اہم ترین خبریں
لاس اینجلس: ہالی ووڈ فلم ’’لالہ لینڈ‘‘ سے دنیا بھر میں مقبولیت حاصل کرنے والی خوبرو اداکارہ ایما اسٹون رواں سال سب سےزیادہ کمائی کرنے والی اداکارہ بن گئی ہیں۔ ہالی ووڈ کا شمار دنیا کی سب سے بڑی فلم انڈسٹریوں میں ہوتاہے،جہاں فلموں کے بجٹ سے لے کر اداکاروں کے معاوضے تک اربوں روپے کی سرمایہ کاری کی جاتی ہے تاہم گزشتہ کئی عرصے سےبالی ووڈ بھی ہالی ووڈ کوٹکر دینے لگا ہے اور بالی ووڈ اداکار بھی دنیا میں سب سے زیادہ معاوضہ حاصل کرنے والے اداکاروں کی فہرست میں شامل ہونے لگے ہیں ،جس کی مثال بالی ووڈ کی ڈمپل گرل دپیکا پڈوکون ہیں جو گزشتہ سال فوربز میگزین کی فہرست میں ٹاپ ٹین میں شامل ہونے میں کامیاب ہوگئی تھیں لیکن اس بار دپیکا کی قسمت نے ان کا ساتھ نہیں دیا اور دسویں نمبر پر تو کیا دپیکا میگزین کی فہرست سے ہی آؤٹ ہوگئیں۔ اس خبرکوبھی پڑھیں: دپیکا پڈوکون ایک اور ہالی ووڈ فلم میں کاسٹ
Search
904443-Pakcustom-1502603067-118-640x480

ٹرانزٹ پاس کے ذریعے موبائل فونز کی اسمگلنگ کا انکشاف

کراچی: ڈائریکٹوریٹ آف کسٹمز انٹیلی جنس اینڈ انویسٹی گیشن کراچی نے ایک منظم کارروائی میں ٹرانزٹ پاس کی آڑ میں قیمتی موبائل فونزکی اسمگلنگ کی کوشش کو ناکام بنا دیا ہے۔
ذرائع نے ’’ایکسپریس‘‘ کو بتایا کہ ڈائریکٹر جنرل شوکت علی کو خفیہ اطلاع ملی تھی کہ مختلف ڈرائی پورٹس کے ذریعے متفرق اشیا پر مشتمل درآمد ہونیوالے کنسائمنٹس میں قیمتی موبائل فونز کی اسمگلنگ ہورہی ہے اورایسے کنسائمنٹس کے کنٹینرز کو کراچی میں ہی خالی کرکے مقامی مارکیٹوں میں فروخت کیا جا رہا ہے۔ ٹی پی کی آڑ میں درآمدی کنسائمنٹس کے کنٹینرز کراچی میں خالی کرکے اس میں درآمدکنندہ کی جانب سے محکمہ کسٹمز میں داخل کردہ گڈزڈیکلریشن کے مطابق اشیا رکھ کر مطلوبہ ڈائی پورٹس سے منظم انداز میںکلیئرکرایا جا رہا ہے۔
ڈائریکٹر جنرل شوکت علی نے ڈائریکٹر کسٹمز انٹیلی جنس ثمینہ تسنیم زہرہ کو ہدایت جاری کیں کہ کسٹمز ڈرائی پورٹس کے ذریعے کسٹمز کلیئرنس حاصل کرنے والے درآمدی کنسائمنٹس کی نگرانی کو سخت کیا جائے جس پر ڈائریکٹر ثمینہ تسنیم زہرہ نے ڈپٹی ڈائریکٹرشاہ فیصل سہوکی سربراہی میں سپرنٹنڈنٹ کسٹمزسیف ہاشمی، انٹیلی جنس آفیسر اکمل ہاشمی ودیگرحکام پرمشتمل ٹیم کو کسٹمز ڈرائی پورٹس پر کلیئرنس کیلیے جانے والے کنسائمنٹس کی نگرانی کا آغاز کیا، نگرانی کی اس مہم کے دوران پاکستان انٹرنیشنل کنٹینر ٹرمینل کراچی سے سیالکوٹ کسٹمز ڈرائی پورٹ کیلیے جانے والے کنسائمنٹ کی نگرانی کی گئی جسے سیالکوٹ کے بجائے کراچی میں ہی خالی کیا جانا تھا۔




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *