فنکاروں کی حوصلہ افزائی کیلیےایوارڈ شوزکا انعقاد ہونا چاہیے؛صنم بخاری

لاہور: ناوریجن ماڈل صنم بخاری نے کہا ہے کہ دنیا بھرمیں فنون لطیفہ کے تمام شعبوں میں سب سے معتبرایوارڈ اوراعزاز ’’آسکر‘‘ کو مانا جاتا ہے۔
جن فنکاروں کویہ ایوارڈ ملتا ہے ان پرمستقبل میں مزید بہترین کا م کرنے کی ذمے داری آن پڑتی ہے لیکن جن لوگوں کی اس ایوارڈ کے لیے صرف نامزدگی ہوجاتی ہے ، وہ بھی اپنے آپ کو بے حد خوش قسمت مانتے ہیں بلکہ ان کے نام کے ساتھ پھرہمیشہ ’ آسکر‘ کا اضافہ ہوجاتا ہے۔
اس سے ’’آسکر ایوارڈ‘‘ کی قدر وقیمت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ اس سلسلہ کو اگر بھرپور انداز سے پاکستان میں بھی شروع کیا جائے اور فنکاروں، تکنیک کاروں کی حوصلہ افزائی کے لیے زیادہ سے زیادہ ایوارڈز شوز کا انعقادکیا جائے تویقینا فنون لطیفہ سے وابستہ لوگ زیادہ محنت اور لگن کے ساتھ کام کریں گے۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے ’’ایکسپریس‘‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ صنم بخاری نے کہا کہ پاک سرزمین کی بیٹی شرمین عبید چنائی نے اپنی صلاحیتوں کے بل پر دو مرتبہ آسکر ایوارڈ حاصل کرکے پاکستان کا نام دنیا کے ان ممالک کی فہرت میں شامل کر دیا ہے، جہاں کے باصلاحیت فنکار وتکنیک کاراس ایوارڈ کوحاصل کرچکے ہیں۔
حالانکہ پاکستان میں تو دہشت گردی، مہنگائی، بے روزگاری اور لوڈشیڈنگ سمیت دیگر مسائل کی وجہ سے پہلے ہی پاکستان کے مخالفین اس کے خلاف پراپیگنڈہ کرنے سے نہیں روکتے، ایسے میں اب انھیں نا چاہتے ہوئے بھی پاکستان کو آسکر ایوارڈ کی فہرست میں دیکھ کر بے حد تکلیف پہنچتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ اگر پاکستان کا سافٹ امیج دنیا بھرمیں متعارف کروانا ہے اور فنکاروں، تکنیک کاروں کو منفرد پہچان دلوانی ہے توپھران کے کام کوسراہنے کے لیے انھیں ایسے ایوارڈز سے نوازا جائے، جس پرصرف پاکستانیوں کو ہی نہیں بلکہ دنیابھرمیں بسنے والے فخر کر سکیں۔
ایک بات توطے ہے کہ پاکستان میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں ہے جس کی بہترین مثال شرمین عبید چنائی کی شکل میں ہمارے سامنے موجود ہے۔ اس لیے میں سمجھتی ہوںکہ پاکستان میں فنکاروں کی حوصلہ افزائی کا سلسلہ پروان چڑھنا چاہیے اور عام لوگوں کو بھی انھیں قدر کی نگاہ سے دیکھنا چاہیے ،تاکہ فنکاربرادری محنت اور لگن سے کام کرکے وطن عزیز کا نام روشن کر سکے۔




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *