی وجہ سے فارماسیوٹیکل شعبے کی کاروباری برادری کو ان جرائم کی سزا بھگتنی پڑے جو انہوں نے نہ کیے ہوں۔




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *