پانی کی ٹنکیاں

احسن اقبال کو رینجرز نے اچھی سی اوقات دکھائی تو ذہن کے گوشے میں دبی ہوئی ٹھاکر رینجربھائی کی وہ تصویر اچانک ابھر کر سامنے آگئی جب ایک جمہوری منتخب فاروق ستار کے گریبان میں ہاتھ ڈالنے اور انہیں حراست میں لینے پر ملک بھر میں شادیانے بجائے گئے تھے ۔
ویسے فاروق ستار خود کئی بار اپنے شادیانے بجوا چکے ہیں اس لئے کسی نے غور نہیں فرمایا لیکن احسن اقبال ایک فرزند زمین ہیں اور ان کے غیض و غضب پر نہ تو انہیں لاپتہ کیا گیا نہ ہی ان کے گھر کی پانی کی ٹنکی سے کوئی اسلحہ وغیرہ اردو، سندھی بلوچی یای پنجابی بولتا ہوا برامد ہوا۔
کراچی سنٹرل جیل میں داعش کی بھرتیاں زور و شور سے جاری ہیں ، مجرم با آسانی فرار ہو جاتے ہیں اور پتہ تک نہیں چلتا ، البتہ پانی کیی ٹنکیوں سے چمکتا دمکتا اسلحہ اردو بولتا ہوا میڈ ان لندن کی مہر لگائے برامد کرنے جیسا معجزہ بھی ہماری لا انفورسمنٹ اینجسیوں کا ہی کارنامہ ہے جس پر سی این این اور ہیومن رائٹس والے بھی انگشت بدنداں ہیں ۔
نواز شریف کی عدالتی کاروائی کے دوران کمرہٗ عدالت میں دو نامعلوم افراد پائے گئے اور ہمیں لگا کہ شاید یہ فہد مصطفی کی فلم نامعلوم افراد ۲ کی شوٹنگ کا کوئی حصہ تھی لیکن وہ تو کچھ اور ہی شوٹ کرنے آئے اور چلے گئے ۔
دنیا کے دیگر ممالک کے فوج کے سربراہان اپنی اپنی فوج کی عسکری تربیت ، اور روز مرہ کے معاملات میں اپنی ڈیوٹی ایمانداری سے نبھا رہے ہیں اور یہ اعجاز بھی پاکستان کے حصہ میں آیا ہے کہ قمرباجوہ افغان صدر اور ملاقاتیں کر رہے ہیں، لگتا ہے کہ بے چارے وزیر خارجہ بھی جلد ہی لاپتہ ہونے والے ہیں ۔
پاکستان سے شدید محبت ہونے کے باعث آج ایک اہم مشورہ دینے کی جسارت کر رہا ہوں ، اے میرے وطن کے سجیلے جوانوں اپنے کام سے کام رکھو، ورنہ جنیوا کی دیواروں پر نصب بینر کہیں ایک مسلمہ حقیقت بن کر کل کو ایک نیا چیلنج نہ بن جائیں ، دبی دبی چنگاریوں پر پانی ڈالا جاتا ہے پٹرول نہیں ۔
جتنے لا پتہ کئے ہیں حاضر کردو ، جنہیں مار دیا ہے انہیں نمازجنازہ اور کفن دفن کے لئے اپنے پیاروں کے حوالے کردو، اور سب کو پاکستانی سمجھ کر جیو اور جینے دو کی پالیسی پر عمل درامد کرو ۔  سیاست ، ریاست ، عدالت ، صحافت اور حکومت میں مداخلت بند کرو۔  سرحدوں کی حفاظت کرو تو یہ پوری قوم سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح شانہ بشانہ کھڑی ہو گی وگرنہ دیمک اندر سے پہلے کمزور کرتی ہے ، باہر تو صرف ملمع ہے ۔
اسلحہ کی زبان نہیں ہوتی ، وہ تو میڈ ان چائنا یا درہ خیبر ہوتا ہے ، اسے لندن والی اردو بولتا ہوا کون بناتا ہے اس عظیم دانشور کو اب ریٹائر کر دینا چاہیے ، اس نے بہت مذاق اڑوا لیا ہے ۔ بات ساری ساکھ کی ہے ، اور ساکھ بھی کہیں پانی کی ٹنکی میں ملتی ہے ؟



Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *