ہوم / آج کے کالم / “اخبارات میں لکھنا خود کلامی کے سواکچھ نہیںُ”

“اخبارات میں لکھنا خود کلامی کے سواکچھ نہیںُ”

فیض الرحمان
واشنگٹن

صحافت اور صحافتی ادارے ایک عرصے سے مشکلات کا شکار ہیں ۔ نوے کی دہائی ہی سے انٹرنیٹ کے عام ہونے کے بعد صحافتی اداروں کی آمدنی متاثر ہونا شروع ہوگئی اور پھر یکے بعد دیگرے نت نئی ویب سائٹوں اور سمارٹ فونز ایپس نے تو صورتحال بہت ہی دگرگوں کردی ہے ۔ روایتی ریونیو ماڈل اب کسی بھی طرح قابل عمل نہیں رہا ۔ یہ ہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں صحافتی اداروں سے صحافیوں کی برخاستگی، اور تنخواہوں کی عدم ادائیگی ایک معمول سا بنتا جارہا ہے ۔ پاکستان میں جیو اور ایکسپریس وسائل سے مالا مال ادارے صحافیوں کو انکے جائز، محنت شاقہ سے کمائے گئے واجبات ادا نہیں کر رہے ۔ ادھر امریکہ میں بزفیڈ، وائس، ھفنگٹن پوسٹ اور مکلاچی نے سینکڑوں صحافی فارغ کردیے ۔

اس تمام صورتحال کے باوجود جب برادرِعزیز ، آفاق خیالی نے یہ خبر سنائی کہ انہوں نے تقریباً  تین دہائیوں بعد پاکستان پوسٹ کا پرنٹ ایڈیشن بند کردیا ہے اور اب پاکستان پوسٹ کو انٹرنیٹ کے ذریعے قارئین تک پہنچا یا جائیگا تو افسوس بہرحال ہوا لیکن خوشی بھی کہ آفاق نے ایک نرے صحافی ہونے کے باوجود کچھ کاروباری سمجھ بوجھ کا بھی مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے بیوی بچوں کی بہتری کا کچھ خیال کیا ۔ لگتا یہ ہے کہ اب بات تو ویب سائٹس اور ایپس سے بھی آگے نکلنے والی ہے ۔ ویب سائٹس پر ابھی بھی بہت سے لوگ نہیں جاتے ۔ ایک سروے کا مطابق امریکہ میں۴۳ فی صد لوگ فیس بک سے خبریں حاصل کرتے ہیں ۔ اخبارات میں مضامین اور کالم لکھنا تو اب خودکلامی کی حیثیت اختیار کرچکا ہے ۔ جب تک اپنی تحریریں سوشل میڈیا کے ذریعے لوگوں کی آنکھوں کے سامنے مختلف حیلوں بہانوں سے نہ گھمائی جائیں اور ایسا بار بار نا کیا جائے تو کوئی بھی ایک لفظ پڑھنے کا روادار نہیں ۔ لہذا کس کے لیے لکھیں اور کس سے داد اور تحسین چاہیں یا تنقید کی توقع رکھیں ؟ یہ ہی اب ٹی وی کا ہونے لگا ہے ۔ جب تک چھوٹے چھوٹے کلپ سوشل میڈیا پر نہ چسپاں کریں ہمارے فرمودات عالیہ کو کوئی لفٹ ہی نہیں ملتی !!! شاعر مشرق علامہ سر محمد اقبال نے ایک آدھ موٹر اور چھوٹے موٹے ہوائی جہاز کو دیکھ کر ہی کہہ دیا تھا جو کچھ وہ دیکھ رہے ہیں اسے بیان کرنے کے لیے انکے پاس الفاظ نہیں اور وہ محو حیرت ہیں کہ جانے دنیا کس طرف جارہی ہے ؟ یہ تقریباً  سو برس پہلے کے ایک پل کی بات ہے ۔ آج پتا نہیں بڑے حضرت کا کیا حال ہوتا ۔ اگر اس وقت ہی ٹک ٹک دیدم تھے تو آج تو واقع بے دم ہوچکے ہوتے ۔ اب چونکہ بات نکل ہی چکی ہے تو یہ بھی بتا تے چلیں واٹس ایپ، فیس بک اور فوری پیغام استعمال کرنے والے یہ نا بھولیں کہ ایک وقت امریکہ میں ہم پر یہ بھی گزرا ہے جب لاس اینجلس سے کراچی فون کال کرنے لیے ساڑھے تین ڈالر فی منٹ دینا پڑتے تھے جبکہ کم از کم اجرت ٹیکسوں  سے پہلے سوا تین ڈالر ہوتی تھی ۔ اس لیے سب دوست ایک ایک منٹ کی کال کرکے جی ٹی، اس وقت کی فون کمپنی، سے تمام کالوں (کالز) کا کریڈٹ لے لیا کرتے تھے، اور بڑے خوش ہوتے تھے کہ سسٹم کو کیسے مات دی!  پاکستانی بڑے جگڑیا!!!

  اب آگے کیا آنے والا ہے اس بارے میں میڈیا سے وابستہ لوگوں کو آنکھیں پھاڑ کے رکھنی چاہیئں ۔ اب تو لگتا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے تحت ہر شخص کے اندر ایک سم ڈالنے کا سلاٹ بنا دیا جائیگا (شائد اسکی بھی ضرورت نہ پڑے، موجودہ سلاٹوں سے بھی کام لیا جاسکتا ہے) جس میں آپ جس کمپنی کی چاہیں سم لگادیں اور اس طرح تمام خبریں اور معلومات آپکی پسند اور ترجیحات کے مطابق خود بخود آپکے دماغ میں اتر جائینگی ۔

بات کہیں اور نکل گئی مقصد عزیزم آفاق کو انکی کاربا ری ترمیم اور ٹرانزیشن پر اپنی نیک خواہشات کا اظہار کرنا تھا اور جلد ہی آنے والی مزید تبدیلیوں سے نبرد آزما ہونے کے لیے تیار ہونے کی ترغیب دینا تھا ۔

Check Also

آغا سراج درانی کا جسمانی ریمانڈ، یکم مارچ تک نیب کے حوالے

کراچی: پیپلز پارٹی کی مشکلات میں اضافہ،   احتساب عدالت نے آمدن سے زائد اثاثوں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے