ہوم / آج کے کالم / خواب ِخرگوش

خواب ِخرگوش

شمائلہ عزیز۔۔۔۔اسلام آباد

زمانہ طالب علمی ميں جب صرف پی ٹی وی آیا کرتا تھا تو ہم پہ لازم تھا کہ نو بجے کا خبرنامہ ضرور سنیں۔زبردستی ڈالی گئی اس عادت کا نتیجہ یہ تھا کہ حالات حاضرہ سے باخبر رہتے تھے۔ لیکن آج اکیسویں صدی میں رہ کر بھی ہمارے ملک کی نصف آبادی اپنے ہی ملک کے صدر کا نام تک نہیں جانتی ۔یہ کوئی اچھنبے کی بات نہیں ۔بیچاری عوام کو اتنی فرصت کہاں ۔فرصت ملے بھی تو اتنی طلب کہاں ۔ ہر شخص اکتاہٹ کا شکار ہے۔
دنیا نے گلوبل ویلیج میں آکے چاند ستاروں پہ کمند ڈالی، سائنس کی دنیا میں انقلاب برپا کیے۔علم سے لے کر کھیل سبھی میدانوں میں فتح کے جھنڈے گاڑ دیے۔لیکن ہمارے ہاں جدت کی یہ ہوا بھی الٹے رخ پہ چلی۔بجائے کچھ اچھا سوچنے اور کرنے کے ہم نے برائی کی طرف ہی دوڑ لگائی۔میڈیا ہو یا سوشل میڈیا ہم نے کسی بھی شعبے کو یا تو وقت گزاری کے لیے مشغلہ بنایا یا پھر تفریح اور برائی کی آماجگاہ بنا ڈالا۔میرے ملک کے لوگوں نے گزشتہ دو تین دہائیوں میں کیا پایا کیا کھویا اس کے لیے کسی جانچ پڑتال کی ضرورت نہیں پڑتی۔نتائج واضح نظر آرہے ہیں۔جب کہ دنیا سیاروں پہ زندگی کے آثار ڈھونڈ رہی ہے وہی ہم سب اپنے ملک میں پھیلی بدترین غربت، افلاس، بے روزگاری، دہشت گردی اور لاقانونیت کے نت نئے حادثے صبح و شام دیکھ رہے ہیں۔جہاں زمانہ قابلیتوں اور صلاحیتوں کا لوہا منوانے میں مصروف عمل ہے وہی ہم آپسی خانہ جنگی میں مگن ہیں۔زمانہ علم و فن کی نئی راہیں کھوجنے میں مصروف عمل ہے اور ہم سندھی، پنچابی، مہاجر اور بلوچی ہونے پہ لڑ رہے ہیں۔قرآن سے تمام اقوام عالم مستفید ہورہی ہیں اسے ضابطہ اخلاق و قانون مان کر اس پر عمل پیراء ہو رہی ہیں۔وہی ہم اسے کھول کر پڑھنے کی بجائے سنی، وہابی، شعیہ ہونے پہ دست و گریباں ہیں۔ہمارے حال تو ایسے ہیں کہ خانہ خدا مسجد پہ بھی مسلک کی چھاپ لگا کر میری مسجد تیری مسجد کی لڑائی لڑ رہے ہیں۔کس نے کہاں ہاتھ باندھے، کس کی ڈاڑھی کتنی لمبی ہے، کس کی شلوار کے پائنچے کتنے اونچے ہیں انہی لمبائیوں کو ماپ کر ایک دوسرے پہ فتوے لگانے میں مصروف ہیں۔علم حاصل کرنے کے نام پہ ہر کوئی ڈگریوں کے بوجھ تلے دبا نظر آتا ۔اخلاقیات براہ نام بھی نہیں ملتی۔جب درسگاہوں سے ہی عمل و اخلاق اٹھ گیا ہو تو شعور انسانی افراد کی زندگیوں میں کہاں ملے گا۔
تعلیم تعلیم کا نعرہ لگایا جارہا ہے۔گلی محلے میں سکولز، کالجز، اور یونیورسٹیوں کی بہتات ہے یہاں تک کہ وزیراعظم ہاوس کو بھی یونیورسٹی بنا دیا گیا ہے ۔لیکن تعلیمی شعور کا یہ عالم ہے کہ نہ ڈھنگ سے اردو آتی ہے نہ انگلش۔ پنتالیس فیصد سے زائد لوگ بنیادی تعلیم بھی محروم ہیں۔نصف آبادی پینے کے صاف پانی سے محروم ہے۔صحت کی سہولیات کا یہ عالم ہے کہ مریض فرش پہ تڑپ کے مر جاتے ۔تین سو مریضوں پر ایک ڈاکٹر میسر ہے۔جس ملک میں بنیادی حقوق و سہولیات کا یہ عالم ہو وہاں کی زندگی کیسی ہو گی اس کا اندازہ لگانا بھی اذیت ناک ہے۔۔
جو میسر ہے وہ غریب کی دسترس سے باہر ہے مہنگائی کا یہ عالم ہے کہ آٹا خریدو تو دال تک ہاتھ نہیں پہنچ سکتا۔سبزی بھی گوشت کی قیمتوں میں ملتی۔پاکستان جیسا زرخیز ملک جس میں سبھی موسمی پھل پائے جاتے ہیں ۔صرف انہیں دور سے ہی حسرت سے دیکھا جا سکتا ہے۔بجلی اور گیس کم کم ہی آتی لیکن بل تسلسل سے آتے اور اس قدر زیادہ کہ کمانے والے کی استطاعت اور طاقت سے باہر ہوتے۔آئے روز سنتے ہیں آج کسی نے غربت سے تنگ آ کے اپنی اولاد کو بیچ دیا، آج کوئی خودکشی کر گیا، یہ وہ دور ہے جب جینا تو دشوار ہے ہی غریب آدمی کے لیے مرنا بھی محال ہو چلا ہے۔۔۔۔۔۔۔
بات چلی تھی تبدیلی کی۔۔۔۔کسی خوشگوار تبدیلی کی ۔۔۔مجھے و ناچتے مناظر کبھی نہیں بھولتے جب اس دہشتگردی سے نیم جاں ملک کو تبدیلی کا سنہرا خواب دیکھا کر اسے پھر سے جینے کی آس دی گئی تھی۔میرے ملک کے نوجوان کو آس ملی تھی کہ قدم قدم یونیورسٹی ہو گی۔اور کروڑوں کے حساب سے نوکریاں۔۔یہ بات سن کے وہ تبدیلی کے گیت پہ رقصاں تھا۔میرے ملک کی بھولی عوام سے وعدہ تھا کہ ملک کو ریاست مدینہ کی طرز پہ چلایا جائے گا جہاں ہر طرف امن و سکون اور انصاف ہو گا۔جس پہ وہ مطمئن تھے۔سبھی نے ملکر اس تبدیلی کے نعرے پہ لیبیک کہا ۔اور الیکشن اور تبدیلی کے نام پر جمہوریت کے تابوت میں آخری کیل ٹھونکی۔اتنے سارے حسین خواب سجائے عوام ریاست مدینہ کی طرف گامزن تھی۔دن مہینوں میں بدل گئے ۔لیکن تبدیلی کا نشان تک نہ ملا۔نہ بجلی آئی، نہ گیس، نہ نوکریاں ملیں، نہ انصاف۔۔۔۔۔وہی بے روزگاری، وہی افلاس، وہی لعن طعن ،دگنی مہنگائی ویسی ہی لاقانونیت اور وہی تلخی بھرے روز و شب کچھ بھی تو نہ بدلا۔عوام جہموریت کی لاش کندھے پہ اٹھائے اٹھائے اکتا چکی ہے۔رفتہ رفتہ سبھی نیند سے بیدار ہورہے۔خواب جوں کے توں ۔کرسی ملنے کے بعد وہی باتیں ۔۔۔ قومی خزانہ خالی ہے۔۔مانگ تانگ کے شرمناک سلسلے اور وہی رونے ۔۔۔۔خواب خرگوش سے بیدار ہو کے حقیقت کا سامنا کیجیے کہ ابھی تو پانچ سال تک جھیلنا ہے اس عذاب کو

سچ بولنا محال تھا اتنا کہ ایک دن
سورج کی بھی زبان پہ چھالے نکل پڑے

Check Also

” پیٹ ہے یا کباڑخانہ” 54 سالہ شخص کے پیٹ سے 2 کلوگرام وزنی پتھر اور سکے برآمد

جنوبی کوریا: ڈاکٹروں نے ایک مریض کے معدے سے 2 کلوگرام وزنی پتھر، سکے اور …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے