ہوم / آج کے کالم / کیا حکومت اسرائیل کو تسلیم کرنے والی ہے؟

کیا حکومت اسرائیل کو تسلیم کرنے والی ہے؟

کالم نگار: حسین حقانی

پاکستانی یہودی فشل بینک ہالڈ کے ایک ٹویٹ کے مطابق ملک کی وزارتِ خارجہ نے اسے پاکستانی پاسپورٹ پر اسرائیل جانے کی اجازت دے دی ہے۔ اس سے پاک اسرائیل تعلقات کے حوالے سے شکوک و شبہات کا ایک نیا دور شروع ہو گیا ہے۔ پاکستان دفتر خارجہ جس طرح سابقہ ادوار میں اس قسم کی افواہوں کی ہمیشہ تردید کرتا رہا ہے اس بار بھی اس کا یہی کہنا ہے کہ اس کا یہودی ریاست سے متعلق اپنی پالیسی تبدیل کرنے کا ہرگز کوئی ارادہ نہیں ہے۔
پاکستانی پاسپورٹوں پر واضح الفاظ میں درج کیا گیا ہے کہ وہ اسرائیل کے سفر کے لیے کارآمد نہیں ہیں۔ جو کہ ستر سال سے برقرار عدم تسلیم اور ناراضگی کا برملا اظہار ہے۔
مختلف اوقات میں خفیہ روابط کی افواہیں اس حقیقت سے ہرگزمیل نہیں کھاتیں، ایسا بظاہر ممکن دکھائی نہیں دیتا کہ دنیا کا پہلا سنی اسلامی جمہوریہ ایک یہودی ریاست کے خلاف اپنی روایتی مخاصمت کو جلد ہی کسی وقت ختم کردے گا۔
عرب اسلامی دنیا کے اجتماعی مو¿قف میں تبدیلی یا ممکنہ طور پر ایک خودمختار فلسطینی ریاست کا ظہور ہوسکتا کہ پاکستانی حکمرانوں کے لیے یہ ممکن بنا دے کہ وہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لے آئیں۔
اس کے ساتھ ساتھ جہادی دہشت گردی کے متعلق اسلام آباد کے موقف میں واضح تبدیلی کے بغیر اسرائیل بھی نہیں چاہے گا کہ بھارت کے ساتھ اس کے گہرے مراسم کو خطرہ لاحق ہو جائے۔ اگر لشکر طیبہ اور جیش محمد جیسے دہشتگرد گروہ جو ‘اسرائیل کو مزہ چکھانے’ یا ‘یہودیوں کو مارنے’ کے عزم کا اعادہ کرتے رہتے ہیں پاکستان میں آزادی سے کام کررہے ہوں تو اسرائیل کے لیے بھی مشکل ہوگا کہ وہ دوستانہ تعلقات کے وعدوں پر یقین کرلے۔
مختلف ادوار میں بعض پاکستانیوں کی جانب سے اسرائیل کے ساتھ بالکل نئی نوعیت کے تعلقات کی خواہش کا اظہار کیا جاتا رہا ہے، خاص طور پر ان لوگوں کی طرف سے جو پاکستان کی بھارت کے ساتھ تعلق کی عالمی اہمیت کے بارے میں تشویش زدہ رہتے ہیں۔
بظاہر اس قسم کے سازشی نظریات صیہونی مخالفین کی عالمی معاملات پر یہودیوں کے اثرورسوخ سے متعلق سوچ کا نتیجہ ہوتے ہیں۔ وہ یہودیوں کی حقیقی پہچان اور تاریخی فلسطین میں ان کی قومی سرزمین کے حق کو تسلیم نہیں کرتے۔
ایک فوجی آمر جنرل پرویز مشرف نے 2003ئ میں پاکستان میں اسرائیل کو تسلیم کرنے کے مواقف اور ناموافق پہلوو¿ں پر باضابطہ مباحثے کی ضرورت پر بات کی تھی۔بھارت کے تل ابیب کے ساتھ فوجی، معاشی اور فوجی خبررسانی سے متعلق تعلقات کے بیچوں بیچ بلند آواز میں حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا "ہمارا اسرائیل سے کیا جھگڑاہے؟”
دوسال بعد پرویز مشرف کے وزیرِ خارجہ نے اپنے اسرائیلی ہم منصب سے استنبول میں ملاقات کی۔ اپنی مخصوص جرآت مندی کے ساتھ مشرف نے دعویٰ کیا تھا کہ اس کے موقف کو بڑے پیمانے پر حمایت ملی ہے۔ ان کے مطابق جب ہم اسرائیلیوں سے، اسرائیلی وزیرِ خارجہ سے بات کرتے ہیں یا میں یہودی کانگریس سے خطاب کرتا ہوں تو میرا زہن اس بارے میں بالکل صاف ہوتا ہے کہ یہی وہ سٹریٹیجک سمت ہے جس کی طرف پاکستان کو بڑھنا چاہیے۔
اس کے بعد پاکستان کی انٹر سروسز انٹیلیجنس اور اسرائیلی انٹیلیجنس کے درمیان کچھ خفیہ رابطے ہوئے لیکن اس کے بعد جلد ہی پیش قدمی روک دی گئی اور مشرف کا اقتدار پر کنٹرول بھی ماند پڑ گیا تھا۔
مشرف نے اپنے فوجی ساتھیوں کو اسرائیل کے ساتھ رابطوں کا یہ جواز پیش کیا کہ اصل میں اس کوشش کا مقصد پاکستان کے خلاف اسرائیل اور بھارت کے کسی مشترکہ حملے کا راستہ روکنا ہے۔
پاکستان کے صدر اور چیف آف آرمی سٹاف کی حیثیت سے پرویز مشرف کا خیال تھا کہ وہ خارجہ امور میں کچھ خطرات مول لے سکتا ہے۔ یہاں تک کہ پاکستان کا بے لگام میڈیا اور غصیلے مزاج والی مذہبی جماعتیں بھی کسی آرمی چیف کو ملک کے نظریئے اور قومی مفاد کے خلاف کام کرتا دیکھ کر بھی کوئی الزام تراشی نہیں کر سکتیں۔
مشرف کے بعد آنے والے سول حکمران ایسے خطرات مول نہیں لے سکتے تھے۔ انھوں نے اسرائیل کا معاملہ آئی ایس آئی اور فوج پر چھوڑ دیا، وہ اس بات سے خوفزدہ تھے کہ ان کی طرف سے پرویز مشرف کے مو¿قف پر پیش قدمی کی کوشش کو شدت پسند لوگوں کی مدد سے ملک کی اسٹیبلشمنٹ کی شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑے گا
عمران خان کے وزیراعظم منتخب ہونے کے بعد سول ملٹری اختلافات کے خاتمے کی خبریں آرہی ہیں اور فوجی تشویش کے معاملات ایک بار پھر مرکزی اہمیت اختیار کر چکے ہیں۔عمران خان کو یقین دہانی کرائی جا چکی ہے کہ فوج اور انٹیلی جنس ادارے ہر اندرونی طاقت سے نمٹ لیں گے جو ان کی پاکستان کی بین الاقوامی تنہائی ختم کرنے کی کوشش کے دوران ناراضگی کا اظہار کرے گی۔
عمران خان کے اقتدار سنبھالنے کے فوراً بعد پاک اسرائیل رابطوں کی افواہیں ایک بار پھر سر اٹھانے لگی ہیں۔ ایک امریکی یہودی شخصیت جیک روسن نے پاکستان کے معاملات میں خاموشی کو توڑتے ہوئے عمران خان کی تعریف میں ایک آرٹیکل لکھا ہے اور پاکستان کے امریکی امداد کے مستحق ہونے پر بھی دلائل دیئے ہیں۔
روسن کے ناقدین نے فوری طور پر عمران خان اور پاکستان تحریک انصاف کے دیگر عہدیداران کے جہاد کی حمایت اور صیہونیت کی مخالفت میں متعدد بیانات کی فہرست تیار کرلی ہے اور وہ ببانگ دہل اس حیرت کا اظہار کررہے ہیں کہ روسن آخر کس لیے نئے پاکستانی وزیراعظم کے لیے لابنگ کررہا ہے۔
اس کے نتیجے میں ہونے والی پس و پیش کے دوران عمران خان کی جمائما گولڈ سمتھ کے ساتھ سابقہ شادی کو ان کے یہودیوں سے تعلقات کے ثبوت کے طور پر پیش کیا جاتا رہا ہے۔جمائما نے ہمیشہ اس بات پر اصرار کیا ہے کہ اگرچہ اس کا باپ سر گولڈسمتھ پیدائشی یہودی تھا وہ ایک کیتھولک عیسائی عورت ہے۔جمائما کو خود بھی صیہونیت مخالف الزامات کا سامنا رہتا ہے جن کی وہ سختی سے تردید کرتی ہے۔
پچھلے سال اکتوبر میں اسرائیلی اخبار ہاریز کے انگریزی ایڈیشن کے چیف ایڈیٹر ایمی شارف نے یہ شوشا چھوڑ کر تہلکہ مچا دیا تھا کہ تل ابیب سے ایک پرائیویٹ طیارہ ممکنہ طور پر اسرائیلی حکام کو لے کر اسلام آباد پہنچ چکا ہے۔یہ دعویٰ جہاز کا انٹرنیٹ پر موجود فلائیٹ کے راستے کی ٹریکنگ کرنے والی سائٹس میں سے ایک کے ذریعے پیچھا کرنے کے بعد کیا گیا تھا جس کی حکومت پاکستان اور پاکستان سول ایوی ایشن کی طرف سے سخت الفاظ میں تردید کر دی گئی۔
اس کے فوراً بعد مشرف کے قریبی ریٹائرڈ فوجی افسران نے پاکستان کے ٹی وی چینلز پر اسرائیل کو تسلیم کرنے کے حق میں دلائل کو ازسرنو دہرانا شروع کردیا تاکہ بھارت کو اسرائیل کی خصوصی دوستی سے محروم کیا جا سکے۔ پی ٹی آئی کے ایک رکن اسمبلی نے پارلیمنٹ میں اپنی تقریر کے دوران معاملہ آگے بڑھانے کی کوشش کی لیکن حکومت نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کے ہر امکان کی سرکاری طور پر تردید کر دی۔
ہاریز نے اس کے ردعمل میں یہ مو¿قف اختیار کیا کہ پاکستانی فضا میں کسی اسرائیلی طیارے کے ممکنہ داخلے کی افواہ پر سامنے آنے والا شدید ردعمل پاکستان کی اسرائیل کے ساتھ شدید دشمنی کا واضح ثبوت ہے۔ اس نے لکھا کہ حکومت پاکستان نے ناصرف کسی اسرائیلی طیارے کے اسلام آباد ائیرپورٹ پر لینڈ کرنے کی سختی سے تردید کی بلکہ اس نے اس رپورٹ کو ہندو یہودی اتحاد کی پاکستان کے خلاف ایک نئی سازش قرار دے دیا۔
پاکستان کے متعلق یہ اعتقاد کہ اسے اسلام دشمنوں کی سازشوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے کئی سالوں سے پاکستان کے قومی ڈی این اے کا اٹوٹ انگ بن چکا ہے۔ تل ابیب اور دہلی کے درمیان دراڑ پیدا کرنے کے لیے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کی مدبرانہ تجاویز اس نظریے پر غالب نہیں آ سکتیں کہ پاکستان اسلام کا قلعہ ہے اور کئی غیر مسلم طاقتیں جن میں اسرائیل اور بھارت سرفہرست ہیں اسے تباہ کرنے کا موقع تلاش کر رہی ہیں۔
اسرائیل کی جانب شدید نفرت پاکستان کی بنیاد سے میل کھاتی ہے۔مارچ 1947ئ میں پاکستان کے بانی محمد علی جناح نے خود سے ملنے والے پہلے امریکی ڈپلومیٹ کو بتایا کہ "بھارتی مسلمانوں کی اکثریت امریکیوں کو اپنا مخالف سمجھتی ہے۔” جناح صاحب نے اس نظریے کی دو وجوہات بیان کیں۔ پہلے انھوں نے کہا کہ زیادہ تر امریکیوں نے بظاہر پاکستان کے قیام کی مخالفت کی تھی اور دوسری وجہ یہ بتائی کہ امریکی حکومت اور عوام فلسطین کے خلاف یہودیوں کی پشت پناہی کرتے ہیں۔

Check Also

آغا سراج درانی کا جسمانی ریمانڈ، یکم مارچ تک نیب کے حوالے

کراچی: پیپلز پارٹی کی مشکلات میں اضافہ،   احتساب عدالت نے آمدن سے زائد اثاثوں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے