کینیڈین جمہوریت اور پاکستانی کینیڈین

کینیڈا جمہوریت کے حساب سے ان ممالک میں شامل ہے جہاں جمہوریت کو خوبصورت ترین کہا جاتا ہے۔ اور حقیقت میں ایسا نظر بھی آتا ہے۔ پر اگر کینیڈین نامینیشن پروسس پر نظر ڈالی جائے تو تصویر کچھ اور بتاتی ہے۔ اک عام کینیڈین کونامینیشن کا تو شائید پتا ہی نہیں ہو پر یہاں پر نامینیشن کی ریس جیتنے کےلئے الیکشن میں سیٹ جیتنے سے زیادہ محنت کرنی پڑتی ہے۔ لیبرل کنزرویٹو یہ پھر این ڈی پی۔ ہر پارٹی کا اپنا اپنا نامینیشن پروسس ہے اور نامینیشن کی فائیٹ کے لئے ہر پارٹی اپنی ہی پارٹی میں سے 3 سے 4 امیدوار ہر ریڈینگ میں چونتی ہے اور پھر ان امیدواروں کو یہ ثابت کرنا ہوتا ہے کہ ان میں سے کون اپنی ریڈینگ میں مقبول ترین ہے اور یہ اس دن ثابت ہوتا ہے جس دن نامینیشن الیکشن ہوتا ہے جو ممبر جیتا ہے اس کو اس ریڈینگ کا ٹکٹ ملتا ہے اور وہ اپنی پارٹی کا اس ریڈینگ سے الیکشن میں منتخب نمائندہ ہوتا ہے۔ ویسے اگر عام کینیڈین پاکستانی یہ اک عام انسان کے تور پر دیکھا جائے تو اس طریقہ کار سے ظاہر ہوتا ہے کہ واقعی یہی جمہوریت کا حسن ہے۔ اور اگر مجھہ یا آپ جیسا ایمیگرنٹ ہو تو ہمارے دل سے فوراً یہ دعا نکلتی ہے کہ کاش ہمارے پیارے ملک پاکستان میں بھی ایسا نظام آجائے جہاں یہ نا ہو کہ آپ جتنے بڑے چور ہوں آپ کو الیکشن کے ٹکٹ ملنے کا اتنا چانس ہو۔ بلکہ کینیڈا کی طرح اک نامینیشن طریقہ کار ہو جس میں سے ہر نمائندے کو گزر کر اپنا آپ ثابت کرکے آگے آنا ہو چاہے وہ پارٹی لیڈر کا بھائی یا بیٹا ہی کیوں نہ ہو۔
میں آپ سے اپنا تجربہ شیئر کرنے سے پہلے تھوڑا سا نامینیشن پروسس کو سمجھانا چاہوں گا کہ نامینیشن پروسس ہے کیا۔
اس میں ہوتا کچھ اس طرح ہے کہ پہلے تو آپ کو پارٹی نامینیشن فائل کرانی ہوتی ہے جو ریڈینگ نامینیشن کےلئے اوپن کی جاتی ہے اس ریڈینگ کےلئے پارٹی کے وہ ممبر جو الیکشن میں پارٹی کی نمائندگی کرنے کے ‍خوہیش مند ہیں وہ اپنے اپنے ناموں کی اندراج کرواتے ہیں اپنے کوائف جمع کرواتے ہیں اس کے بعد ان نمائندوں کے انٹرویو ہوتے ہیں ان کے ڈاکومنٹس کی جانچ پڑتال کے بعد یہ طے پاتا ہے آیا کہ جس ممبر نے نامینیشن کے لئے درخواست جمع کروائی ہے۔ وہ ہر لہٰذ سے کلین ہے اس پر کوئی کیس نہیں ہے وہ ٹیکس چور نہیں ہے اور جو جو چیز اک مہذب معاشرے میں بری سمجھی جاتی ہے ان سب کی جانچ پڑتال کے بعد نمائندے کو سیلیکٹ کیا جاتا ہے اور اگر کسی کے بارے میں کوئی چیز پتا چل جائے کے اس نے یہ کام سسٹم سے ہٹ کر کیا ہے اس کی نامینیشن کی درخواست خراج کردی جاتی ہے۔ میں نے تو یہاں تک دیکھا ہے کہ ٹیکس لیٹ فائل کرنے پر بھی نمائندے کو باہر کر دیا گیا۔ آپ بولیں گے کہ واقع اک خوبصورت نظام ہے؟جی بالکل
پر کچھ چیزیں یہاں پر بھی ہوتی ہیں جیسے کہ اپنی پسند کے امیدوار کو لانے کے لئے تھوڑی بہت چالاکیاں کرنا ۔ مخالف نمائندے پر جھوٹے الزام لگا کر اس کو نامینیشن پروسس سے باہر کروا دینا چاہے اس نمائندے کا پارٹی سے کتنا ہی پرانا رشتہ کیوں نا ہو۔ اس نے پارٹی کو کتنا ہی فنڈ رئس کرکے کیوں نہ دیا ہو۔ اگر آپ کی پارٹی کے اندر ایسے گروپ سے وابستگی نہیں جس کی پکڑ پارٹی لیڈر شپ تک ہے تو پھر آپ انٹرویو پروسس میں پاس ہونے کے باوجود کسی بھی واقت نامینیشن سے باہر ہوسکتے ہیں۔
آپ سوچے رہے ہونگے کہ یہ کیا بات ہوئی اک طرف تو میں تعریفیں کررہا ہوں اور دوسری طرف یہ بتا رہا ہوں کہ یہاں بھی پاکستان کی طرح فیورٹیزم چل رہا ہے۔ تو فرق کیا ہوا؟
فرق ہے!
وہ کیسے جہاں تک انٹرویو کی بات ہے وہاں تک پورا نظام شفاف ہے ۔ پر اس کے بعد جو ہوتا ہے وہ پاکستان سے الگ نہیں ہوتا کیوں کے ہم پاکستانی جوکہ چاہے دنیا میں کہی چلیں جائیں پاکستان سے جو کرپشن کے بیچ اور نااتفاقی سات لے کر آئے ہیں تو پھر اک دوسرے کی ٹانگیں کیسے نہ کھینچیں اور کرپشن کیوں نہ کریں۔ حاتکہ ہم وہ بیچ اپنی آنے والی نسلوں میں بھی بو رہی ہیں۔
ہوتا کیا ہے کہ جو ریڈینگ اوپن ہوتی ہے وہاں پر کسی بھی کمیونٹی سے اک یا‎‎

شداونادر دو لوگ کھڑے ہوجاتے ہیں مگر ہماری کمیونٹی میں ہر ریڈینگ سے جب تک 3 سے 4لوگ نامینیشن کےلئے کھڑے نہ ہوں اس وقت تک ہم اپنے آپ کو پاکستانی فیل نہیں کرتے ۔ اور یہ ہی واحد وجہ ہے کہ پاکستانیوں کی کمیونٹی کے طور پر یہاں کے سسٹم میں کوئی اوقات نہیں ہے۔ ہم اپنی کمیونٹی کےلئے آج تک کچھ نہیں کروا سکے یہاں تک کہ ہم اپنا کوئی کمیونٹی سنٹر تک اوپن نہیں کروا سکے۔ ہاں انفرادی کپسٹی میں اپنی اپنی مسجد بنانی ہو یا کوئی چیئرٹی اورگنائزیشن ہو یا کوئی گورنمنٹ فنڈنگ لینی ہو تو اپنی پوری جان لگا دیتے ہیں اور حاصل بھی کرلیتے ہیں پر پاکستانی کمیونٹی کے لئے کبھی آواز نہیں اٹھائیں گے صرف اس خوف سے کہ کوئی ہم سے آگےنا نکل جائے ۔ بس اس ہی خوف میں مر جائیں گے پر اپنی کمیونٹی کےلئے کچھ اچھا نہیں کریں گے ۔ تو پھر کسی کو الیکشن کیسے لڑنے دیں ۔ صرف پتا چلنے کی دیر ہے کہ کسی نے پاکستانی کمیونٹی سے نامینیشن فائل کردیی ہے۔ بس پھر کیا یہ تو میں خود اپنی نامینیشن فائل کردوں گا اور اگر مجھے پتا ہے کہ میں نے پاکستان کی طرح یہاں پر بھی خوب دو نمبریاں کی ہوئی ہیں اور میں کسی صورت نومینیٹ نہیں ہو سکتا۔ پر ہاں میرے اندر یے صلاحیت ضرور ہے کہ میں پارٹی کے ان لوگوں سے جان پہنچان رکتا ہوں جن کی وجہ سے میں کسی پر کوئی بھی جھوٹا سچا الزام لگا کر اس کو نامینیشن سے باہر کروا سکتا ہوں۔ تو پھر میں اپنی پسند کے کسی بندے کی نامینیشن فائل کروا دوں گا۔ کیوں کے میں تو پاکستانی ہوں اپنے آپ سے اگے پارٹی میں کسی کو نکالتے کیسے دیکھ سکتا ہوں۔ تو بس یہ ہی وجہ ہے کے جس شہر کو پاکستانیوں کا گھر کہا جاتا ہے( مسی ساگا) وہاں سے آج تک ہمارے پاس اک بھی ایم پی پی نہیں آسکا ایم پی پی تو چھوڑیں ہمارے پاس سٹی کونسل تک کی کوئی سیٹ نہیں۔ ہاں لاسٹ فیڈرل الیکشن میں اتفاق سے مسی ساگا میں اک سیٹ پاکستانی کینیڈین کو ملی اور اقراءخالد ایم پی قرار پائیں اتفاق اس لئے کہا ہے کہ اس وقت بھی نامینیشن پروسس میں 2 پاکستانی اقرا خالد اور شفقت علی تھے اور شفقت صاحب کے دل میں کمیونٹی کا خیال جاگا یا جگایا گیا اس پر تو میں کچھ نہیں بول سکتا پر وہ اقرا خالد کے حق میں دستبردار ہوئے اور اس طرح اقرار خالد فیڈرل پارلیمنٹ کا حصہ بنیں۔ اک اور سیٹ پر پاکستانی خاتون سلمیٰ زاہد اسکاربرو سے ایم پی کا الیکشن جیتیں اور اگر سلمیٰ زاہد سے بھی پوچھو تو ان کو پاکستانیوں سے زیادہ دیگر کمیونٹی نے سپورٹ کیا۔ اونٹاریو جہاں پر سب سے زیادہ پاکستانی آکر بسے وہاں سے صرف اک ایم پی پی کی سیٹ پر ڈاکٹر شفیق قادری کافی عرصے سے جیتتے آرہے ہیں اور انکی جیت کا سہرا بھی دیگر کمیونٹیز کو جاتا ہے۔ تو سوال یہ ہے کہ کیا ہم یہی کرتے رہیں گے؟ کیا ایسا نہیں ہوسکتا کہ ہم اک کمیوٹی کے طور پر اپنی پہچان بناسکیں۔ یہ نہیں ہوسکتا کہ اک دوسرے کے خلاف کیمپن چلانے کے بجائے اک دوسرے کے ساتھ مل کر کمپین چلائیں اور جس میں یہ صلاحیت موجود ہے کہ وہ آپ کی کمیونٹی کو کینیڈین سسٹم میں ریپیزنٹ کرسکتا ہے تو باقی کے نمائندے اس کے حق میں دستبردار ہوکر کمیونٹی کو آگے لے جانے کی خاطر اس کی سپورٹ کریں۔ اب سوال یہ آتا ہے کہ ہوسکتا ہے کہ نامینیشن کےلئے جتنے لوگ ہیں ان سب میں یہ صلاحیت موجود ہے کہ وہ آپ کی نمائندگی کسی بھی فورم پر اچھے سے کر سکتے ہیں تو کیا کیاجائے ؟ تو پھر یہ دیکھیں کے کسی کی کتنی لمبی جدوجہد ہے کسی کو کتنا تجربہ ہے کہیں ایسا تو نہیں کہ کسی مخصوص ٹولے کے بھکاوے میں آکر ہم اپنا ہی نقصان کرنے جارہے ہیں ۔ اب بہت ہوا بس بند کرو!
آخر کب ہم پاکستانی کمیونٹی کا سوچیں گے کب پاکستانی بنیں گے
ہم پاکستان سے آنے کے بعد بھی آج تک پنجابی ، پٹھان ، سندھی، بلوچی یا مہاجر بنے ہوئے ہیں پر ہم کو یہ بات سمجھ لینی چاہیے۔ کہ لسانی بنیادوں پر ہم پاکستان میں تو اپنی پہنچان بنا سکتے ہیں پر دنیا میں آج بھی ہم کو پاکستانی کینیڈین پاکستانی امریکن یا پاکستانی یورپین کہا جاتا ہے کوئی ہم کو پنجابی کینیڈین ، سندھی امریکن یا مہاجر یورپین نہیں کہتا تو پھر کیو ں نہ ہم رنگ نسل مذہب کو اپنی چار دیواری میں لے جائیں اور چار دیواری سے باہر صرف اور صرف پاکستانی بن جائیں اور اگر اب بھی ہم پاکستانی نا بنے تو پھر وہ وقت دور نہیں جب ہم کو قوم سمجھا ہی نہیں جائے گا۔

ہو گئیں کوتاہیاں غلطیاں بھی بہت
جاگو ابھی وقت نکلا نہیں ہے ہاتھ سے۔۔۔
آوسب رنجیشیں مٹا کر بن جائیں پاکستانی
ملک کا سوچیں ملک کو سمجھیں افضل اپنی ذات سے۔۔

اظفر امین




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *