!!!وہی کرپٹ لوگ وہی کرپٹ نظام

!!!وہی کرپٹ لوگ وہی کرپٹ نظام
بہت دن سے سوچ رہا تھا کہ کچھ لکھا جائے کافی سوچنے کے بعد بھی کچھ سمجھ نہیں آیا پھر اک ویڈیو نظر سے گزری جس میں حافظ آباد میں اک پی ایم ایل این کی ایم پی کے ساتھ پولنگ سٹیشن کے باہر تبدیلی کا نعرہ لگانے والے ہمارے ملک میں جو تبدیلی بڑی تیزی سے آرہی ہے اس کا مظاہرہ کرتے نظر آئے۔ مطلب خاتون کے ساتھ طوفان بدتمیزی 50 سے زیادہ تبدیلی کا نعرہ لگانے والوں کا ہجوم خاتون پر گھٹیا الفاظ کستے اور دھکے مارتے نظر آیا۔
تو سوچا چلو اس تبدیلی پر ہی کچھ لکھ دیا جائے۔
!!تبدیلی آ نہیں رہی ہے تبدلی آ گئی ہے
پر اللہ کا شکر ہے کہ ابھی تبدیلی پنجاب اور کے پی کے کی حد تک ہے ۔ پھر آج کل کی سیاسی حل چل دیکھ کر ایسا لگ رہا ہے کہ کچھ طاقتیں یہ تبدیلی پورے ملک میں لانا چاہتی ہیں ۔ سب سے پہلے تو سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا ہم کو یہ تبدیلی چاہیے؟ جس میں عورتوں پر گھٹیا الفاظ کسیں جائیں اور دھکے مارے جائیں اور یہ کوئی پہلا واقع نہیں کہ یہ تبدیلی کے علمبردارخاتون کے ساتھ ایسا کرتے نظر آئے۔
تو کیا ہم تیار ہیں ایسی تبدیلی کے لئے ؟؟ میرے خیال میں نہیں! ہم جس معاشرے اور مذہب کا حصہ ہیں وہ ہم کو اپنی عورتوں کا احترام سکھاتا ہے ،ماں بہن ہماری عزت ہوتی ہیں ۔ اور یہ تبدیلی ہم کو کیا سکھا رہی ہے ہمارے معاشرے کو کہاں لے جا رہی ہے۔ تو خدا کےلئے اس تبدیلی کو مسترد کرنے کے ساتھ ساتھ اس پر آواز بھی اٹھائیں کیونکہ جو طاقتیں اس طرح کی تبدیلی چاہتی ہیں ان کو ہاتھ سے روکا تو نہیں جا سکتا تو کیوں نہیں آواز ہی اٹھائی جائے اور اگر آواز اٹھانے سے بھی کوئی ڈر رہا ہو کے آواز اٹھانے کے چکر میں خود ہی کو کوئی نہ اٹھالے تو پھر کم سے کم اس تبدیلی کو دل سے برا ضرور سمجھیں۔
ویسے یہ تبدیلی کا نعرہ جب شروع شروع میں لگا تو مجھے بھی بہت اچھا لگا اور سوچا کے واقعی ہمارے ملک کی سیاست میں تبدیلی کی ضرورت ہے اور ایسا لگا کہ جو بات بچپن سے سنی ہے کہ ہمارے ملک میں بھی کوئی خومینی جیسا لیڈر آئے گا اور ہمارے کرپٹ نظام میں سے کرپٹ لوگوں کو نکال باہر پھینکے گا وہ پورہ ہونے جا رہی ہے۔ پر وہ آس اس دن دم توڑ گئی جس دن میں نے وہی مورو‍ثی سیاست کرنے والے تبدیلی کے دائیں اور بائیں کھڑے دیکھے میرے لئے تو تبدیلی وہ ہوتی کہ تبدیلی کے اردگرد گلی محلے کے عام لوگ کھڑے نظر آتے پر ھوا کیا عام لوگ بچارے جلسوں اور سوشل میڈیا کی حد تک محدود ہو گئے اور تبدیلی کے دائیں بائیں وہی کھڑے نظر آئے جن کی جیب میں پیسہ ہو۔
تو پھر تبدیلی کیسی۔
ارے بھائی بہت ہوا اب کم سے کم تبدیلی کا ڈرامہ بند ہونا چاہیے ۔ ہاں اگر اس کو ایسے بولا جائے کہ جن لوگوں نے پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں کو جنم دیا ہے اس نے یہ طے کر لیا ہے کہ پاکستان کی عوام کو اس دفعہ تبدیلی کے نام پر بے وقوف بنایا جائے گا۔ تو غلط نہیں ہو گا پر انہوں نے یہ نہیں سوچا کہ 80 کی دہائی میں لسانی بنیادوں پر جو تبدیلی لائی گئی اور پورے ملک کو لسانی بنیادوں پر تقسیم کر دیا گیا تھا جیسا کہ کراچی میں اردو بولنے والوں کےلئے ایم کیوایم پنجاب میں پنجابی عوام کےلئے پی ایم ایل این اور کے پی کے میں پختون کےلئے اے این پی ۔ تو اب تبدیلی کی گنجائش باقی کہاں رہی
بلکے اگر 2013کے الیکشن پر نظر ڈالی جائے تو نظر آتا ہے کہ 80کی دہائی کی تقسیم کو مزید سجایا گیا ہے اور ملک کی واحد جماعت پی پی پی جس کو بی بی کی حیاتی تک عوامی جماعت کہا جاتا تھا۔
وہ عوامی تھی یا نہیں یہ الگ بحث ہے۔ جو اب پی پی پی سے زیڈ پی پی مطلب زرداری پرسنٹیج پارٹی ہو چکی ہے کو بھی اب سندھ کی جماعت بنا کر رکھ دیا گیا ہے۔
چلیں 2013کے الیکشن پر نظر ڈالتے ہیں کے پی کے کو اے این پی سے لے کر پی ٹی آئی کو دے دیا گیا ۔ پنجاب پی ایم ایل این کو ملا اُربن سندھ ہمیشہ کی طرح ایم کیو ایم کے ہی پاس گیا اور بچاری پی پی پی سے سب کچھ لے کر رورال سندھ تک محدود کر دیا گیا۔
…عوام کے ووٹ کا تقدس نا احترام 
….وہی کرپٹ لوگ وہی کرپٹ نظام
تو پھر تبدیلی کیسی اور تبدیلی کندوں پر بیٹھ کر نہیں آتی!!!
اظفر امین




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *