ہوم / آج کے کالم / پاگل پن اور نفرتیں جغرافیہ سے ماورا ہوتی ہیں

پاگل پن اور نفرتیں جغرافیہ سے ماورا ہوتی ہیں

سنتے آئے ہیں کہ موسیقی، شاعری اور فنونِ لطیفہ سرحدوں کی محتاج نہیں ہوتیں شاید یہ بات فائن آرٹ کی حد تک مناسب معلوم نہیں ہوتی ، نفرت ، تشدد اور مخالف نظریات رکھنے والوں کیلئے دنیا میں کوئی خطہ ایسا نہیں جہاں ان پر سب وشتم روا نہ رکھا گیا ہو ،
آج بروز بدھ مورخہ 6 فروری 2019 کے جنگ اخبار میں ایک سنگل کالم خبر نے چونکا دیا کہ انسان تہذیبی طور پر جتنی ترقی کرلے نفرتیں اس کے لاشعور میں رچ بس جاتی ہیں اور نہ چاہتے ہوئے بھی انسان ان سے اپنا دامن نہیں چھڑا سکتا۔
سائنٹفک سوشلزم کے بانی کارل مارکس کے مقبرے پر کچھ لوگوں نے توڑ پھوڑ کی اور اس نیک انسان کے مقبرے کو نقصان پہنچایا ، یہی کام ہماری فسطائیت زدہ مذہبی پیشوائیت ایشیاء کے تمام ممالک میں ماضی بعید و قریب میں کر چکی ہے ، سلطنت عثمانیہ کے خاتمہ کے بعد آلِ سعود نے حجاز میں اسلامی نشاۃ ثانیہ کے نام پر زور و شور سے کیا ، پاکستان کو گزشتہ چار عشروں سے جہنم کا نمونہ بنانے والی پیر تسمہ پا اسٹیبلشمنٹ نے مذہبی اقدار اور دینِ خالص کے احیاء کے نام پر جہاں لاکھوں انسانوں کو محض مابعدالطبیعیات کے غیر فطری نظریات کے ہاتھوں زندگی کی نعمت سے محروم کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی وہاں شاعروں اور صوفیاء کے مقبروں کو بھی اپنے قہر کا نشانہ بنایا ، خیبرپختونخوا میں رحمٰن بابا کا مزار ہو ، کراچی میں عبداللہ شاہ غازی کی درگاھ ہو یا سیہون شریف میں لعل شہباز قلندر کا روضہ ہو ، بلوچستان کے دور افتادہ پہاڑی سلسلہ میں نورانی کی درگاھ ہو یہ سب ان نیم پاگل لوگوں کے ہاتھوں ستائے ہوئے ہیں اور ہمارے کٹھ پُتلی حکمران بے غیرتی کی عملی تفسیر بنے مذمت اور تعزیت کے بیان اس طرح داغتے ہیں کہ ان پر سرکس کے شعبدہ بازوں کا فن ہیچ معلوم ہوتا ہے۔
لندن جیسے علمی شہر میں جب اشتراکیت کے دشمن کارل مارکس کے مقبرے پر توڑ پھوڑ کرسکتے ہیں تو ہم جیسے نیم متمدن اور علم دشمن معاشروں سے کیا توقع کی جاسکتی ہے۔
شیر میسور ٹیپو سلطان کی شہادت کے بعد انگریزوں نے اپنے کتوں کا نام ٹیپو رکھنا شروع کر دیا تھا اور کتوں کو پچکار پچکار کر ٹیپو کہہ کر بلایا جاتا تھا، نفرت کی آگ صرف خواندگی نہیں بجھا سکتی اس کیلئے نرم دل اور احساس کی بہت ضرورت ہے ، شاید یورپ میں بھی اس طرح کے پاگل پائے جاتے ہوں گے مگر ہمارے معاشرے میں ان کی تعداد لاکھوں سے تجاوز کر چکی ہے

Check Also

آغا سراج درانی کا جسمانی ریمانڈ، یکم مارچ تک نیب کے حوالے

کراچی: پیپلز پارٹی کی مشکلات میں اضافہ،   احتساب عدالت نے آمدن سے زائد اثاثوں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے