ہوم / آج کے کالم / ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ

ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ

شمائلہ عزیز(اسلام آباد)

فرد کو ملت کا ستارہ بنانے میں اسکے معماروں کا بڑا ہاتھ ہوتا ہے۔اسکے معمار اسکے والدین اور اساتذہ ہیں۔دونوں پہ بڑی بھاری ذمہ داری ہے۔اور وہ اپنی اس ذمہ داری کے لیے پہلے معاشرے کو اور پھر روز حساب اپنے رب کو جوابدہ ہونگے۔کہیں پڑھنے کو ملا کہ یہودوں کے ہاں بچے کی پیدائش سے قبل ہی اسکی بہترین تعلیم و تربیت کا انتظام کر دیا جاتا ہے۔اسکے والدین ہر اس کام سے اجتناب برتتے ہیں جو بچے کی شخصیت پر منفی اثرات مرتب کرے۔جھوٹ،بے ایمانی،بداخلاقی اور تمام برے افعال سے خود بھی دوری اختیار کرتے اور بچے کی پیدائش سے لے کر اسکے سکول جانے کی عمر تک اسے بھی ان سبھی قبیحات سے دور رکھتے۔یہی وجہ ہے کہ وہ قوم مذہبی ، ملی اور وطنیت کے جذبات سے سرشار ہے۔۔یہ تو ایک غیر مسلم قوم کے اچھے افعال کا ذکر ہے۔اور یہ یہودیت  کی نہیں  ہمارے پیارے مذہب اسلام کی بنیادی تعلیمات کا نچوڑ ہے۔ماں کی گود بچے کی پہلی درسگاہ ہے۔اس درسگاہ سے سیکھے گئی عادات و افعال عمر بھر انکی اولاد کے ساتھ پر چھائی کی صورت رہتی ہیں۔ایک ماں کی تعلیمات ہی شیخ عبدالقادر جیلانیؒ اور ابو بن ادھم جیسی شخصیات پیدا کرتی ہیں۔اور ایک ماں کی ہی بنیادی تربیت میں کمی  کسی بھی فرد کو جرم اور بد اخلاقی کے گہرے کنوئیں میں دھکیل سکتی ہے۔ہمارے ہاں وہ مثالیں بھی موجود کہ ماں کے بطن سے حافظ قرآن بچہ پیدا ہوتا ہے۔کیونکہ اسکی ماں خود زاہدہ تھی۔تاریخ اسلام ایسی ہزاروں مثالوں سے بھرا پڑی ہے۔لیکن اب حالات یکسر مختلف ہیں۔یہاں سے کچھ آگے چلا جائے تو اگلا مقام استاد کا ہے۔جنہیں روحانی والدین کا درجہ عطا کیا گیا اور نبی کریمﷺ نے فخریہ کہا "میں معلم بنا کر بھیجا گیا ہوں۔معلمی پیشہِ پیغمبری ہے۔اور ایک اعلی منصب۔۔۔کسی بھی فرد واحد کی روحانی، اخلاقی اور سماجی تربیت کرنا استاد کی پہلی ذمہ داری اور اسکی ذہنی استعداد کو پیش نظر رکھ کے دینی و دنیاوی علم سکھا کر اسے معاشرے کا قابل فرد بنانا استاد کی دوسری ذمہ داری۔ایک پہلی درسگاہ تھی صفہ جسکے معلم تھے محمدﷺ ۔انکےطلباء نے عرب کے صحرا سے اٹھ کے دنیا کو مطیع کیا۔۔پھر ارسطو اور سقراط سے اساتذہ کو دیکھیے جنھوں نے سکندر اعظم جیسے فاتح  بنائے۔ایک استاد تھا اصمعی جس پہ خلیفہ وقت بھی رشک کرتا تھا ۔اور ایک استاد تھے میر حسن جنھوں نے اقبال کو اقبالؒ بنا ڈالا۔غرضیکہ کہ دنیا کے ہر کامیاب انسان کے پیچھے ایک قابل استاد موجود رہا۔۔لیکن کیا آج کے والدین اور اساتذہ خود اس اخلاقی معیار پہ ہیں کہ بچے کو دنیا و آخرت کے سبھی امتحانات کے لیے تیار کر سکیں۔انکی شخصیت کی عمارت کو شاہانہ اور پر وقار بنا سکیں ۔۔ادب پہلا قرینہ ہے محبت کے قرینوں میںاتنی تہمید کا مقصد والدین و اساتذہ کی ذمہ داریوں پر ایک مختصر نظر ڈالنا تھا۔اور موجودہ حالات پر رونا تھا۔آجکل امتحانات کا دور دورہ ہے۔اور کچھ باتیں دل و دماغ پر ہمیشہ گراں گزرتی ہیں۔ہمارے ہاں چاہے سال بھر محنت سے پڑھایا جائے سال کے آخر میں جب امتحانات کی بات آتی ہے بچے، والدین  اور اساتذہ نقل کی بات کرتے دیکھائی دیتے ہیں۔ایجوکیشن ڈیمپارٹمنٹ بہترین نصاب اور جدید تعلیمی پالیساں بنا بنا کر اکتا چکا لیکن نتائج اس کے برعکس مل رہے ہیں۔خصوصاً پانچویں، آٹھویں اور میڑک کے نظام امتحان تسلی بخش نہیں ۔چاہے وہ پنجاب بورڈ ہو PEC، پنڈی بورڈ، فیڈرل بورڈ یا سندھ بورڈ ہو ہمیشہ سے نقل کروانے کی خبریں گردش کرتی رہتی ہیں۔بلکہ نقل مافیہ اس قدر طاقتور ہے کہ اس کے خلاف بولنے والے افراد کا اپنے ہی ڈیمپارٹمنٹ میں جینا حرام کر دیا جاتا ہے یعنی کہ دریا میں رہنا اور مگرمچھ سے بیر۔۔۔تمام تر چیک و بیلنس کے بعد بھی ادارے اس لعنت سے چھٹکارہ حاصل کرنے میں  ناکام ہیں۔اگر پنجاب ایجوکیشن ڈیمپارٹمنٹ کی بات کی جائے تو اس وقت پنجاب کے سبھی سکولوں میں بہترین تعلیمی نظام رائج ہے۔پرائمری کی سطح پہ ایم اے ، بی ایڈ اور ایم فل اساتذہ تعینات ہیں ۔کسی حد تک سٹاف بھی پورا ہے ۔جدید نصاب،نت نئی تعلیمی اصطلاحات نافذ کی جارہی ہیں۔مانیڑنگ، مینٹورنگ کی کڑی صورتحال اور اساتذہ کی بہترین ٹرینگ ۔۔سکولوں کی عمارات سبھی سہولیات مہیا کرنے کی حتی الامکان کوشش کی گئی ہے۔سال بھر محنت سے پڑھایا بھی جاتا ہے لیکن امتحان کے خوفناک جن نے بچے ، والدین اور اساتذہ کو انجانے ڈر میں  جکڑ رکھا ہے۔اور اس خوف سے لڑنے کا بہترین حل نقل ہے جس سے سب کی بچت ہو جاتی ہے۔تعلیمی اداروں کو امتحانات پر لاکھوں خرچ کرنے کی کیا ضرورت ہے۔محنتی اساتذہ کو سارا سال دماغ کھپانے کی کیا ضرورت ہے اور ذہین طلبہ کو خون جلا کر محنت کرنے کی کیا طلب۔جب نتیجہ آنے پہ سب نے پاس ہونا ہے تو۔آجکل اگر بچوں سے انکے نمبر پوچھیں جائیں تو پچھتر فیصد بچوں کے نمبر اسی فیصد سے اوپر اور چالیس فیصد بچوں کے نوے فیصد سے اوپر نمبر ہوتے ہیں۔لیکن اگر تعلیمی قابلیت اور سیکھنے کے رحجان کی بات کی جائے تو خاصی مایوسی ہوتی ہے۔جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے بچے کالج اور یونیورسٹی کی سطح پر بری طرح ناکام ہو جاتے ہیں۔بات ہو رہی تھی اخلاقیات کی کردار کی تو اگر اساتذہ کے یہ رویے ہونگے تو طلبہ سے کیسے ایمانداری کی توقع کی جائے۔نتیجہ برا آنے کی سزا پر اساتذہ کو تادیبی کاروائی کے مراحل سے گزرنا پڑتا ہے جس کے بچنے اور سو فیصد نتائج محمکے کو مہیا کرنے کے لیے نقل کا سہارا لیا جاتا ہے۔محمکہ جس قدر سختی کرتا ہے نقل کا رحجان اس قدر زور پکڑتا جارہا۔نتیجہ یہ نکلا کہ طالب علم نے پڑھنا چھوڑ دیا اور کروڑوں کی تعلیمی پالیسیاں فلاپ۔لیکن سوچنے کی بات ہے کہ ہم کس کو دھوکہ رہے ہیں خود کو اپنی نئی نسل کو یا اپنے ملک پاکستان کو۔یہ دنیا مکافات عمل ہے۔جو بویا ہے وہ کاٹنا پڑتا ہے۔اور ہم کاٹ رہے ہیں۔غربت ، افلاس، دہشتگردی، بیماری اور بے سکونی کی صورت ہیں ۔جو قومیں تاوان میں  آنکھیں دے دیتی ہیں انکی نسلیں شعور و آگہی سے کوسوں دور بداخلاقی کے اندھیرے جنگلوں میں نابینا جنم لیتی ہیں ۔تعلیمی اداروں کو ایسی پالیساں وضع کرنی چاہیے جو تھوڑا اور ستھرا کی طرز پہ ہوں۔امتحانات بچوں کی اپنی ذہنی استعداد اور قابلیت کے مطابق ہوں۔استاد کو سزا کے خوف سے آزاد کر کے معاشرے کے معمار کے درجے پہ بحال کیا جائے تاکہ وہ اپنے اخلاقی اور علمی شعور کو بروئے کار لاتے ہوئے اپنے فرض کو بااحسن طریقے سے انجام دے سکے۔ورنہ کل یہی بچے جو آج امتحانات میں  نقل کی صورت میں  بے ایمانی، رشوت خوری اور دھوکہ دہی سیکھ رہے کل بازور طاقت یا دولت کسی بھی محکمے یا ایوانوں میں منتخب ہو کے ہمارے سروں بیٹھ گئے تو انجام کیا ہو گیا۔ہم پھر سراپا سوال ہونگے۔۔۔رشوت کون سکھاتا ہے؟ دہشتگرد کیسے بنتے ہیں ؟ کالی بھیڑیں کیسے پیدا ہوتی ہیں ؟ حکمران چور کیوں ہیں اور تمام تر کوششوں کے باوجود تبدیلی کیوں نہیں  آتی؟ اسلامی جمہوریہ پاکستان کیوں ریاست مدینہ کے اصولوں پر گامزن نہیں ہورہا؟ فرد کو اس قابل بنائیے کہ وہ ملت کے مقدر کا ستارہ بنے ۔ناں کہ چاند سی مملکت کا گہن ۔۔۔۔شاہین پیدا کیجیے کرگس نہیں ۔۔۔ورنہ یہ مردار خور افراد بوٹی بوٹی نوچ لیں گے اس ملک کی۔۔بچے قوم کا مستقبل ہوتے ہیں اور ایسی قوم کا مستقبل کیا ہو گا جس کی بنیاد ہی جھوٹ، دھوکے، نقل ، رشوت اور سفارش جسیے عوامل پہ رکھی گئی ہو۔ہوش کے ناخن لینے کا وقت ہے ورنہ اخلاقیات کی موت پہلے ہی ہو چکی ہے علم کی راہیں بھی مسدود ہو جائیں گئیں۔اور آنے والی نسلیں ڈگریوں کے بوجھ تلے دب کے مر جائیں گی۔علم برائے علم، علم برائے تہذیب اور علم برائے عمل کے رجحان کو فروغ دینا ہو گا تبھی کامیابی ممکن ہے۔

شکایت ہے مجھے یا رب خداوندان مکتب سے
سبق شاہین بچوں کو دے رہے ہیں خاکبازی ک



Check Also

” پیٹ ہے یا کباڑخانہ” 54 سالہ شخص کے پیٹ سے 2 کلوگرام وزنی پتھر اور سکے برآمد

جنوبی کوریا: ڈاکٹروں نے ایک مریض کے معدے سے 2 کلوگرام وزنی پتھر، سکے اور …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے